Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

مالک و قادر ہے،   تمام تعریفیں   اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   جو مُردوں   کو زندگی دیتا ہے اور ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔

٭… اس کے بعد یہ دعا پڑھے:

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْاَلُكَ الرَّاحَۃَ بَعْدَ الْمَوْتِ،   وَالْعَفْوَعِنْدَ الْحِسَابِ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوذُبِكَ مِنْ غَضَبِكَ وَسُوْٓءِ عِقَابِكَ وَشَرِّ عِبَادِكَ وَشَرِّ الشَّیٰطِیْنِ وَشِرْكِہِمْ)  

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  سوال کرتا ہوں   موت کے بعد راحت کا اور حساب کے وقت عفو و درگزر کا ،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تیری پناہ مانگتا ہوں   تیرے غضب سے ،   تیری سخت سزا سے ،   تیرے بندوں   کے شر سے  اور شیاطین کے شر سے  اور ان کے شرک سے ۔

قرآنِ کریم حفظ کرنے کا نسخہ: 

٭… اس کے بعد قرآنِ کریم کی یہ آیاتِ مبارکہ پڑھے: سورۂ بقرہ کی پانچ ابتدائی اور تین آخری آیات،   آیت الکرسی اور اس کے بعد والی دو آیات۔ اس کے بعد یہ دو آیاتِ مبارکہ پڑھے:

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ (۱۶۳)  اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ ۪-وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (۱۶۴)   (پ۲،  البقرة:  ۱۶۳،   ۱۶۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں   مگر وہی بڑی رحمت والا۔ بیشک آسمانوں  اورزمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنااور کشتی کہ دریا میں   لوگوں   کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے  پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے  جِلادیا اور زمین میں   ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں   کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں   حکم کا باندھا ہے ان سب میں   عقلمندوں   کے لئے ضرور نشانیاں   ہیں  ۔

        منقول ہے کہ جو یہ آیاتِ مبارکہ سوتے وقت پڑھے اسے  قرآنِ کریم یاد ہو جاتا ہے اور کبھی نہیں   بھولتا۔

فرشتہ حفاظت کرتا ہے: 

٭… جو سورۂ بنی اسرائیل کی آخری دو آیات یعنی  (قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَؕ-)  سے  لے کر آخر تک پڑھنا نہ بھولے اور سورۂ اعراف کی یہ آیتِ مبارکہ  ( اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِالخ  (پ۸،  الاعراف:  ۵۴) )  بھی پڑھے اس پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو اسکی حفاظت کرتا ہے اور اسکے لئے مغفرت کی دعا کرتا رہتا ہے۔ ٭ سورۂ حدید کی ابتدائی پانچ آیات اور سورۂ حشر کی آخری تین آیات بھی پڑھے۔

٭… نیز چاروں قل یعنی  (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ ،  قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ،  قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ،   قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ) پڑھ کر اپنے ہاتھوں   پر پھونک مار کر انہیں   اپنے چہرے اور پورے جسم پر پھیر لے۔ جیسا کہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  قولاً اور فعلاً ثابت ہے۔

٭… سورۂ کہف کی پہلی اور آخری دس دس آیات پڑھنی چاہئیں  ،   یہ آیات رات کے نوافل کے لئے ہیں  ۔   ([1])

٭… سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سوتے وقت  (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ)  پڑھنے کا حکم دیا۔  ([2])

٭…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرمایا کرتے کہ میں   نہیں   سمجھتا کہ کسی شخص کی عقل کامل ہو اور وہ سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں    (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ سے  لے کر آخر تک )  پڑھے بغیر سو جائے۔  ([3])

فرشتوں   کی عبادت کا ثواب: 

٭…  سوتے وقت کی ایک دعا یہ بھی ہے:

 (اَللّٰہُمَّ اَیْقِظْنِیْ فِیْۤ اَحَبِّ السَّاعَاتِ اِلَیْكَ وَاسْتَعْمِلْنِیْ بِاَحَبِّ الْاَعْمَالِ لَدَیْكَ الَّتِیْ تُقَرِّبُنِیْۤ اِلَیْكَ زُلْفٰی وَتَبْعُدُنِیْ مِنْ سَخَطِكَ بُعْدًا،   اَسْاَلُكَ فَتُعْطِیْنِیْ وَاَسْتَغْفِرُكَ فَتَغْفِرَ لِیْ وَاَدْعُوْكَ فَتَسْتَجِیْبَ لِیْ،   اَللّٰہُمَّ لَا تُؤْمِنُنِیْ مَكْرَكَ وَلَا تَوَلِّنِیْ غَیْرَكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنِّیْ سِتْرَكَ وَلَا تُنْسِنِیْ ذِكْرَكَ وَلَا تَجْعَلْنِیْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ)    ([4])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے اپنی محبوب ساعتوں   میں   بیدار فرما اور ایسے  پسندیدہ اعمال کی توفیق دے جو مجھے تیرے قریب کر کے تیری ناراضی سے  انتہائی دور کر دیں  ،   میں   تجھ سے  سوال کرتا ہوں   پس تومجھے عطا فرما اور میں   تجھ سے  مغفرت طلب کرتا ہوں  پس مجھے بخش دے اور تجھ سے  دعا کرتا ہوں   میری دعا قبول فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اپنی خفیہ تدبیر سے  مجھے بے خوف نہ کرنا اور نہ ہی اپنے سوا کسی کو میرا والی بنانا،   نہ مجھ پر پڑے ہوئے پردے کو ہٹانا،   نہ ہی مجھے اپنا ذکر بھلانا اور نہ ہی مجھے غافلین میں   سے  کرنا۔

 



[1]     صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فصل سورة الکهف، الحديث: ۱۸۸۳، ۱۸۸۴، ص۸۰۵ مفهوماً

[2]     سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما يقول عند النوم، الحديث: ۵۰۵۵، ص۱۵۹۲ مفهوماً

[3]     اتحاف السادة المتقين، کتاب ترتيب الاوراد فی الاوقات، بيان اوراد الليل، ج۵، ص۴۷۸

[4]     اتحاف السادة المتقين، کتاب ترتيب الاوراد فی الاوقات، بيان اوراد الليل، ج۵، ص۴۷۸



Total Pages: 332

Go To