Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے  ایک شخص نے نمازِ وتر کے وقت کے متعلق پوچھا تو آپ خاموش رہے ،   اس کے بعد جب اذانِ فجر کے قریب تشریف لائے تو ارشاد فرمایا کہ وتر کے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں   ہے؟وہ جان لے کہ وتر کا سب سے  بہتر وقت یہی ہے۔  ([1])

ذکر اور دعا کا بہترین وقت: 

            حضرت سیِّدُنا عمرو بن عَنْبَسَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں  نے محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے کے سب سے  زیادہ قریب آدھی رات کے آخری حصے میں   ہوتا ہے،   اگر تو طاقت رکھے کہ تیرا شمار بھی اس وقت میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والوں   میں   ہو جائے تو ایسا ہی کیا کر۔ ‘‘    ([2])

            حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں  نے مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! رات کے کس حصے میں   نماز پڑھنا افضل ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ رات کے دوسرے نصف حصہ میں  ۔ ‘‘    ([3])

مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،   صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے  دریافت فرمایا کہ رات کے کس حصے میں   زیادہ دعائیں   سنی جاتی ہیں  ؟ تو انہوں  نے بتایا: ’’عرش سحری کے وقت حرکت کر رہا ہوتا ہے۔ ‘‘   ([4])

            مروی ہے کہ رات میں   ایک ساعت ایسی ہے جس میں   بندۂ مسلم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  خیر وبھلائی کا سوال کرے تو وہ ضرور عطا فرماتا ہے۔  ([5])   ایک روایت میں   ہے کہ اس ساعت میں   نماز پڑھتا ہے اور دعا مانگتا ہے تو وہ قبول کر لی جاتی ہے اور ایسا ہر رات ہوتا ہے۔  ([6])

            منقول ہے کہ رات میں   ایک ایسا وقت آتا ہے جس میں   ہر ذی روح کی آنکھ غافل یا سو جاتی ہے سوائے اس زندہ کے جسے  موت نہیں   ،   ہو سکتا ہے یہی وہ قبولیت کی ساعت ہو۔

            صاحب ِجُودو نوال،   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  اس ساعت کے متعلق مروی ہے کہ یہ وقت نصف رات گزر جانے کے بعد ہے اور ایک دوسری روایت میں   الفاظ کچھ یوں   ہیں   کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جائے تو جبار عَزَّ وَجَلَّ آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: ’’میرا بندہ میرے سوا کسی سے  کچھ نہیں   مانگتا،   ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں   اس کی توبہ قبول کروں  ،   ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں   اسے  بخش دوں  ،   ہے کوئی دعا کرنے والا کہ میں   اس کی دعا قبول کر لوں  ،   ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں   اسے  عطا کروں  ۔ ‘‘  ایسا فرماتا رہتا ہے یہاں   تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔  ([7])

            حضرت سیِّدُنا عمرو بن عَنْبَسہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی روایت میں   ہے کہ تجھ پر رات کے آخری حصے کی نماز لازم ہے،   کیونکہ یہ نماز مشہود و محضور ہے۔ یعنی اس وقت رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں  ۔

٭٭٭                          

فصل:  13

مسنون دعاؤں   کا بیان

دعائے صبح: 

            صبح سویرے بیدار ہو کر یہ دعا کرنی چاہئے:

 (اَصْبَحْنَا وَاَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰہِ،   وَالْعَظَمَۃُ لِلّٰہِ،   وَالسُّلْطَانُ لِلّٰہِ،   وَالْبَہَآءُ لِلّٰہِ،   وَالْقُدْرَۃُ لِلّٰہِ،   وَالْعِزَّۃُ لِلّٰہِ،   وَالتَّسْبِیْحُ لِلّٰہِ،   اَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ وَكَلِمَۃِ الْاِخْلَاصِ،   وَعَلٰی دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی مِلَّۃِ اَبِیْنَا اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا،   وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیانَا بَعْدَ مَاۤ اَمَاتَنَا،   وَاِلَیْہِ النُّشُورُ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْاَلُكَ اَنْ تَبْعَثَنَا فِی یَوْمِنَا ھٰذَا اِلٰی كُلِّ خَیْرٍ،   وَنَعُوْذُ بِكَ اَنْ نَجْتَرِحَ فِیْہِ سُوْٓءًا اَوْ نَجُرُّہٗ اِلٰی مُسْلِمٍ،   فَاِنَّكَ قُلْتَ:  (وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّىۚ)  اَللّٰہُمَّ فَالِقَ الْاِصْبَاحِ،   وَجَاعِلَ اللَّیْلِ سَكَنًا وَّالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ حُسْبَانًا،   اَسْاَلُكَ خَیْرَ ھٰذَا الْیَوْمِ وَخَیْرَ مَا فِیْہِ،   وَاَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ مَا فِیْہِ،   بِسْمِ اللّٰہِ مَا شَآءَ اللّٰہُ،   لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ،   كُلُّ نِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ،   مَا شَآءَ اللّٰہُ،   اَلْخَیْرُ كُلُّہُ بِیَدِ اللّٰہِ،   بِسْمِ اللّٰہِ،   لَا یَصْرِفُ السُّوْٓءَ اِلَّا اللّٰہُ،   رَضِیْتُ بِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ رَبًّا،   وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا،   وَّبِمُحَمَّدٍ نَّبِیا،   رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَیْكَ اَنَبْنَا وَاِلَیْكَ الْمَصِیْرُ)  

 تر جمعہ : ہم نے اور تمام ملک نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے صبح کی،   تمام عظمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے،   ہر سلطنت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے،   ہر قسم کی رونق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے،   تمام قدرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے،   تمام عزت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے،   ہر قسم کی تسبیح بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے،   ہم نے فطرتِ اسلام پر اور کلمۂ اخلاص پر ثابت قدم رہتے ہوئے اور حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دینِ حنیف پر صبح کی جو مشرکین میں   سے  نہ تھے۔ تمام تعریفیں   اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   جس نے ہمیں   موت کے بعد زندگی عطا



[1]     المرجع السابق، الحدیث: ۹۸۷، ص۲۵۸

[2]     سنن النسائی، کتاب مواقيت الصلاة، باب النهی عن الصلاة بعد العصر، الحديث:۵۷۳، ص۲۱۲۳

[3]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انصار، حديث ابی ذر الغفاری، الحديث: ۲۱۶۱، ج۸، ص۱۳۳

[4]     تفسير القرطبی، پ۳، ال عمران، تحت الاية ۱۷، ج۲، ص۳۰

[5]     صحيح مسلم، کتاب صلوة المسافرين، باب فی الليل ساعة، الحديث:۱۷۷۱، ص۷۹۷

[6]     تاريخ مدينة دمشق، الرقم۷۹۳۷ نوف بن فضالة، ج ۶۲، ص۵۰۳

[7]     المعجم الکبير، الحديث: ۴۵۵۸، ج۵، ص۵۱     مسند ابی يعلٰی، مسند ابی هريرة، الحدیث: ۵۹۱۰،۵۹۱۱، ج۵، ص۲۶۶

المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی هريرة، الحديث:۷۵۱۲، ج۳، ص۷۱



Total Pages: 332

Go To