Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

شبِ ہفتہ نمازکی فضیلت: 

        حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے کہ شہنشاہِ ابرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبو دار ہے کہ جس نے ہفتہ کی رات نمازِ مغرب اور عشا کے درمیان بارہ رکعتیں   ادا کیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جنت میں   ایک محل بنائے گا اور گویا اسنے ہر مومن مرد و عورت پر صدقہ کیا اور یہودی عورت  (کے شر)  سے  بری ہو گیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حق ہے کہ ا س کی مغفرت فرما دے۔

صَلٰوۃُ الْاَوَّابِیْن کی فضیلت:

            حضور نبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیاحِ اَفلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایک آزاد کردہ غلام سے  پوچھا گیا کہ کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرض نماز کے علاوہ بھی کسی نماز کا حکم دیا کرتے تھے؟ تو اسنے بتایا کہ مغرب اور عشا کے درمیان کی نماز کا۔ ([1])   اور حضرت سیِّدُنا محمد بن منکدر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ نبیوں   کے سلطان،   سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ راحت نشان ہے: ’’جس نے مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھی تو اس کی یہ نماز صَلٰوۃُ الْاَوَّابِیْن  (یعنی توبہ کرنے والوں   کی نماز)  ہو گی۔ ‘‘  ([2])

ساعتِ غفلت : 

            حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن اسود عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْصَمَد اپنے والدِ محترم سے  روایت کرتے ہیں   کہ میں   جب بھی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس ان اوقات میں   آ تا  تو انہیں   نماز پڑھتے ہوئے پاتا،   لہٰذا میں  نے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں  نے بتایا: یہ  (مغرب و عشا کا درمیانی وقت)  غفلت کی ساعت ہے۔ ([3])

            دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایک آزاد کردہ غلام سے  دریافت کیا گیا کہ مغرب و عشا کے درمیان جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر تشریف لاتے تو رضائے الٰہی کے لئے کیا کرتے تھے؟ تو اسنے بتایا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔

            حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ  مغرب و عشا کے درمیان نماز ادا کیا کرتے اور فرماتے کہ یہ نَاشِئَةَ الَّیْلِ  (یعنی شب بیداری کا آغاز)  ہے۔  ([4])

            حضرت سیِّدُنا ابان بن ابی عیاش رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ ایک عورتنے حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  نمازِ عشا سے  پہلے سو جانے کے متعلق پوچھا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یہ آیتِ کریمہ  (تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (پ۲۱،  السجدة:  ۱۶) )   ([5]) اسی وقت کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

            حضرت سیِّدُنا احمد بن ابی حواری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْبَارِی  فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانیِ سے  عرض کی: ”میں   دن کے اوقات میں   روزہ رکھوں   اور مغرب و عشا کے درمیان بیٹھ کر کھانا کھاتا رہوں   یہ آپ کو زیادہ پسند ہے یا دن کو روزہ نہ رکھوں   اور اس وقت نماز پڑھتا رہوں  ؟“ تو انہوں  نے فرمایا: ”اگر تم ان دونوں   باتوں   کو جمع کر لو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔“ میں  نے عرض کی کہ اگر میں   اس کی طاقت نہ رکھوں   توپھر کیا کروں  ؟ انہوں  نے فرمایا: ”تب پھر دن کے وقت بھلے روزہ نہ بھی رکھو،   مگر مغرب و عشا کے درمیان نماز ضرور پڑھا کرو۔“

سونے یا چاندی کے دو محل: 

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں   کہ میرے سرتاج،   صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ’’بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک نماز مغرب سب نمازوں   سے  زیادہ افضل ہے،   کیونکہ اسنے نہ تو اس نماز میں   کسی مسافر سے  کوئی کمی کی اور نہ ہی کسی مقیم سے ،   بلکہ اس نماز کے ذریعے رات کی نماز کا افتتاح فرمایا اور دن کی نماز کا اختتام فرمایا،   پس جو نمازِ مغرب ادا کرے اور اس کے بعد دو رکعت ادا کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جنت میں   دو محل بنائے گا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں   کہ مجھے یہ معلوم نہیں   کہ وہ سونے کے ہوں   گے یا چاندی کے اور جو نمازِ مغرب کے بعد چار رکعت ادا فرمائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بیس سال کے گناہ بخش دے گا یا پھر یہ ارشاد فرمایا کہ چالیس سال کے گناہ بخش دے گا۔ ‘‘   ([6])

ایک سال کی عبادت کا ثواب: 

            حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے کہ مدینے کے تاجدار،   شہنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ تقرب نشان ہے: ’’جو نمازِ مغرب کے بعد چھ رکعت ادا کرے تو وہ اس کے لئے ایک سال کی عبادت کے برابر ہوں   گی۔ ‘‘  یا پھر یہ ارشاد فرمایا:  ’’گویا اسنے شبِ قدر میں  نماز ادا کی۔ ‘‘   ([7])

مغرب و عشا کے درمیان اعتکاف کا ثواب: 

        حضرت سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے  مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت،   پیکرِ عظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  ’’ جو مغرب و



[1]     الزهدلابن مبارک، باب استعنت بالله، الحديث:۱۲۵۸، ص۴۴۴

[2]     جمع الجوامع، قسم الاقوال، حرف الميم، الحديث: ۲۰۸۴۴، ج۷، ص۴۷

[3]     المصنف لابن ابی شيبة، کتاب صلاة التطوع، باب فی الصلاة بين المغرب و العشاء، الحديث:۱، ج۲، ص۱۰۲

[4]     الزهدلابن مبارک، باب استعنت بالله، الحديث: ۱۲۶۳، ص۴۴۶

[5]     ترجمۂ کنز الایمان: ان کی کروٹیں  جدا ہوتی ہیں  خوابگاہوں  سے۔

[6]     تفسير القرطبی، البقرة، تحت الاية۲۳۸، ج۲، ص۱۵۹

[7]     سنن ابنِ ماجه، کتاب اقامة الصلوات، باب ما جاء فی الصلاةبين المغرب و العشاء، الحديث: ۱۳۷۴، ص۲۵۵۸ دون قوله او کانه   الخ



Total Pages: 332

Go To