Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد نہ پڑھنے کی صورت: 

            جو شخص مسجد میں   تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد ادا کئے بغیر بیٹھے اسے  چاہئے کہ یہ کلمات چار مرتبہ پڑھ لیا کرے:

 (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ)  کیونکہ یہ کلمات فضیلت میں   دو رکعتوں   کے برابر ہیں  ۔  ([1])

            اسی طرح جو مسجد میں   بے وضو داخل ہو یا مسجد میں   سے  گزرے تو وہ بھی مذکورہ کلمات چار مرتبہ پڑھ لیا کرے اور جو مسجد میں   داخل ہو تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ دو رکعت ادا نہ کر لے اور  (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   مجھے کسی کا بے وُضو مسجد میں   داخل ہونا اور بیٹھنا ناپسند ہے۔

٭ ٭ ٭

٭تین پیسے  کا وبال٭

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ سنّت ‘‘  صَفْحَہ 900 پرشیخِ طریقت،   امیراہلسنّت،   بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: میرے آقا اعلیٰ حضرت،   امام اہلسنّت،   مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے  قرضے کی ادائیگی میں سستی اور جھوٹے حِیَل  (حِ۔یَ۔لْ)  و حجت کرنے والے شخص زید کے بارے میں اِستفسار ہوا تو  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’زید فاسق وفاجر،   مرتکب کبائر،   کذاب،   مستحق عذاب ہے،   اس سے  زیادہ اور کیا القاب اپنے لئے چاہتاہے! اگراس حالت میں مرگیا اور دَین  (قرض)  لوگوں کا اس پر باقی رہا،   اس کی نیکیاں ان  (قرض خواہوں)  کے مطالبہ میں دی جائیں گی ۔ کیونکردی جائیں گی  (یعنی کس طرح دی جائیں گی۔یہ بھی سن لیجئے!)  تقریباً  ’’تین پیسہ ‘‘  دَین  (قرض)  کے عِوَض  (یعنی بدلے)  سات سونمازیں باجماعت  (دینی پڑیں گی)  ۔ جب اس  (قرض دبالینے والے)  کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی اُن  (قرض خواہوں)  کے گناہ اِس  (مقروض)  کے سرپررکھے جائیں گے اورآ گ میں پھینک دیاجائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ،  ج۲۵،  ص۶۹،  ملخصًا)  

فصل: 10

زوالِ شمس اور سایہ کی کمی بیشی کا بیان

            اس فصل ([2]) میں   سورج کے زوال،   سایہ کی کمی و بیشی اور موسمِ سرما و گرما میں   اس کے مختلف ہونے کا بیان ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے متعلق اپنی قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا ہے:

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّۚ-وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًاۚ-ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ (۴۵)   (پ۱۹،  الفرقان:  ۴۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے محبوب کیا تمنے اپنے ربّ کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا یاسایہ اور اگرچاہتا تواسے  ٹھہرایا ہوا کر دیتا پھرہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا۔

        ایک جگہ ارشاد فرمایا:

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَؕ- (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں   بنایا تو رات کی نشانی مِٹی ہوئی رکھی اور دن کی نشانی دکھانے والی کی کہ اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو اور برسوں   کی گنتی اور حساب جانو۔

            اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا:  

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ (۵)  (پ۲۷،  الرحمٰن:  ۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: سورج اور چاند حساب سے  ہیں  ۔

            حضرت سیِّدُنا ابو درداء اور حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  اس امت کے اوصاف کے متعلق مروی ہے کہ وہ نماز قائم کرنے کی خاطر سایوں   کا خیال رکھیں   گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے  زیادہ محبوب بندے وہ ہوں گے جو ذکر کرنے کے لئے سورج،   چاند اور سایوں کا خیال رکھیں گے۔  ([3])

نمازوں   کے اوقات: 

            نمازوں   کے اوقات میں   سے  ایک وقت وہ ہے جب سورج زوال سے  کچھ دیر قبل سر کے اوپر ٹھہر جاتا ہے،   اس کے بعد جب تھوڑی سی مقدار بھی ڈھلنا شروع کرتا ہے تو ظہر کا ابتدائی وقت شروع ہو جاتا ہے اور پھر جب ہر شے کا سایہ زوال کے بعد سات قدموں   سے  زیادہ ہو جاتا ہے تو وہ عصر کی ابتدا اور ظہر کی انتہا کا وقت ہوتا ہے۔ چنانچہ، 

            مروی ہے کہ سورج جب ایک تسمہ کی مقدار ڈھل جائے تو وہ ظہر کا وقت ہے یہاں   تک کہ ہر شے کا سایہ اس کی مثل ہو جائے ،   پس یہ وقت ظہر کے ختم ہونے اور عصر کے شروع ہونے کا ہے۔ ([4])

 



[1]     صحيح مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب تحية المسجد، الحديث: ۱۶۵۴، ص۷۹۰ مفهوماً

[2]     یہ فصل صاحبِ قوت حضرت سیِّدُنا شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کے علم ہیئت و توقیت میں  کمال پر دلالت کرتی ہے، چونکہ یہ فصل خالص علمی ابحاث پر مشتمل ہے، اس لیے عوام الناس کی معلومات کے لیے صرف اس فصل کے مفید اور چیدہ چیدہ مقامات کا ہی تر جمعہ کیا گیا ہے، اہلِ علم حضرات اصل کتاب کی عربی عبارات کتاب ہذا کے آخر میں  ملاحظہ فرما سکتے ہیں ۔

[3]     السنن الکبریٰ للبيهقی، کتاب الصلاة، باب مراعاة ادلة المواقيت، الحدیث: ۱۷۸۲، ج۱، ص۵۵۸

[4]     مسائل احمد بن حنبل، کتاب الصلاة، باب المواقيت، الحدیث: ۱۸۰، ص۵۲



Total Pages: 332

Go To