Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہلاک کر دیتے ہیں  ۔ ‘‘   ([1])  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب،   حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قول کی تصدیق میں   ارشاد فرمایا:

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ (۴)  (پ۳۰،  الليل:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  تمہاری کوشش مختلف ہے ۔

            اسی قسم کا مفہوم اس فرمانِ عالیشان میں   بھی ہے:

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ (۳۸)  اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ (۳۹)  (پ۲۹،  المدثر: ۳۸،   ۳۹ )

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہر جان اپنی کرنی میں   گروی ہے ۔ مگر دہنی طرف والے۔

            رسولِ اکرم،   شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے:  ’’ میرے اس دن میں   کوئی برکت نہیں   جس دن مَیں   خیر وبھلائی کے امور میں   زیادتی نہ کروں  ۔ ‘‘    ([2])

            ایک روایت میں   تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس کے دو دن ایک جیسے  ہوں   تو وہ دھوکا کھایا ہوا شخص ہے اور جس کا آج گزشتہ دن سے  برا ہو تو وہ محروم ہے۔“   ([3])

            اس کے بعد رات کے پانچ اوراد و وظائف شروع ہو جائیں   گے،   لہٰذا اب اے بندۂ خدا! دن کے اوقات میں   اگر کوئی وظیفہ رہ گیا ہے تو رات کے اوقات میں   ادا کر لے۔

            حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ سرورِ ذیشان،   محبوبِ رحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   ہر موٹے بہت زیادہ کھانے والے،   مغرور بخیل،   بازاروں   میں   شور کرنے والے،   رات کے مردار  (یعنی عبادت نہ کرنے والے) ،   دن کے گدھے  (یعنی گدھے کی طرح دنیا میں   لگے رہنے والے) ،   امورِ دنیا سے  باخبر اور امورِ آخرت سے  بے خبر بندے کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘    ([4])

٭٭٭

فصل: 8

رات کے معمولات

            رات میں   کل پانچ وظائف ہیں  ۔

رات کا پہلا وظیفہ: 

            رات کے پہلے وظیفے اور عمل کی ابتدا نمازِ مغرب کے بعد چھ رکعت ادا کرنے سے  ہوتی ہے۔ مستحب یہ ہے کہ ان کی ادائیگی سے  قبل کسی سے  بات نہ کی جائے۔ پہلی دو رکعتوں   میں    (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ (۱) )  اور  (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) )  پڑھے اور نمازِ مغرب کے بعد کسی سے  بات کرنے اور کسی دوسرے کام میں   مشغول ہونے سے  قبل ان دو رکعتوں   کی ادائیگی میں   جلدی کرے۔

نمازِ مغرب کی دو سنتوں   میں   جلدی کرنا: 

            سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ خوشبودار ہے: ’’مغرب کے بعد دو رکعتوں   کی ادائیگی میں   جلدی کیا کرو،   اس لئے کہ یہ دو بھی نمازِ مغرب کے ساتھ ہی بلند ہوتی ہیں  ۔ ‘‘   ([5])

مغرب کی سنتیں   گھر میں   ادا کرنا: 

            اگر کسی کا گھر قریب ہو تو اس میں   کوئی حرج نہیں   کہ وہ ان دو رکعتوں   کو گھر میں   ادا کرے اور بقیہ چار رکعت طویل پڑھے۔ البتہ! حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَوّل فرماتے ہیں  :  ’’مستحب ہے کہ بندہ یہ دورکعت گھر میں   ادا کرے ۔ ‘‘  وہ خود بھی ایسا ہی کیا کرتے اور ارشاد فرماتے کہ یہ سنت ہے۔ ([6])

            مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دو رکعت مسجد کے ایک طرف واقع اپنے کاشانۂ اَقدس  (یعنی گھر)  میں   ادا فرمایا کرتے تھے۔ نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ رکعتیں   مسجد میں   بھی ادا فرمائی ہیں۔

شفق ثانی سے  مراد: 

 



[1]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند جابر بن عبداللہ، الحديث: ۱۴۴۴۸، ج۵، ص۶۴ مفهوماً

[2]     نوادر الاصول للحکيم، الاصل الثامن و الخمسون، فی اخلاق المعرفة، ج۴، ص۶ خيراً بدله علماً

[3]     الفردوس بماثور الخطاب، الحديث: ۵۹۱۰، ج۳، ص۶۱۱

[4]     السنن الکبری للبيهقی، کتاب الشهادات، باب مکارم الاخلاق، الحديث: ۲۰۸۰۴، ج۱۰، ص۳۲۷

[5]     مشکاة المصابيح، کتاب الصلاة، باب السنن وفضلها، الحديث: ۱۱۸۵، ج۱، ص ۲۳۴

[6]     سنن النسائی، کتاب الامامة، باب الصلاة بعد الظهر، الحديث: ۸۷۴، ص۲۱۴۳



Total Pages: 332

Go To