Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے:  ’’ نمازِ چاشت کا وقت وہ ہے جب اونٹنی کے بچوں   کے پاؤں   جلنے لگیں  ۔ ‘‘  ([1])

            ایک بار سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے پاس تشریف لائے تو وہ نمازِ اشراق اداکر رہے تھے،   پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بلند آواز سے  ارشاد فرمایا: ’’خبردار! نمازِ اَوَّابین  (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں   ہر وقت توبہ کرنے والوں   کی نماز)  کا وقت وہ ہے جب اونٹنی کے بچوں   کے پاؤں   جلنے لگیں  ‘‘([2])

دن کا تیسرا وظیفہ: 

            نمازِ چاشت کے بعد بندے کو چاہئے کہ یہ کام کرنے کی کوشش کرے:

٭ مستحب کاموں   میں   یا ٭مباح روزی کمانے میں   لگ جائے اور سچائی کے ساتھ تجارت کرے٭ یا خلوص کے ساتھ کسی صنعت کاری میں   مصروف ہو جائے بشرطیکہ اسے  اس کی ضرورت ہو اور اتنا ہی کمائے جتنا اسے  کافی ہو ٭اور سب سے  کم تر کام یہ ہے کہ وہ خاموش رہے ٭یا سو جائے کہ ان دونوں   میں   گناہوں   سے  اور لوگوں   سے  میل جول سے  محافظت پائی جاتی ہے۔  

فتنہ کے زمانے میں   نیند کی فضیلت: 

            مروی ہے کہ لوگوں   پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں   افضل ترین علم خاموشی اور افضل ترین عمل نیند ہو گا۔

            کچھ لوگ ایسے  بھی ہیں   جن کے لئے سو جانا ہی سب سے  بہتر ہے اور کاش کہ بندہ حالتِ بیداری میں   بھی سونے والے کی طرح ہو جائے کیونکہ نیند میں   بندہ گناہوں   سے  محفوظ رہتا ہے جبکہ حالتِ بیداری میں   معاصی سے  محفوظ رہنا ایک مشکل امر ہے اور فضیلت صرف انہی صاحبِ فضل لوگوں   کا حق ہے جو گناہوں   سے  محفوظ و مامون ہونے اور احسان اور فضل و کرم کے باعث عدل کرنے میں   دوسروں   سے  بڑھ جاتے ہیں  ۔ اس کا سبب کلام میں   غلطیاں   شامل ہونا،   احوال میں   آفات کا پایا جانا اور اعمال کا اخلاص سے  خالی ہونا ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   ان لوگوں   کو پسند فرماتا ہے جو فارغ ہوں   تو سلامتی حاصل کرنے کے لئے سو جائیں  ۔  ([3])

            بعض لوگوں   کا سونا ہی سب سے  بہتر کام ہوتا ہے اور کاش کہ بندے کی حالت بیداری میں   بھی نیند جیسی ہو جائے کیونکہ وہ نیند میں   گناہوں   سے  محفوظ رہتا ہے۔ اس حالت میں   اس کا سب سے  افضل عمل بھی یہی ہے  (یعنی گناہوں   سے  محفوظ رہنا)   اور فضیلت کا حق بھی صرف انہی صاحبِ فضل لوگوں   کو ہے جن کا مقام و مرتبہ گناہوں   سے  محفوظ و سالم رہنے اور احسان و کرم کا حق ادا کرنے سے  مزید زیادہ ہو جاتا ہے۔ پس اگر کوئی بندہ اس وقت سو جائے تو یہ قیلولہ کرنے والے شخص کی سی نیند ہو گی اور اس وقت یعنی چاشت سے  لے کر زوالِ شمس تک روزی کمانے کے اسباب پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ پس یہ دن کا تیسرا عمل ہے۔

دن کا چوتھا وظیفہ: 

            ہمیشہ نمازِ ظہر کا وقت شروع ہونے سے  پہلے وضو کر لیا کرے۔ اگر دن کے اوقات میں   اس وقت تک اس دن کی روزی وغیرہ بقدرِ ضرورت حاصل کر چکا ہو تو بازار چھوڑ دے اور گھر چلا جائے یا پھر اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کے گھر  (یعنی مسجد میں  ) بیٹھ جائے اور آخرت کا زادِ راہ تیار کرنے کی خاطر عبادت میں   مشغول ہو جائے۔ سلف صالحین کا یہی طریقہرہا ہے۔ منقول ہے مومن صرف تین جگہوں   میں   پایا جانا چاہئے:  (۱) ایسی مسجد میں   جسے  آباد کر رہاہو  (۲) ایسے  گھر میں   جو اسے  پردہ مہیا کرنے والا ہو  (۳)  کسی ایسے  کام اور ضرورت میں   مگن ہو جسکے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔  ([4])

زوال کے بعد چار رکعتی نماز: 

            زوال  (یعنی نمازِ ظہر کا وقت شروع ہونے)  کے بعد آسمان کے دروازے نمازیوں   اور ذاکرین کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں   اور مومنین کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ یہ دن کا چوتھا وظیفہ ہے۔ لہٰذا زوال کے بعد چار رکعت نماز ادا کرے جن میں   سورۂ بقرہ یا دو سو آیتوں   والی دو سورتیں   یا پھر مثانی  ([5])  میں   سے  چار سورتیں   پڑھے۔ ان میں   طویل قِراءَ ت کرے اور بڑی خوبی سے  ادا کرے اور دن کے اوقات میں   ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھی جانے والی چار رکعتی نماز کی طرح اس نماز کو بھی ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کرے۔

            اس وظیفہ کا وقت وہی دوپہر ہے کہ جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی حمد کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے: 

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ (۱۸)  (پ۲۱،  الروم:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں   اور زمین میں   اور کچھ دن رہے اور جب تمہیں   دوپہر ہو۔

 



[1]     مسند ابی عوانة، باب الترغيب فی الصلاة     الخ، الحديث:۲۱۳۳، ص۱۳ الضحی بدله الاوابين

[2]     المعجم الکبير، الحدیث: ۵۱۱۳، ج۵، ص۲۰۷ دون قوله فنادی باعلٰی صوته

[3]     عوارف المعارف، الباب الخمسون، ص۲۳۰

[4]     مسند ابی الجعد، احباء ابی الخطاب     الخ، الحديث: ۱۰۵۱، ص۱۶۳

[5]     مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان ’’مِراٰۃُ المَنَاجیح‘‘ جلد 3 صفحہ 288 پر فرماتے ہیں  کہ قرآنِ کریم کی تقسیم یوں  ہےکہ اوّل قرآن کا نام مثانی ہے اس کے بعد مِئَین ، پھر تواں  یا توابع پھر مفصّل، سورہ حجرات سے آخر قرآن کا نام مفصل ہے، مثانی سورت فاتحہ کا نام بھی ہے اور سارے قرآن کریم کا بھی اور اس کی اگلی سات سورتوں  کا بھی ۔



Total Pages: 332

Go To