Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ  (پ۷،  الانعام:  ۵۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور دور نہ کرو انہیں   جو اپنے رب کو پکارتے ہیں   صبح اور شام۔

            یعنی وہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کے طالب ہیں  ۔

علم کی فضیلت: 

                                                سیِّدعالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ رحمت نشان ہے :  ’’جو شخص اپنے گھر سے  علم حاصل کرنے کی نیت سے  نکلے تو واپس لوٹنے تک وہ راہِ خدا میں   ہوتا ہے۔ ‘‘   ([1])

            حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’ عالم بنو یا اس سے  علم حاصل کرنے والا بنویا اس کی بات سننے والا بنو اور چوتھا مت بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ ‘‘  ([2])

فرشتے پر بچھا دیتے ہیں  : 

                سرکارِ والا تَبار،   شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ خوشبودار ہے:  ’’جو شخص گھر سے  علم حاصل کرنےکے لئے نکلے واپس لوٹنے تک راہِ خدا میں   ہوتا ہے اور جو اپنے گھر سے  علم کی جستجو میں   نکلتا ہے فرشتے اُس کے اِس فعل سے  راضی ہو کر اُس کے پاؤں   تلے اپنے پَر بچھا دیتے ہیں   اور زمین کے چوپائے،   آسمان کے فرشتے،   ہوا کے پرندے اور پانی کی مچھلیاں   سب اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں  ۔ ‘‘   ([3])

 مجلسِ علم کی فضیلت: 

            حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ایک روایت میں   ہے کہ علم کی مجلس میں   حاضر ہونا ہزار رکعت نَفْل پڑھنے،   ہزار جنازوں   میں   شرکت کرنے اور ہزار مریضوں   کی عیادت کرنے سے  بہتر ہے۔ عرض کی گئی:  ’’اور کیا قرآنِ کریم کی تلاوت سے  بھی افضل ہے؟ ‘‘  تو ارشاد فرمایا:  ’’کیا قرآنِ کریم کا بغیر علم کے پڑھنا بھی فائدہ دے سکتا ہے؟ ‘‘   ([4])

            پس اگر ان دونوں   صورتوں   میں   سے  کوئی ایک بھی نہ پائی جائے تو بندے کا مذکورہ ذکرو فکر کی صورتوں   میں   سے  کسی صورت پر عمل کرتے ہوئے اپنے مصلے پر ہی بیٹھے رہنا یا ایسی مسجد میں   جہاں   باجماعت نماز پڑھی ہو یا اپنے گھر میں   یا کسی خلوت گاہ میں   بیٹھ جانا سب سے  زیادہ بہتر ہے۔ چنانچہ،   

            شہنشاہِ مدینہ،   صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  ’’نمازِ فجر سے  لے کر طلوعِ آفتاب تک مسجد میں   ہی بیٹھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر کرتے رہنا مجھے چار غلام آزاد کرنے سے  زیادہ محبوب ہے۔‘‘([5])

            حُسنِ اَخلاق کے پیکر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے متعلق مروی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب نمازِ فجر ادا فرما لیتے تو نماز کی جگہ پر ہی تشریف فرما رہتے یہاں   تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔ ([6])

            ایک روایت میں   ہے کہ  (اس کے بعد)  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو رکعت نماز ادا فرمایا کرتے۔ ([7])

            پس یہ مستحب ہے اور نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک بیٹھے رہنے اور پھر دو رکعت نماز ادا کرنے کی بہت بڑی فضیلت مروی ہے ،   ہم نے یہاں   اختصار سے  کام لیا ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ رحمتِ عالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی رحمت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کرتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے:  ’’اے ابنِ آدم! نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد کی ساعتوں   میں   میرا ذکر کیا کر،   میں   ان دونوں   اوقات میں   تیرے لئے کافی ہوں   گا۔ ‘‘   ([8])

دن کا دوسرا وظیفہ:

            جب سورج بلند ہو کر خوب روشن ہو جائے تو نمازِ چاشت کی آٹھ رکعت ادا کرنا چاہئے اور یہی وہ وقت ہے جس کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس آیتِ مبارکہ میں   فرمایا ہے:

یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ (۱۸)  (پ۲۳،  صٓ:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تسبیح کرتے شام کو اور سورج چمکتے ۔

طلوعِ آفتاب کے بعد افضل امور: 

 



[1]     جامع الترمذی، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، الحديث: ۲۶۴۷، ص۱۹۱۸ بدون من بيته و غدا بدله خرج

[2]     سنن الدارمی، المقدمة، باب فی ذهاب العلم، الحديث: ۲۴۸، ج۱، ص۹۱

[3]     جامع الترمذی، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، الحديث: ۲۶۴۷، ص۱۹۱۸ بدون من بيته

سنن ابن ماجه، کتاب السنة، باب فضل العلماء و الحث علی طلب العلم، الحديث: ۲۲۳، ۲۲۶، ص ۲۴۹۱ مفهوماًو بتغير و بدون الطير الهواء

[4]     اتحاف السادة المتقين، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم     الخ، ج۱، ص۱۵۰

[5]     سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فی القصص، الحديث: ۳۶۶۷، ص۱۴۹۵ المسند للامام احمد بن حنبل، حديث رجل من اصحاب بدر، الحديث: ۱۵۸۹۹، ص۳۸۶

[6]     صحيح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل الجلوس فی مصلاه بعد الصبح و فضل المساجد، الحديث: ۱۵۲۶، ص۷۸۲

[7]     جامع الترمذی، ابواب السفر، باب ما ذکر ما يستحب من      الخ، الحديث: ۵۸۶، ص۱۷۰۳

[8]     حلية الاولياء، الرقم ۴۰۱ محمد بن صبيح، الحدیث: ۱۱۹۸۹، ج۸، ص۲۳۳



Total Pages: 332

Go To