Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

جائے اور پھر فکر خوفِ الٰہی میں   داخل کر دے۔ یادرکھئے کہ ذکر قوی ہو کر مشاہدہ بن جاتا ہے۔ چنانچہ ذکر کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اولاً یہ ارشاد فرمایا:

الَّذِیْنَ  یَذْكُرُوْنَ  اللّٰهَ  قِیٰمًا  وَّ  قُعُوْدًا  وَّ  عَلٰى  جُنُوْبِهِمْ   (پ۴،   اٰل عمران:  ۱۹۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں   کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے۔

            اس کے بعد فرمایا: 

وَ  یَتَفَكَّرُوْنَ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِۚ- (پ۴،   اٰل عمران:  ۱۹۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور آسمانوں   اور زمین کی پیدائش میں   غور کرتے ہیں  ۔

            اور پھر ارشاد فرمایا: 

رَبَّنَا  مَا  خَلَقْتَ  هٰذَا  بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ  فَقِنَا  عَذَابَ  النَّارِ (۱۹۱)  (پ۴،   اٰل عمران:  ۱۹۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ربّ ہمارے تونے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں   دوزخ کے عذاب سے  بچا لے۔

لیکن مشاہدہ یقین کے بغیر حاصل نہیں   ہوتا اور یقین ایمان کی روح،   اس کی زیادتی اور مومن کے کمال کا نام ہے۔

لمحہ بھر غوروفکر کا ثواب: 

            تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’لمحہ بھر کا غورو فکر سال بھر کی عبادت سے  بہتر ہے۔ ‘‘   ([1])

تفکر سے  مراد: 

            بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے مذکورہ حدیثِ پاک کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہاں   ایسا تفکر مراد ہے جو بندے کو ناپسندیدگی سے  نکال کر پسندیدگی کی جانب اور رغبت و حرص سے  نکال کر قناعت و زہد کی جانب لے جائے اور ایک قول کے مطابق ایسا تفکر مراد ہے جس کا اظہار مشاہدہ اور تقویٰ کے ذریعے ہو اور زبان پر ذکر اور ہدایت بن کر جاری ہو۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے متعلق تین مختلف مقامات پر ارشاد فرمایا ہے:

 (۱) وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (۶۳)  (پ۱،  البقرة:  ۶۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں   پرہیزگاری ملے ۔

 (۲) لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا (۱۱۳)  (پ۱۶،  طه:  ۱۱۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کہ کہیں   انہیں   ڈر ہو یا ان کے دل میں   کچھ سوچ پیدا کرے ۔

 (۳) یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ (۲۱۹)  فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ- (پ۲،  البقرة:  ۲۱۹،   ۲۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ تم سے  آیتیں   بیان فرماتا ہے کہ کہیں   تم دنیا اور آخرت کے کام سوچ کر کرو ۔

            یعنی وہ دنیا و آخرت میں   باقی رہنے والے اعمال بجا لائیں   اور ہمیشہ رہنے والے اعمال کی ادائیگی میں   رغبت رکھیں   اورفانی اعمال کی بجا آوری سے  کنارہ کش رہیں  ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے البیان  (یعنی قرآنِ کریم)  کے ذریعے ہمیں   جو تعلیم دی ہے وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس کا شکر ادا کریں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے: 

یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (۸۹)  (پ۷،  المائدة:  ۸۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ تم سے  اپنی آیتیں   بیان فرماتا ہے کہ کہیں   تم احسان مانو ۔

            اور ایک جگہ ارشادفرمایا:

وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (۶۳)  (پ۱،  البقرة:  ۶۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں   پرہیزگاری ملے ۔

            اور اس کے بعد اسنے اپنے دشمنوں   کے اوصاف اس طرح بیان فرمائے: 

الَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ (پ۱۶،  الکهف:  ۱۰۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جن کی آنکھوں   پر میری یاد سے  پردہ پڑا تھا۔

سیدنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور فکر آخرت:

            حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا   فرماتی ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ کی سب سے  بڑی عبادت تفکر تھی۔  ([2])

            حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ  فرمایا کرتے تھے کہ روزانہ تین سو درہم راہِ خدا میں   خرچ کرنے سے  ملنے والی راحت مجھے آخرت کے معاملہ میں   تفکر سے  زیادہ خوش نہیں   



[1]     کتاب العظمة لابی الشيخ، باب ما ذکر من الفضل فی المتفکر فی ذلک، الحديث: ۴۴ / ۲، ص۳۳  عبادة سنة بدله عبادة ستين سنة

[2]     کتاب العظمة لابي الشيخ، باب ما ذکر من الفضل فی المتفکر فی ذلک، الحديث: ۴۷ / ۵،  ص۳۴



Total Pages: 332

Go To