Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اس سے  مراد وہ عبادات  (طہارت،   نماز،   زکوٰۃ،   حج اور جہاد وغیرہ)  یا احکام  (حدود،   نکاح و طلاق،   خرید وفروخت وغیرہ) ہیں   جن کا تعلق فقط انسان کے ظاہری عمل سے  ہے۔ چنانچہ،   

طہارت یعنی وضو کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِؕ- (پ ۶،   المآئدۃ: ۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں   تک ہاتھ اور سروں   کا مسح کرو اور گٹوں   تک پاؤں   دھوؤ۔

پانی کی عدم دستیابی پر تیمم کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُؕ- (پ ۶،   المآئدۃ: ۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں   ہو یا تم میں   کوئی قضائے حاجت سے  آیا یا تمنے عورتوں   سے  صحبت کی

اور ان صورتوں  میں   پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے  تیمّم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں   کا اس سے  مسح کرو۔

 (2)   باطنی تعلق : 

اس سے  مراد وہ عبادات یا احکام ہیں   جن کا تعلق فقط انسان کے باطن یعنی دل سے  ہے۔ جیسے  ایمان،   تصدیق،   یقین،   صدق،   اخلاص،   معرفت باری تعالیٰ،   توکل،   محبت،   رضا،   ذکر،   شکر،   انابت  (رُجُوع اِلَی اللہ) ،   خشیت،   تقویٰ،   مراقبہ،   خوف ورجا اور صبر و قناعت وغیرہ۔ چنانچہ،   توکل کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-  (پ ۵،   النسآء:  ۸۱)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اے محبوب تم ان سے  چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسا رکھو۔

اور ایک مقام پر خشیت  (ڈر،   خوف)  کے متعلق ارشاد فرمایا:

اَلْیَوْمَ یَىٕسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِؕ-  (پ ۶،   المآئدۃ:  ۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: آج تمہارے دین کی طرف سے  کافروں   کی آس ٹوٹ گئی تو اُن سے  نہ ڈرو اور مجھ سے  ڈرو۔

 (3)   ظاہری و باطنی تعلق : 

اس سے  مراد وہ عبادات یا احکام ہیں   جن کا تعلق انسان کے ظاہر سے  بھی ہے اور باطن سے  بھی۔ چنانچہ،   

فرمانِ باری تعالیٰ ہے: 

وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ  (پ ۵،   النسآء:  ۱۴۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جب نماز کو کھڑے ہوں   تو ہارے جی سے  لوگوں   کا دکھاوا کرتے ہیں  ۔

پس اس آیتِ مبارکہ میں   منافقین کی نماز کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ نماز کی ادائیگی میں   سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں   اور باطن کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان کی یہ نماز حقیقی نہیں   بلکہ دکھاوے و ریاکاری کی علامت ہے۔

یہی آئین قدرت ہے،   یہی اسلوبِ فطرت ہے

جو ہے راہِ عمل میں   گام زن،   محبوبِ فطرت ہے

علم قال و علم حال: 

علم قال سے  مراد ظاہری علوم یعنی علم حدیث و فقہ وغیرہ ہیں   اور علم حال سے  مراد علم باطن یعنی علم معرفت ِ باری تعالیٰ ہے مگر علم قال ہو یا علم حال،   ان تمام علوم کا منبع و سرچشمہ معلم کائنات،   فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی ہیں  ،   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے یہ تمام علوم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  سیکھ کر بعد والوں   کو سکھائے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ جسکی تائید کئی روایات و آثار اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے اقوال سے  ہوتی ہے۔ چنانچہ،   اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے جب ایمان والوں   کو اپنی سب سے  بڑی نعمت عطا فرمائی یعنی ان میں   اپنے محبوب سیّدِ عالم،   خاتَم الانبیا،   محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مبعوث فرمایا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سب سے  پہلے انہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب قرآنِ مجید،   فرقانِ حمید کی آیات پڑھ پڑھ کر سُنائیں   حالانکہ اُن کے کان اس سے  پہلے کلامِ حق اور آسمانی وحی سے  آشنا نہ تھے۔ پھر ان کا تزکیۂ نفس فرمایا یعنی ان کے نفوس و ارواح کو کُفرو ضلالت اور ارتکاب ِمحرمات و معاصی،   ناپسندیدہ خصائل اور گھٹیا خصائص سے  پاک کر کے حجاب اٹھا دئیے اور انہیں   اس قابل بنا دیا کہ ان کے دل کے آئینے میں   حقائق و معارف کی جلوہ گری ہو سکے۔ اس کے بعد انہیں   احکاماتِ الٰہیہ کی ایسی تفصیل بیان فرمائی جس کی روشنی میں   وہ منشائے ایزدی کے مطابق ان احکامات پر عمل کرنے لگے اور اس طرح نہ صرف ان کے نفس کی قوتِ عملیہ اور علمیہ دونوں   کی تکمیل ہوئی بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   علم اسرار و حکمت کی دولت سے  بھی خوب نوازا جس کے نتیجے میں   وہ لوگ جو حق و باطِل اور نیک و بدمیں   امتیاز نہ رکھتے تھے اور جہل و نابینائی میں   مبتلا تھے فرشتہ سیرت بن گئے،   جنہیں   کوئی اپنا غلام بنانا بھی پسند نہ کرتا تھا اچانک آئین جہانبانی میں   دنیا بھر کے استاذ بن گئے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّ



Total Pages: 332

Go To