Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ : اے وہ ہستی جسے  کسی ایک کا سننا دوسرے کو سننے سے  غافل نہیں   کرتا اور نہ ہی جس پر آوازیں   مشتبہ ہوتی ہیں  ! اے وہ بابرکت ذات کہ جس پر سوالات خلط ملط نہیں   ہوتے اور نہ ہی زبانوں   کا اختلاف اس پر اثر انداز ہوتا ہے! اے آہ و زاری کرنے والوں   کی آہ و زاری سے  نہ اکتانے والے! مجھے اپنے عفو و درگزر کی ٹھنڈک اور اپنی رحمت کی حلاوت عطا فرما۔

تسبیحاتِ ابی الْمُعْتَمر

            یہ تسبیحات حضرت سَیِّدُنا ابو مُعْتَمِر سلیمان تَیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  مروی ہیں  ،   جن کی فضیلت کے متعلق مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بلادِ روم میں   شہید ہونے والے ایک شخص کو خواب میں   دیکھ کر پوچھا: ’’تونے وہاں    (جنت میں  )  سب سے  بہتر کس عمل کو پایا ہے؟ ‘‘  تو اس نے جواب دیا:  ’’تسبیحاتِ ابومُعْتَمِر کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   بڑا مقام و مرتبہ ہے۔  ‘‘  

            حضرت سیِّدُنا مُعْتَمِر بن سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں   کہ میں  نے عبدالملک بن خالد کو مرنے کے بعد خواب میں   دیکھا تو پوچھا: ’’تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ‘‘  اسنے بتایا کہ بہت اچھا۔ میں  نے کہا: ’’ہمیں   تو  گناہگار کے حق میں   سزا کا خطرہ تھا۔ ‘‘  تو بولا:  ’’تسبیحاتِ ابو مُعْتَمِر سے  محبت کرو،   کیونکہ وہ بہت ہی اچھی ہیں  ۔ ‘‘ 

            تسبیحات حضرت سیِّدُنا ابو مُعْتَمِر یہ ہیں  :

 (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ،   عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ وَعَدَدَ مَا ھُوَ خَالِقٌ،   وَزِنَۃَ مَا خَلَقَ وَزِنَۃَ مَا ھُوَ خَالِقٌ،   وَمِلْءَ مَا خَلَقَ وَمِلْءَ مَا ھُوَ خَالِقٌ،   وَمِلْءَ سَمٰوَاتِہٖ وَمِلْءَ اَرْضِہٖ،   وَمِثْلَ ذٰلِكَ وَاَضْعَافَ ذٰلِكَ،   وَعَدَدَ خَلْقِہٖ،   وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ،   وَمُنْتَہٰی رَحْمَتِہٖ،   وَمِدَادَ كَلِمَاتِہٖ،   وَمَبْلَغَ عِلْمِہٖ وَرِضَاہٖ،   وَحَتّٰی یَرْضٰی وَاِذَا رَضِیَ،   وَعَدَدَ مَا ذَكَرَہُ بِہٖ خَلْقُہُ فِیْ جَمِیْعِ مَا مَضٰی وَعَدَدَ مَا ھُمْ ذَاكِرُوْہُ فِیْمَا بَقِیَ فِی كُلِّ سَنَۃٍ وَّشَہْرٍ وَّجُمُعَۃٍ وَّیَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ وَّسَاعَۃٍ مِّنَ السَّاعَاتِ وَنَسْمَۃٍ وَّشَمٍّ وَّنَفْسٍ وَّلَمْحَۃٍ وَّطَرْفَۃٍ،   مِنَ الْاَبَدِ اِلَی الْاَبَدِ،   اَبَدِ الدُّنْیا وَاَبَدِ الْاٰخِرَۃِ،   وَاَكْثَرُ مِنْ ذٰلِكَ،   لَا یَنْقَطِعُ اَوَّلُہُ وَلَا یَنْفَدُ اٰخِرُہٗ)  ([1])

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے٭اور تمام تعریفیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   ٭اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   ٭اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سب سے  بڑا ہے ٭اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت ہے نہ برائی سے  بچنے کی قوت۔ ٭ (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تسبیح و تحمید ہو)  اسنے جو مخلوق پیدا کی اور جو پیدا کرے گا سب کی تعداد کے برابر ٭اور اس کی وہ مخلوق جو اس نے پیدا کی اور جو پیدا کرے گا اس کے وزن کے برابر ٭اور جو اسنے پیدا کیا اور جو پیدا کرے گا اس کے بھرنے کے برابر  ٭ اور آسمانوں   کے اور زمینوں   کے بھرنے کی مقدار اور ان کی مثل مزید٭بلکہ اس سے  کئی گنا زیادہ ٭ اور اس کی مخلوق کی تعداد اور اس کے عرش کے وزن کے برابر ٭ اور اس کی رحمت کی انتہا اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ٭ اور اس کے علم و رضا کی حد کے برابر ٭ اور یہاں   تک کہ وہ راضی ہو جائے  ٭ اور جب وہ راضی ہو جائے اس کے برابر ٭ ماضی میں   اس کی مخلوقنے جس قدر اس کا ذکر کیا اور آئندہ زمانہ میں   جو کرے گی اس کے برابر ٭ ہر سال میں  ،   ہر مہینے،   ہر جمعہ،   ہر دن،   ہر رات اور ہر گھڑی میں   سب گھڑیوں   سے  اور ہر ذات،   ہر سونگھنے میں   اور ہر سانس میں   اور ہر لمحہ اور پلک جھپکنے میں  ،   ابتدائے زمانہ سے  لے کر آخر زمانہ تک،   دنیا کی ابتدا سے  لے کر آخرت کی ہمیشگی تک اور اس سے  بھی بڑھ کر،   نہ تو اس کی ابتدا منقطع ہو اور نہ ہی اس کی انتہا کا اختتام ہو۔

دعائے توبہ و حاجت: 

            ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جب حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی توبہ قبول کرنے کا ارادہ فرمایا تو انہیں   بیتُ اللہ شریف کے طواف کے سا ت چکروں   کی توفیق عطا کی،   اس وقت وہاں   کوئی عمارت نہ تھی بلکہ سرخ رنگ کا ایک ٹیلا تھا۔ طواف کے بعد انہوں  نے دو رکعت نماز ادا کی اور یہ دعا مانگی:

 (اَللّٰہُمَّ اِنَّكَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ فَاقْبِلْ مَعْذِرَتِیْ،   وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاعْطِنِی سُؤْلِیْ،   وَتَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ ذُنُوبِیْ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ اِیْمَانًا یُّبَاشِرُ قَلْبِیْ وَیَقِیْنًا صَادِقًا حَتّٰی اَعْلَمَ اِنَّہُ لَا یُصِیْبُنِیْۤ اِلَّا مَا كَتَبْتَ لِیْ وَالرِّضَا بِمَا قَسَمْتَ لِیْ یا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ)

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! بیشک تو میرا ظاہر وباطن جانتا ہے پس میری معذرت قبول فرما اور تو میری حاجت وضرورت بھی جانتا ہے پس میرا سوال پورا فرما دے اور تو وہ بھی جانتا ہے جو میرے دل میں   ہے پس میری لغزشوں   کو معاف فرما دے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! بیشک میں   تجھ سے  ایسا ایمان مانگتا ہوں   جو میرے دل میں   گھر کر جائے اور ایسے  یقین کا سوال کرتا ہوں   جو سچا ہو یہاں   تک کہ مجھے یہ یقین ہو جائے کہ کوئی مصیبت مجھے نہیں   پہنچ سکتی بجز اس کے جو تونے میری تقدیر میں   لکھی ہوئی ہے اور میں   تجھ سے  تیری اس رضا کا سوال کرتا ہوں   جو تونے میری قسمت میں   لکھ دی ہے،   اے عظمت و بزرگی والے!

            اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی طرف وحی فرمائی:  ’’میں  نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ہے اور تمہاری اولاد میں   سے  جو تمہاری طرح ان الفاظ سے  مجھ سے  دعا کرے گا میں   اس کی بھی مغفرت فرما دوں   گا،   اس کی تکالیف دور کر کے اس کی آنے والی محتاجی دور کر دوں   گا اور اسے  ہر تاجر سے  زیادہ نفع دوں   گا،   دنیا اس کے پاس ناک رگڑتی ہوئی آئے گی اگرچہ وہ اس کا خواہش مند نہ ہو۔ ‘‘   ([2])

اسمِ اعظم: 

            مناسب اور بہتر یہ ہے کہ اس کے بعد ذیل کی دعا بھی پڑھ لی جائے کیونکہ اس میں   وہ تمام اسمائے حسنیٰ موجود ہیں   جن کے متعلق مروی ہے کہ وہ اسمِ اعظم ہیں  : 

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ بِاَنَّ الْحَمْدَ لَكَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّاۤ اَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ،   اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ،   یا حَیُّ یا قَیُّوْمُ )   ([3])   یاحَیُّ! حِیْنَ



[1]     موسوعة لابن ابی الدنيا،کتاب المنامات،باب ما روی من الشعر فی المنام، الحديث:۱۸۰، ۱۸۱، ۱۸۲، ج۳، ص۱۰۲

[2]     تاريخ مدينة دمشق، الرقم۵۷۸  ادم نبی اللّٰه، ج۷، ص۴۳۱

[3]     سنن ابی داود، کتاب الوتر، باب الدعاء، الحديث:١۱۴۹۳،۱۴۹۵، ص۱۳۳۳

                                                الترغيب والترهيب للمنذری، کتاب الذکر و الدعاء، باب الترغيب فی کلمات     الخ، الحديث:۴،ج ۲، ص۳۱۸



Total Pages: 332

Go To