Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں  نے ایک شخص کو دیکھا،   اسے  دیکھ کر میری گھبراہٹ اور زیادہ ہو گئی اور جب میں  نے اس کی آواز سنی تو اسے  قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے پایا،   پھر اس شخص نے مجھ سے  کہا: ’’کیا میں   تمہیں   ایسی دعا نہ بتاؤں   کہ جب تم خوف محسوس کرو تو تمہاری گھبراہٹ جاتی رہے جب راستہ سے  بھٹک جاؤ تو راستہ پا لو اور جب بے خوابی کا شکار ہو تو نیند آ جائے۔ ‘‘  میں  نے عرض کی: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کے حال پر رحم فرمائے مجھے ضرور ایسی دعا سکھائیے۔ ‘‘  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس نیک بندےنے کہا: ’’یہ دعا پڑھا کرو:

 (بِسْمِ اللّٰہِ ذِی الشَّانِ عَظِیْمِ الْبُرْھَانِ شَدِیْدِ السُّلْطَانِ کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ،   لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ)   ([1])

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے  شروع جو شان والا،   عظیم برہان والا،   شدید سلطنت والا ہے،   جسے  ہر دن ایک کام ہے،   اس بزرگ و برتر ذات کی مدد کے علاوہ نہ تو نیکی کرنے کی کوئی قوت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی کوئی طاقت۔

دنیا و آخرت کی خیر وبھلائی پانے کے دس کلمات: 

            حضرت سَیِّدُنا یعقوب بن عبدالرحمن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت محمد بن حسان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’ کیا میں   تمہیں   دس ایسے  کلمات نہ سکھاؤں   کہ جن میں   سے  پانچ دنیا اور پانچ آخرت کے لئے ہیں  ،   جو بھی ان کلمات سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   دعا کرتا ہے انعاماتِ باری تعالیٰ پاتا ہے۔ ‘‘  میں  نے عرض کی کہ انہیں   تحریر فرما دیں   تو انہوں  نے ارشاد فرمایا:  ’’نہیں  ! میں   تحریر نہیں   کروں   گا بلکہ میں   بھی اسی طرح بار بار تمہیں   پڑھ کر سناؤں   گا جیسا کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن حُبَیْش رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھے سنائے تھے۔ ‘‘  وہ کلمات یہ ہیں  :

 (٭حَسْبِیَ اللّٰہُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی لِدِیْنِیْ،   حَسْبِیَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِدُنْیایَ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ الْكَرِیْمُ لِمَا اَھَمَّنِیْ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ الْحَكِیْمُ الْقَوِیُّ لِمَنْ بَغٰی عَلَیَّ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ الشَّدِیْدُ لِمَنْ كَادَنِیْ بِسُوْٓءٍ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ الرَّحِیْمُ عِنْدَ الْمَوْتِ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ الرَّؤُوْفُ عِنْدَ الْمَسْئَلَۃِ فِی الْقَبْرِ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ الْكَرِیْمُ عِنْدَ الْحِسَابِ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ اللَّطِیْفُ عِنْدَ الْمِیْزَانِ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ الْقَدِیْرُ عِنْدَ الصِّرَاطِ ٭حَسْبِیَ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ)   ([2])

تر جمعہ : مجھے میرے دین کے معاملے میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   مجھے میری دنیا کے معاملات میں   بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   جن باتوں  نے مجھے غم زدہ کر دیا ہے ان میں   بھی مجھے کریم اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   مجھ پر سرکشی اختیار کرنے والے کے معاملہ میں   بھی مجھے حکمت و قوت والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   جو مجھے دھوکا و فریب دینا چاہے اس کے معاملہ میں   بھی مجھے شدت و طاقت والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   موت کے وقت بھی مجھے رحم فرمانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   قبر میں   سوال جواب کے وقت بھی مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے جو کہ رَءوف ہے،   حساب کے وقت بھی مجھے کرم فرمانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   میزان کے پاس بھی مجھے لطف و کرم فرمانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   پل صراط سے  گزرتے وقت بھی مجھے قدرت والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے،   جس کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   اسی پر میں  نے بھروسا کیا ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

            اور اس کے بعد یوں   دعا کرے:

 (اَللّٰہُمَّ یا ھَاِدیَ الْمُضِلِّیْنَ وَرَاحِمَ الْمُذْنِبِیْنَ وَمُقِیْلَ عَثَرَاتِ الْعَاثِرِیْنَ اِرْحَمْ عَبْدَكَ ذَا الْخَطَرِ الْعَظِیْمِ الْمُسْلِمِیْنَ كُلِّہِمْ اَجْمَعِیْنَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الْاَحْیآءِ الْمَرْزُوْقِیْنَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ اٰمِیْنَ۔ یا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ!)

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اے گمراہوں   کو ہدایت دینے والے! اور اے گناہگاروں   پر رحم فرمانے والے! اے خطاکاروں   کی خطائیں   معاف فرمانے والے! اے عظیم قدرو منزلت کے مالک! اپنے  (اس)  بندے اور تمام مسلمانوں   پر رحم فرما اور ہمیں   ان رزق دیئے گئے زندوں   میں   سے  بنا دے جن پر تونے انعام فرمایا یعنی نبیوں  ،   صدیقوں  ،   شہیدوں   اور نیک لوگوں   میں   سے ۔ آمین! یا ربّ العالمین!         منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عتبہ غلام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں   دیکھا گیا تو انہوں  نے  (دخولِ جنت کا سبب پوچھنے پر)  بتایا کہ میں   انہی دعاؤں   کی برکت سے  جنت میں   داخل ہوا ہوں  ۔  ([3])   

مذکورہ دعا کے بعد یہ دعا مانگے:

 (اَللّٰہُمَّ عالم الْخَفِیاتِ،   رَفِیْعَ الدَّرَجَاتِ،   ذَا الْعَرْشِ،   تُلْقَی الرُّوْ حُ مِنْ اَمْرِكَ عَلٰی مَنْ تَشَآءُ مِنْ عِبَادِكَ،   غَافِرَ الذَّنْبِ وَقَابِلَ التَّوْبِ،   شَدِیْدَ الْعِقَابِ،   ذَا الطَّوْلِ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّاۤ اَنْتَ،   اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ)   ([4])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اے مخفی و پوشیدہ اشیاء کو جاننے والے! اے درجات کو بلند کرنے والے! اے عرش کے مالک! روح تیرے حکم سے  تیری منشا و مرضی کے مطابق تیرے بندوں   میں   ڈالی جاتی ہے،   اے گناہ معاف کرنے والے! اور اے توبہ قبول فرمانے والی ذاتِ بابرکات! اے سخت عذاب کے مالک! تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ،   تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا ابراہیم صائغ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کسینے خواب میں   دیکھ کر پوچھا: ’’ آپ کو کس شے کے سبب نجات ملی؟ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بتایا کہ یہی مذکورہ دعائیں   میری نجات کا سبب ہیں  ۔

دعائے مولامشکل کشا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم: 

            منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَامنے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو یہ دعا سکھائی،   الفاظ یہ ہیں  :

 (یامَنْ لَّا یُشْغِلُہُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ وَّلَا تَشْتَبِہُ عَلَیْہِ الْاَصْوَاتُ،  یا مَنْ لَّا تُغَلِّطُہُ الْمَسَآ ئِلُ وَلَا تَخْتَلِفُ عَلَیْہِ اللُّغَاتُ،   یا مَنْ لَّا یَتَبَرَّمُ بِـاِلْحَاحِ الْمُلِحِّیْنَ،   اَذِقْنِیْ بَرْدَ عَفْوِكَ وَحَلَاوَۃَ رَحْمَتِكَ)   ([5])

 



[1]     موسوعة لابن ابی الدنيا، کتاب الهواتف، باب هواتف الدعاء، الحدیث: ۶۴، ج۲، ص۴۶۹

[2]     نوادر الاصول للحکيم، الاصل الخامس والسبعون و المائة، باب فی سر الکلمات    الخ، ج۲، ص۲۷۴ بتغير قليل

[3]     حلية الاولياء، الرقم  ۳۶۷ عتبة الغلام، الحديث:۸۵۱۶، ج۶، ص۲۵۶

[4]     شعب الايمان للبيهقی، باب فی تعظيم القران، فصل فی فضائل السورة، الحديث:۲۴۸۱،  ج۲، ص۸۶۴

[5]     المجالسة وجواهر العلم، الحديث:۱۰۳، ج۱، ص۶۱ بدون بعض الالفاظ



Total Pages: 332

Go To