Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

باری تعالیٰ کی صفتِ قیومی کا مشاہدہ کرتی رہیں   کہ اسی ذاتِ برحق کی نظرِ کرم سے  بندہ مامون و محفوظ رہتا ہے اور اسی کی شفقت و مہربانی سے  مرتبۂ ولایت پاتا ہے،   پس بندہ اس کی رحمت کی طرف ہمیشہ دیکھتا رہتا ہے تا کہ اس کی حفاظت و پناہ میں   رہے اور اس کی نگاہوں   میں   کجی پیدا نہ ہو،   نہ وہ سرکش ہو اور نہ ہی نفسانی خواہش اسے  بارگاہِ ذُو الجلال سے  دور کرے۔

            پس سنت ِ فجر کے بعد یہ دعا مانگنی چاہئے لیکن اس سے  پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  سراپا رَحمت،   شافِعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی آل پر درود بھیجنے کا سوال کر لیا جائے تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے  ردّ نہ کر دے۔ چنانچہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  کسی حاجت کا سوال کرو تو سب سے  پہلے مجھ پر درودِ پاک پڑھ لیا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   حد درجہ کریم ہے اور یہ نہیں   ہو سکتا کہ اس سے  دو حاجتوں   کا سوال کیا جائے اور وہ ایک عطا فرمائے اور دوسری ردّ کر دے۔ ‘‘   ([1])

رات بھر قیام کرنے سے  افضل:

            اس کے بعد نمازِ فجر باجماعت ادا کرے تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ حفاظت میں   رہے،   چنانچہ ایک روایت میں   مَخْزنِ جودوسخاوت،   پیکرِ عظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  ’’نمازِ فجر باجماعت ادا کرنا رات بھر قیام کرنے سے  افضل ہے اور نمازِ عشا باجماعت آدھی رات کے قیام سے  افضل ہے۔ ‘‘   ([2])

            چاہئے کہ دل و دماغ کی یکسوئی ومکمل بیداری اور حسنِ توجہ سے  نماز میں   کھڑا ہو اور قرآنِ مجید میں   غورو فکر کرے اور اسے  ترتیل سے  یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور قرآنِ کریم کے مقصود کو سمجھے۔

            جب سلام پھیر لے تو مسنون اذکار پڑھے۔  (جن کا تذکرہ اگلی فصل میں   ہو رہا ہے)

٭ ٭ ٭

فصل: 4

نمازِ فجر کے بعد کے وظائف

احادیث مبارکہ میں   مذکور مستحب اذکار: 

            احادیث ِ و آثار مبارکہ سے  ثابت ہے کہ نمازِ فجر کا سلام پھیرنے کے بعد دَرج ذیل اذکار پڑھنا مستحب ہے: 

             (۱)  (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ۔اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ،   وَ مِنْكَ السَّلَامُ،   وَ اِلَیْكَ یَعُوْدُ السَّلَامُ،   فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ وَ اَدْخِلْنَا دَارَ السَّلَامِ تَبَارَكْتَ یا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ)

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور ان کی آل پر درود بھیج۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو ہی سلام ہے اور تیری طرف سے  ہی سلامتی آتی ہے اور تیری ہی جانب سلامتی لوٹتی ہے،   پس اے ہمارے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   سلامتی کی زندگی عطا فرما اور سلامتی کے گھر میں   داخل فرما،   تو بڑی برکت والا ہے اے عظمت و بزرگی والے!

             (۲) … اس کے بعد تین بار یہ کلمات کہے:  (سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ)

                                                 تر جمعہ : عظمتوں   والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے اور اسی کی حمد ہے۔

             (۳) … پھر تین بار استغفار پڑھے اور  (۴) … اس کے بعد یہ دعا مانگے: 

 (اَللّٰھُمَّ لَا مَانِــعَ لِمَاۤ  اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ)   ([3])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! جس کو تو عطا فرمائے کوئی روکنے والا نہیں   اور جس کو تو عطا نہ فرمائے اسے  کوئی دے نہیں   سکتا اور تیری بارگاہ میں   مالدار کو مالداری کام نہ آئے گی۔ 

             (۵) … اس کے بعد حالتِ تشہد میں   بیٹھ کر دس مرتبہ یہ پڑھے:  (لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ،   لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ،   یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ،   بِیَدِہِ الْخَیْرُ كُلُّہٗ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ )   ([4])

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   وہ یکتا و تنہا ہے کوئی اس کا شریک نہیں  ،   اسی کی بادشاہی ہے اور اس کے لئے ہی تمام تعریفیں   ہیں  ،   وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور خود زندہ ہے،   اسے  کبھی موت نہ آئے گی،   اسی کے قبضۂ اختیار میں   ہر قسم کی خیر و بھلائی ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔

(۶) … اس کے بعد اسی حالت میں   بیٹھا رہے اور دس بار سورۂ اخلاص پڑھے۔

 (۷) … اور پھر دس مرتبہ یہ کہے:  (اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،   رَبِّ اَعُوْذُبِكَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیاطِیْنِ وَ اَعُوْذُبِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ)   ([5])

 تر جمعہ : سننے اور جاننے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی میں   پناہ مانگتا ہوں   شیطان مردود سے ۔ اے میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تیری پناہ طلب کرتا ہوں   شیطانوں   کے وسوسوں   سے  اور میں   تیری پناہ طلب کرتا ہوں   میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ ! اس بات سے  کہ وہ میرے پاس آئیں  ۔

             (۸) … اس کے بعد تین مرتبہ یہ آیاتِ مبارکہ پڑھے:  ([6])

 



[1]     اتحاف السادة المتقين، کتاب الاذکار و الدعوات، الباب الثانی، ج۵، ص۲۵۶

[2]     صحيح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاة العشاء     الخ، الحديث: ۱۴۹۱،ص۷۷۹ بتغير قليل

[3]     صحيح البخاری، کتاب الاداب، باب الذکر بعد الصلاة، الحديث:۸۴۴، ص۶۷

[4]     المسند للامام احمد بن حنبل، حديث عبد الرحمن بن غنم، الحديث:۱۸۰۱۲، ج۶، ص۲۸۹

[5]     الدر المنثور، پ۳۰، الاخلاص، ج۸، ص۶۸۱

[6]     المعجم الکبير، الحديث: ۵۱۲۴، ج۵، ص۲۱۱



Total Pages: 332

Go To