Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

٭ باطنی صفات کے معانی و مفاہیم پر دلالت کرنے والے افعال کا اظہار

٭ توجہ اور عدمِ توجہ،   قرب و بعد،   کمی و زیادتی،   ثواب و عذاب اور اختبا و اختیار پر دلالت کرنے والے معانی و مفاہیم کا ظہور۔

            البتہ! ہم نے ان تمام معانی و مفاہیم کا تذکرہ مختلف فصلوں   اور بابوں   میں   کر دیا ہے اور ایسی بنیادی باتیں   تحریر کی ہیں   جو ان کی فروع سے  آگاہ کرتی ہیں  ۔ جو بھی ان میں   غورو فکر کرے گا اور ان کا تذکرہ کرنا چاہے گا اسے  معلوم ہو جائے گا اور وہ ان سے  اپنا مقررہ حصہ پا لے گا۔

            ہمارے ایک عالم فرماتے ہیں  : میں   خوب جانتا ہوں   کہ متقدمین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے پاس 70 علوم تھے جن کے بارے میں   وہ نہ صرف ایک دوسرے سے  گفتگو فرمایا کرتے بلکہ ایک دوسرے سے  سیکھتے بھی تھے مگر آج ان میں   سے  ایک بھی ایسا علم باقی نہیں   بچا جسے  سیکھا جاتا ہو۔

            مزید فرماتے ہیں   کہ میں   اپنے زمانے کے بیشتر علوم کے بارے میں   جانتا ہوں   کہ ان میں   کثیر باطل اور مکر وفریب پر مشتمل ہیں  ،   اگرچہ انہیں   علم کہا جانے لگا ہے مگر ماضی میں   انہیں   کوئی نہیں   جانتا تھا۔ ان علوم کی مثال اس پانی کی طرح ہے جس کے اوصاف اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس آیتِ مبارکہ میں   بیان کئے ہیں  :

یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا (پ۱۸،  النور:  ۳۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پیاسا اسے  پانی سمجھے یہاں   تک جب اس کے پاس آیا تو اسے  کچھ نہ پایا۔

            حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی فرمایا کرتے تھے: ’’جس علم کی باتیں   ہم کرتے ہیں   اس کی بساط تو 20 سال ہوئے لپیٹی جا چکی ہے اور ہم تو صرف اس کے حواشی کے بارے میں   باتیں   کرتے ہیں  ۔  ([1])         

آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ میں   سالوں   تک ایسے  لوگوں   کے ساتھ بیٹھتا رہا جو ایک دوسرے سے  ایسے  علوم کی باتیں   کرتے جو مجھے سمجھ نہ آتیں   اور نہ ہی میں   یہ جان پاتا کہ وہ کیا ہیں  ،   مگر میں  نے کبھی بھی ان کا انکار نہیں   کیا۔ بلکہ انہیں   بغیر سمجھے مانا اور ان سے  محبت رکھی۔

            آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مزید فرمایا کرتے کہ پرانے وقتوں   میں   ہم اپنے دوستوں   کے ایسے  علوم کے بارے میں   مناظرہ کیا کرتے تھے جو اس وقت معروف تھے مگر کسینے بھی مجھ سے  ان کے بارے میں   کبھی کوئی سوال نہیں   کیا۔ مگر یہ ایسا دروازہ ہے جو بند ہو چکا ہے۔

            جب شیخ ابو سعید بن اعرابی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے ’’طَبَقَاتُ النُّسَّاك ‘‘  نامی کتاب لکھی اور بیان کیا کہ سب سے  پہلے اس علم کے متعلق کسنے گفتگو کی اور اس کا اظہار کیا۔ پھر اس کے بعد بصرہ،   شام اور خراسان کے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا تذکرہ کیا اور آخر میں   بغداد کے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا ذکرِ خیر کیا۔

            ایک دوسرے بزرگ فرماتے ہیں   کہ اس بارے میں   جن بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے کلام کیا ان میں   ہمارے شیخ حضرت سیِّدُنا جنید قواریری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی بھی ہیں  ،   آپ اس علم میں   گہری بصیرت رکھتے تھے،   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کلام حقیقت اور حسنِ تعبیر سے  بھرپور ہوتا۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بعد اس قسم کی مجالس میں   صرف غیظ و غضب ہی باقی رہ گیا ہے۔ اور ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ حضرت سیِّدُنا جنید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بعد ایسے  لوگ باقی رہ گئے ہیں   جن کا ذکر بھی باعثِ حیا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشاد فرمایا کرتے کہ  300؁ ھ کے بعد کسی کے لئے جائز نہیں   کہ اس علم کے بارے میں   گفتگو کرے کیونکہ اس سے  ایسے  لوگوں   کا گروہ پیدا ہو سکتا ہے جو مخلوق کے سامنے تصنع اور بناوٹ کا اظہار کرے گا اور بڑی خوبصورت باتیں   کرے گا تا کہ ان کے وِجدان لباس بن جائیں  ،   ان کے زیورات باتیں   ہوں   اور معبود پیٹ ہو۔

            حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  جب عرض کی جاتی کہ سب سے  سخت فتنہ کون سا ہو گا تو ارشاد فرماتے تجھ پر خیر و شر پیش کئے جائیں   مگر تو کثرتِ شبہات کی وجہ سے  یہ نہ جانتا ہو کہ کسے  اختیار کرے۔   ([2])   جیسا کہ حضرت سیِّدُنا سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ  300؁ ھ کے بعد کسی کی توبہ صحیح نہیں   اس لئے کہ ان کا کھانا ان کی توبہ توڑ دے گا اور وہ کھانے سے  دور نہیں   رہ سکتے۔ یعنی توبہ کی پہلی شرط حلال کھانا ہے۔

            مروی ہے کہ لوگوں   پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں   وہ گمراہ ہو جائیں   گے اور انہیں   معلوم تک نہ ہو گا،   صبح کے وقت ایک شخص ایک دین پر ہو گا تو شام کے وقت دوسرے دین پر ہو گا اور وہ یقین کے نہ ہونے کی بنا پر گمراہ ہو گا۔ زمانے کے اکثر لوگوں   کی عقلیں   چھین لی جائیں   گی۔ سب سے  پہلے ان سے  خشوع ختم ہو گا،   پھر دعا کی قبولیت اور اس کے بعد تقویٰ و پرہیزگاری ۔ منقول ہے کہ سب سے  پہلے لوگوں   میں   الفت و محبت ختم ہو گی۔  ([3])   

٭…تمّت…٭

٭…سنت کی بہاریں …٭

 



[1]    ۔ الرسالۃ القشیریۃ، باب التوحید، ص۳۳۲ مفھوما

 

[2]    ۔ المصنف لابنِ ابی شیبۃ، کتاب الفتن، باب ما ذکر فی فتنۃ الرجال، الحدیث: ۱۱۵، ج۸، ص۶۶۶ تأخذ بدلہ تتبع ،بدون لکثرۃ الشبھات

[3]    ۔ الادب المفرد للبخاری، باب الالفۃ، الحدیث: ۲۶۵، ص۸۹

 



Total Pages: 332

Go To