Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ (۵۳)  (پ۳،   ال عمران:  ۵۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے رب ہمارے ہم اس پر ایمان لائے جو تونے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں   حق پر گواہی دینے والوں   میں   لکھ لے۔

پس کبھی کبھار ان آیاتِ مبارکہ کی بھی سنت ِ فجر میں   قِراء َت کرنی چاہئے۔

سنت فجر کے بعد کے معمولات:

٭ سنت ِ فجر کے بعد 70 مرتبہ یہ استغفار پڑھیں  :

 (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَسْاَلُہُ التَّوْبَۃَ)  

تر جمعہ : میں   اس عظمت والے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے  مغفرت طلب کرتا ہوں   جس کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   وہ زندہ ہے،   قائم رکھنے والا ہے اور میں   اس کی بارگاہ میں   توبہ کا سوال بھی کرتا ہوں  ۔

٭ اس کے بعد ان چار مختصر اور جامع کلمات کو 100مرتبہ پڑھیں  ،   یہ کلمات قرآن سے  ثابت ہیں   اگرچہ اس انداز سے  موجود نہیں  : ) سُبْحَانَ اللّٰہِ  وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَ  کْبَرُ (تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے،   تمام تعریفیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لائق ہیں  ،   اسکے سوا کوئی معبود نہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے  بڑا ہے۔

٭ اس کے بعد ایک مرتبہ (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ وَ تَبَارَكَ اللّٰہ)  پڑھیں   اور یہ دعا مانگیں   کیونکہ ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فجر کی سنتوں   کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  : ’’مجھے  (میرے والد ماجد)  حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہنے شہنشاہِ خوش خِصال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ بابرکت میں   بھیجا،   میں   شام کے وقت حاضرِ خدمت ہوا جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری خالہ ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تشریف فرما تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صلوٰۃُ اللیل ادا فرمائی اور جب نمازِ فجر سے  قبل دو رکعت سنتیں   ادا کیں   تو یہ دعا مانگی: 

 (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِكَ تَہْدِی بِہَا قَلْبِیْ،   وَتَجْمَعُ بِہَا شَمْلِیْ،   وَتَلُمُّ بِہَا شَعَثِیْ،   وَتَرُدُّ بِہَا اُلْفَتِیْ،   وَتُصْلِحُ بِہَا عَلَانِیَتِیْ،   وَتَقْضِیْ بِھَا دَیْنِیْ،   وَتَحْفَظُ بِہَا غَآئِبِیْ،   وَتَرْفَعُ بِہَا شَاھِدِیْ،   وَتُزَكِّیْ بِہَا عَمَلِیْ،   وَتَبْیَضُّ بِھَا وَجْھِیْ،   وَتُلْقِنِیْ بِہَا رُشْدِیْ،   وَتَعْصِمُنِیْ بِہَا مِنْ كُلِّ سُوْءٍ۔ اَللّٰہُمَّ اَعْطِنِیْۤ اِیْمَانًا صَادِقًا وَّیَقِیْنًا لَّیْسَ بَعْدَہٗ كُفْرٌ،   وَرَحْمَۃً اَنَالُ بِہَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِی الدُّنْیا وَالْاٰخِرَۃِ۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ الْفَوْزَ عِنْدَ الْقَضَآءِ،   وَمَنَازِلَ الشُّہَدَآءِ،   وَعَیْشَ السُّعَدَآءِ،   وَمُرَافَقَۃَ الْاَنْبِیآءِ،   وَالنَّصْرَ عَلَی الْاَعْدَآءِِ۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِیْ وَاِنْ قَصُرَ رَاْیِیْ،   وَضَعُفَ عَمَلِیْ،   وَافْتَقَرْتُ اِلٰی رَحْمَتِكَ،   فَاَسْئَلُكَ یا قَاضِیَ الْاُمُورِ وَیا شَافِیَ الصُّدُورِ كَمَا تُجِیْرُ بَیْنَ الْبُحُورِ اَنْ تُجِیْرَنِی مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ،   وَمِنْ دَعْوَۃِ الثُّبُوْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقُبُوْرِ۔ اَللّٰہُمَّ مَا قَصُرَ عَنْہُ رَاْیِیْ وَلَمْ تَبْلُغْہُ نِیَّتِیْ،   وَلَمْ تَبْلُغْہُ اُمْنِیَتِیْ مِنْ خَیْرٍ وَّعَدْتَّہُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ اَوْ خَیْرٍ اَنْتَ مُعْطِیہِ اَحَدًا مِّنْ عِبَادِكَ فَاِنِّیْۤ اَرْغَبُ اِلَیْكَ فِیْہٖ وَاَسْئَلُكَ یارَبَّ الْعالمیْنَ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا ھَادِیْنَ مَہْدِیِّیْنَ غَیْرَ ضَآلِّیْنَ وَلَا مُضِلِّیْنَ حَرْباً لِّاَعْدَآئِكَ وَسَلْمًا لِّاَوْلِیآئِكَ،   نُحِبُّ بِحُبِّكَ النَّاسَ،   وَنُعَادِیْ بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ۔ اَللّٰہُمَّ ھٰذَا الدُّعَآءُ وَعَلَیْكَ الْاِجَابَۃُ وَھٰذَا الْجُہْدُ وَعَلَیْكَ التُّكْلَانُ،   فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ذِی الْحَبْلِ الشَّدِیْدِ وَالْاَمْرِ الرَّشِیْدِ،   اَسْئَلُكَ الْاَمْنَ یَوْمَ الْوَعِیْدِ وَالْجَنَّۃَ یَوْمَ الْخُلُوْدِ مَعَ الْمُقَرَّبِیْنَ الشُّہُوْدِ،   وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ،   وَالْمُوفِیْنَ بِالْعُہُوْدِ،   اِنَّكَ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ،   اَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِیْدُ۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ تَعَطَّفَ بِالْعِزِّ وَقَالَ بِہٖ،   سُبْحَانَ الَّذِیْ لَبِسَ الْمَجْدَ وَتُكْرَمُ بِہٖ،   سُبْحَانَ الَّذِیْ لَا یَنْبَغِی التَّسْبِیْحُ اِلَّا لَہٗ،   سُبْحَانَ ذِی الْفَضْلِ وَالنِّعَمِ،   سُبْحَانَ ذِی الْقُدْرَۃِ وَالْكَرَمِ،   سُبْحَانَ الَّذِیْۤ اَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ بِعِلْمِہٖ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا فِی قَلْبِیْ وَنُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ وَنُوْرًا فِیْ سَمْعِیْ وَنُوْرًا فِیْ بَصَرِیْ وَنُوْرًا فِیْ شَعْرِیْ وَنُوْرًا فِیْ بَشَرِیْ وَنُوْرًا فِیْ لَحْمِیْ وَنُوْرًا فِیْ دَمِیْ وَنُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ وَنُوْرًا مِّنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَنُوْرًا مِّنْ خَلْفِیْ وَنُوْرًا عَنْ یَمِینِیْ وَنُوْرًا عَنْ شِمَالِیْ وَنُوْرًا مِّنْ فَوْقِیْ وَنُوْرًا مِّنْ تَحْتِیْ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنِیْ نُوْرًا وَّاَعْطِنِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا)   ([1])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  ایسی رحمت کا سوال کرتا ہوں   جس سے  تو میرے دل کو ہدایت کی دولت عطا فرما کر میری دل جمعی فرما دے،   میری پراگندگی کو درست فرما دے،   میری الفت لوٹا دے،   میرا ظاہر درست کر دے،   میرا قرض ادا فرما دے،   میرے باطن کی حفاظت فرما کر میرے ظاہر کی اصلاح فرما دے،   میرا عمل پاک کر کے میرا چہرہ روشن کر دے اور مجھے رُشد وہدایت القا فرما کر ہر برائی سے  بچا لے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے ایمانِ صادق عطا فرما اور ایسے  یقین کی دولت سے  مالا مال فرما جس کے بعد کوئی کفر نہ ہو اور ایسی رحمت سے  سرفراز فرما جس سے  میں   دنیا و آخرت میں   تیرے فضل و کرم کا شرف حاصل کر لوں  ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  سوال کرتا ہوں   کہ مجھے موت کے وقت کامیابی عطا فرما اور شہیدوں   کے درجات،   سعادت مندوں   کی زندگی،   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  کی مصاحبت اور دشمنوں   پر فتح ونصرت عطا فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تیری بارگاہِ بیکس پناہ میں   اپنی حاجت کے پورا ہونے کے لئے حاضر ہوں   اگرچہ میری رائے ناقص اور میرا عمل کمزور ہے اور میں   تیری ہی رحمت کا محتاج ہوں  ۔ پس اے امور کا فیصلہ فرمانے والے! اے سینوں   کو شفا عطا فرمانے والے! میں   تجھ ہی سے  سوال کرتا ہوں   کہ جس طرح تو سمندروں   میں   پناہ دیتا ہے اسی طرح مجھے آگ کے عذاب سے ،   ہلاکت و بربادی کی پکار سے  اور قبروں   کے فتنے سے  پناہ عطا فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! جس بھلائی کا تونے کسی مخلوق سے  وعدہ فرما رکھا ہے یا اپنے بندوں   میں   سے  کسی کو وہ بھلائی عطا فرمانے والا ہے اور میرا خیال اس سے  غافل اور عمل کمزور ہے اور میری نیت اور خواہش و ارادہ کی وہاں   تک رسائی نہیں   تو میں   بھی اس بھلائی کے حصول کی خاطر تیری بارگاہ میں   حاضر ہوں   اور اے تمام جہانوں   کے پالنہار! تجھ سے  سوال کرتا ہوں  ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں   ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے کہ نہ تو خود گمراہ ہوں   اور نہ ہی دوسروں   کو گمراہ کریں   اور اپنے دشمنوں   سے  جہاد کرنے والا اور اپنے دوستوں   سے  صلح و امن سے  رہنے والا بنا دے،   ہم تیری محبت کی وجہ سے  لوگوں   سے  محبت کریں   اور ہر اس مخلوق سے  دشمنی کریں   جس نے تجھ سے  دشمنی کی۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ ایک دعا ہے اور اس کا قبول کرنا تیرے ذمۂ  کرم پر ہے۔ یہ تو محض ایک کوشش و مجاہدہ ہے اور تجھ پر ہی بھروسا ہے،   یقیناً ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے ہیں   اور ہمیں   اسی کی جانب لوٹ کر جانا ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد کے بغیر نہ تو کوئی نیکی کرنے کی قوت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی کوئی طاقت،   جو زبردست قوت اور امرِ رشید  (یعنی ہدایت یافتہ امر)  کا مالک ہے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  روزِ جزا امن و امان اور روزِ خلد  (ہمیشگی کے دن)  جنت کا سوال کرتا ہوں   اور وہ بھی مقربین،   رکوع و سجود کرنے والوں   اور ایفائے عہد کرنے والوں   کے ہمراہ،   بیشک تو رحم فرمانے والا اور انتہائی محبت فرمانے والا ہے،   تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کی چادر اوڑھی اور اسے  بیان بھی کیا۔ پاک ہے وہ ذات جس نے بزرگی اور کرامت کا لباس پہنا،   پاک ہے وہ جس کے سوا کسی کی پاکی بیان کرنا مناسب نہیں  ،   پاک ہے فضل و انعام والی ہستی،   پاک ہے قدرت و کرم کا مالک،   پاک ہے وہ جس نے اپنے علم سے  ہر شے کو شمار کر رکھا ہے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرے دل میں   نور ڈال دے،   میری قبر میں   نور پیدا فرما دے،   میری سماعت میں  ،   میری بصارت میں  ،   میرے بالوں   میں  ،   میری کھال میں  ،   میرے گوشت میں  ،   میرے خون میں  ،   میری ہڈیوں   میں  ،   میرے آگے،   پیچھے،   دائیں،   بائیں  ،   اوپر اور نیچے نور ہی نور کر دے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرے نور میں   اضافہ و زیادتی فرما اور مجھے نور کی دولت سے  مالا مال فرما اور میرے لئے نور بنا۔ تاجدارِ رِسالت،   محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے جسمِ اقدس کے ہر ہر حصے میں   ان انوار کے پیدا کرنے کا سوال کیا تاکہ نورِ حق سے  عطا کردہ نور سے  آنکھیں   ہمیشہ ہر سکون و حرکت میں   ذاتِ



[1]     جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب منه (دعاء    الخ) الحديث:۳۴۱۹، ص۲۰۰۳صحيح ابن خزيمه، جماع ابواب الرکعتين قبل الفجر،باب الدعاء بعد رکعتی الفجر، الحديث:۱۱۱۹، ج۲، ص۱۶۵



Total Pages: 332

Go To