Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور علم معرفت: 

            جب امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’مجھے ان سے  بہت محبت تھی،   آج ان کے ساتھ ہی علم کے دس حصوں   میں   سے  نو حصے ختم ہو گئے ہیں  ۔ ‘‘  عرض کی گئی: ’’آپ کیا کہہ رہے ہیں  ! حالانکہ حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے! ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’میری مراد وہ علم نہیں   جو تم سمجھ رہے ہوبلکہ میری مراد علمِ معرفت ہے۔ ‘‘   ([1])

            حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ متقین پسِ پردہ رہتے ہیں  ۔

            ایک بار ارشاد فرمایا کہ متقین سردار اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام قائدین ہیں   اور ان سب کی صحبت سے  ایمان میں   زیادتی ہوتی ہے۔  ([2])

سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے قول کی وضاحت: 

            مراد یہ ہے کہ متقین عام لوگوں   کے سردار ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ      (پ ۲۶،  الحجرات: ۱۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک اللہ کے یہاں   تم میں   زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں   زیادہ پرہیزگار ہے۔

 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام متقین کے امام ہیں   جو اُن کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں   جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (۷۴)  (پ۱۹،  الفرقان: ۷۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہمیں   پرہیزگاروں   کا پیشوا بنا۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو متقین پر فضیلت دی اور انہیں   ان کا امام بنایا اور متقین ان کے اصحاب بن گئے،   حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ بھی بتایا کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی صحبت میں   ایمان کی زیادتی ہے،   یعنی ان کی ہم نشینی غیر عالم متقین کی ہم نشینی سے  زیادہ ایمان کی زیادتی کا باعث ہے کیونکہ ہر عالم تو متقی ہوتا ہے لیکن ہر متقی عالم نہیں   ہوتا۔

            حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’علما کثیر ہیں   مگر ان میں   حکما بہت قلیل ہیں  ۔ صالحین کی تعداد تو بہت زیادہ ہے مگر ان میں   صادقین کی تعداد بہت کم ہے۔ ‘‘   ([3]) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  عرض کی گئی: ’’لوگ کون ہیں  ؟ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ۔ ‘‘  پھر عرض کی گئی: ’’بادشاہ کون ہیں  ؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’زاہدین۔ ‘‘  عرض کی گئی: ’’احمق کون ہیں  ؟ ‘‘  فرمایا: ’’جو اپنے دین کے عوض کھاتے ہیں  ۔ ‘‘  ([4]) ایک بار ارشاد فرمایا: ’’وہ لوگ جو لباس زیبِ تن کر کے مانگتے پھرتے ہیں   اور گواہیاں   دینے میں   لگے رہتے ہیں  ۔ ‘‘ 

            ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا فرقد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  کوئی بات پوچھی تو آپ نے جواب دیدیا،   جس پر حضرت سیِّدُنا فرقد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الاَحَدنے عرض کی: ’’اے ابو سعید! فقہا  (اس مسئلے میں  )  آپ کی مخالفت کریں   گے۔ ‘‘  تو آپ نے فرمایا: ’’اے فرقد! تیری ماں   تجھ پر روئے! کیا تونے اپنی آنکھوں   سے  فقہا کو دیکھا بھی ہے؟ فقیہ تو وہ ہوتا ہے جس میں   یہ اوصاف ہوں  :

٭…دنیا سے  کنارہ کش ہو      … آخرت میں   رغبت رکھنے والا ہو ٭…دینی بصارت کا حامل ہو

٭…اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت پر ہمیشگی اختیار کرنے والا ہو        ٭…متقی ہو

٭…مسلمانوں   کی ناموس میں    (دراندازی سے )  اپنے نفس کو روکنے والا ہو۔

٭…ان کے اموال  (باطل طریقے سے  کھانے)  سے  بچنے والا ہو۔

٭…اپنی جماعت کو نصیحت کرنے والا ہو۔ ‘‘   ([5])

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   ہم نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  مروی تین مختلف اقوال کو اس ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔ پس یہ تمام صفات ایک عالم ربانی کی ہیں   جو عارفِ حقیقی بھی ہوتا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَ وّل فرماتے ہیں   کہ میں  نے اپنے والدِ گرامی سے  عرض کی: ’’ہمیں   معلوم ہوا ہے کہ آپ حضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ



[1]    ۔ المعجم الکبیر، الحدیث: ۸۸۱۰، ج۹، ص۱۶۳ بتغیر

[2]    ۔ المعجم الکبیر، الحدیث: ۸۵۵۳، ج۹، ص۱۰۵۔ العلماء بدلہ الفقھاء

[3]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۹۷ الفضیل بن عیاض، الحدیث: ۱۱۴۷۵، ج۸، ص۹۵

[4]    ۔ تاریخ بغداد، الرقم۳۶۵۰ جعفر بن محمد الخیاط، ج۷، ص۲۰۱

[5]    ۔ الطبقات الکبریٰ لابنِ سعد، الرقم۱۳۰۵۵ الحسن بن ابی الحسن، ج

Total Pages: 332

Go To