Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

پڑھتے ورنہ نمازِ جنازہ ادا نہ کرتے۔  ([1])

رازدانِ بارگاہِ رسالت: 

            حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو صَاحِبُ السِّر  (یعنی رازدانِ بارگاہِ رسالت)  بھی کہا جاتا ہے۔ صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  جب اس علم کے متعلق کوئی سوال پوچھا جاتا تو ہر ایک یہی کہتا:  ’’تم صَاحِبُ السِّر یعنی حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موجودگی میں   مجھ سے  یہ سوال پوچھتے ہو! ‘‘ ([2])

اللہ کے ذکر کی فضیلت: 

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے رحمتِ عالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مجلسِ ذکر کی فضیلت کے متعلق مروی حدیثِ پاک بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والوں   کے ساتھ صبح سے  لے کر طلوعِ آفتاب تک بیٹھنا راہِ خدا میں   چار غلام آزاد کرنے سے  زیادہ پسند ہے۔‘‘([3])  راوی فرماتے ہیں   کہ اس کے بعد وہ حضرت سیِّدُنا یزید رقاشی اور حضرت سیِّدُنا زیاد نمیری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کی جانب متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ہماری وہ مجالسِ ذکر تمہاری آج کی مجالس کی طرح نہ تھیں   کہ آج تم میں   سے  ایک شخص قصے سناتا رہتا ہے اور اپنے ساتھیوں   کے سامنے خطاب میں   مشغول رہتا ہے اور بڑی روانی سے  احادیث بیان کر تا ہے کیونکہ ہم ذکر کی مجالس میں   بیٹھتے تو ایمان کا تذکرہ کرتے،   قرآنِ کریم میں   تدبر کرتے،   دین میں   سوجھ بوجھ حاصل کرتے اور ان اعمال کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا انعام شمار کرتے۔

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دوسرے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  مخاطب ہو کر فرمایا کرتے تھے:  ’’آؤ،   کچھ دیر کے لئے ایمان کی باتیں   کریں  ۔ ‘‘   ([4]) پس وہ سب ان کے پاس بیٹھ جاتے اور مل کر علمِ معرفتِ الٰہی اور علمِ توحید و آخرت کا ذکر کیا کرتے۔ بعض اوقات ایسی مجلس میں   بیٹھے رہنے کے بعد رسولِ اَکرم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے جاتے تو تمام لوگ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جمع ہو جاتے اور پھر وہ ان کے سامنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے انعامات کا تذکرہ فرمایا کرتے اور حضورنبی ٔرحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیان کردہ احادیثِ مبارکہ دوسرے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو سمجھایا کرتے اور بسااوقات لوگ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گرد جمع ہوتے اور اچانک رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آتے تو سب خاموش ہو جاتے مگر سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے پاس تشریف فرما ہو کر انہیں   حکم دیتے کہ جو علم حاصل کر رہے تھے اس میں   مشغول رہو۔ نیز ارشاد فرماتے کہ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں   بھی اسی کی دعوت دیتا ہوں  ۔

            حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق بھی ایک روایت مروی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اس علم کی  (یعنی عارفانہ) باتیں   کیا کرتے تھے اور حضرت سیِّدُنا جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی حدیثِ پاک میں   بھی ہے کہ ’’ہم حضور نبی ٔکریم،   رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس قرآنِ کریم سیکھنے سے  پہلے ایمان کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ ‘‘  ([5])

            پس اس حدیثِ پاک میں   بھی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح علمِ ایمان کو ایمان ہی کہا گیا ہے کیونکہ علمِ ایمان درحقیقت وصفِ ایمان ہے اور عربوں   کے ہاں   یہ عام ہے کہ وہ ایک شے کو اس کے وصف کا نام دے دیتے ہیں   اور بعض اوقات اس کی اصل کے لحاظ سے  اسے  پکارتے ہیں  ۔ جیساکہ سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان میں   منقول ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’یقین سیکھو۔ ‘‘  ([6])   اور جس طرح کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں   ارشا دفرمایا: 

وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ (پ۱۳،  یوسف: ۸۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کی آنکھیں   غم سے  سفید ہوگئیں  ۔

            یہاں   حزن بمعنی بکا ہے اور اسے  یہ نام اس کی اصل ہونے کی وجہ سے  دیا گیا ہے ،   کیونکہ حزن ہی بکا کی اصل ہے۔

مجلس علم کو ترجیح دینا: 

            مروی ہے کہ ایک دن میٹھے میٹھے آقا،   مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر سے  باہر تشریف لائے تو دو مختلف قسم کی مجلسیں   دیکھیں  ،   ایک میں   لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  خوب دعائیں   مانگ رہے تھے،   دوسری میں   علمِ دین سیکھ سکھا رہے تھے۔ پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان دونوں   کے درمیان ٹھہر گئے اور ارشاد فرمایا:  ’’وہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  جو کچھ مانگ رہے ہیں  ،   اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو انہیں   دے اور اگر چاہے تو نہ دے،   جبکہ یہ لوگ ایک دوسرے کو علم سکھا رہے ہیں   اور علمِ دین سمجھا رہے ہیں   اور بے شک  مجھے بھی ایک معلم یعنی استاذ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ‘‘  اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان لوگوں   کی جانب بڑھے جو لوگوں   کو علمِ دین سمجھا رہے تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں   مشغول تھے۔



[1]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم    الخ، ج۱، ص۷۱۰

[2]    ۔ صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم، باب مناقب عمار و حذیفۃ، الحدیث: ۳۷۴۳، ص۳۰۵

[3]    ۔ سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فی القصص، الحدیث: ۳۶۶۷، ص۱۴۹۵

[4]    ۔ المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الایمان و الرؤیا، باب۶، الحدیث: ۷۵، ج۷، ص۲۲۷<



Total Pages: 332

Go To