Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            حضرت سیِّدُنا ابو قتادہ عدوی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے کہ اس شیخ  (یعنی حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی)  کا دامن تھام لو کیونکہ ہم نے ان سے  بڑھ کر کسی کو بھی نہیں   دیکھا جو رسولِ بے مثال،   محبوبِ ربِّ ذو الجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابی ہونے کا شرف حاصل نہ ہونے کے باوجود سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  مشابہت رکھتا ہو۔  ([1])

حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے  مشابہت: 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے ہم عصر بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن   فرماتے ہیں   کہ ہم انہیں   حلم و بردباری،   خشوع و خضوع او روقار و سکون میں   حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی طریقت سے  مشابہت دیا کرتے تھے کیونکہ وہ ان کے شمائل و اخلاق کے حامل تھے۔

بصرہ کا سب سے  نیک انسان: 

            منقول ہے کہ بصرہ میں   ایک عورتنے نذر مانی کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کا یہ کام کر دیا تو وہ خود سوت کات کر اپنے ہاتھ سے  کپڑا بُنے گی اور پھر اہلِ بصرہ میں   سے  سب سے  نیک شخص کو پہنائے گی۔ جب اس کا کام ہو گیا اور اسنے اپنی نذر پوری کرنے کا ارادہ کیا تو پوچھنے لگی: ’’اہلِ بصرہ میں   سب سے  نیک کون شخص ہے؟ ‘‘  توہر ایکنے اسے  یہی بتایا کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سب سے  نیک ہیں  ۔

حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے علم معرفت میں   استاذ: 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی ہی وہ سب سے  پہلے فرد ہیں   جنہوں  نے علمِ معرفت کی راہیں   کھولیں  ،   لغتیں   بیان کیں  ،   معانی و مفاہیم واضح کئے،   اس کے انوار ظاہر کئے اور اس کے مخفی امور سے  پردہ ہٹایا۔ آپ اس علم میں   ایسی گفتگو فرمایا کرتے جو لوگوں  نے اس سے  پہلے کسی سے  نہ سنی تھی۔ ان سے  عرض کی گئی:  ’’اے ابو سعید! آپ علمِ معرفت میں   ایسی گفتگو کرتے ہیں   جو ہم نے آپ کے علاوہ کسی سے  نہیں   سنی،    (کیا ہمیں   بتائیں   گے کہ)  آپ نے کلام کس سے  سیکھا ہے؟ ‘‘  تو آپ نے بتایا کہ میں  نے یہ باتیں   حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  سیکھی ہیں  ۔

حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے علم کہاں   سے  سیکھا؟

            منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  لوگوں  نے عرض کی: ’’ہم آپ کو دیکھتے ہیں   کہ آپ اس علم میں   ایسی گفتگو فرماتے ہیں   جو کسی دوسرے صحابی سے  ہم نے نہیں   سنی،   آپ نے یہ علم کہاں   سے  حاصل کیا؟ ‘‘  تو انہوں  نے ارشاد فرمایا:  ’’مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خاص طورپر یہ علم مجھے عنایت فرمایا۔ ‘‘  آپ نے مزید ارشاد فرمایا: لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  خیر وبھلائی کے متعلق سوال کیا کرتے تھے اور میں   شر و برائی کے متعلق پوچھا کرتا تھا،   اس خدشہ کی بنا پر کہ کہیں   اس میں   مبتلا نہ ہو جاؤں  ،   حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ خیر وبھلائی مجھ سے  سبقت نہیں   لے جا سکتی  (یعنی میں   اسے  یقیناً حاصل کر لوں   گا)  ۔ ‘‘   ([2]) اور ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:  ’’اس لئے کہ مجھے معلوم تھا کہ جو بندہ شر اور برائی کو نہیں   پہچانتا وہ خیر و بھلائی کو بھی نہیں   پہچان سکتا۔ ‘‘  اور ایک روایت میں   الفاظ کچھ اس طرح ہیں  :  ’’لوگ کہا کرتے تھے: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو ایسا ایسا عمل کرے اس کے لئے کیا اجرو ثواب ہے؟ یعنی وہ عام طور پر اعمال کے فضائل پوچھا کرتے تھے۔ جبکہ میں   عرض کیا کرتا تھا: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فلاں   فلاں   عمل کو کیا چیز فاسد و خراب کرتی ہے؟ جب محبوب ربِّ داور،   شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے دیکھا کہ میں   آفاتِ اعمال کے متعلق سوال کیا کرتا ہوں   تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خصوصی طور پر یہ علم مجھے عطا فرمایا۔

حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کی اِنفرادیت: 

            حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی وہ شخصیت ہیں   جنہیں   خاص طور پر سیِّدعالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منافقین کے متعلق معلومات فراہم کیں  ،   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ واحد صحابی ہیں   جنہیں   علمِ نفاق اور علمی اسرار کی معرفت کے علاوہ دقیق فہمی اور مقاماتِ یقین کی مخفی باتوں   کی معرفت حاصل تھی۔

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور دیگر اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہر عام و خاص فتنے کے متعلق انہی سے  پوچھا کرتے تھے،   بلکہ سب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس علم میں   جس میں   انہیں   خصوصیت حاصل تھی انہی کی جانب رجوع کیا کرتے اور ان سے  منافقین کے متعلق پوچھا کرتے کہ کیا ان میں   سے  کوئی باقی ہے جن کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کیا اور پھر ان سے  اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آگاہ بھی فرمایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ صرف ان کی تعداد بتا دیا کرتے لیکن ان کے نام نہ بتاتے۔

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان سے  اپنے متعلق پوچھا کرتے تھے کہ کیا ان میں   تو نفاق کی کوئی علامت نہیں   پائی جاتی؟ تو وہ انہیں   نفاق سے  بری قرار دیتے۔ پھر امیر المومنیننے ان سے  علاماتِ نفاق اور منافق کی نشانی کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے انہیں   صرف اسی علامت سے  آگاہ فرمایاجس کی انہیں   اجازت دی گئی تھی اور جس کی اصلاح ممکن تھی اور جس کے متعلق لب کشائی کی اجازت نہ ہوتی اس سے  معذرت کر لیتے۔

منافق کی نمازِ جنازہ نہ پڑھتے: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب کسی جنازے کے لئے بلایا جاتا تو آپ لوگوں   کو دیکھتے اگر ان میں حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پاتے تو نمازِ جنازہ



[1]    ۔ المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب ما قالوا فی البکاء من خشیۃ اللہ، الحدیث: ۸۲، ج۸، ص۳۰۷ بتغیر

[2]    ۔ صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب کیف الامر اذا لم تکن جماعۃ، الحدیث: ۷۰۸۴، ص۵۹۱



Total Pages: 332

Go To