Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق مروی روایات کو تسلیم کرنے اور ان کی تفسیر نہ کرنے کے حوالے سے  ہمارا قول وہی ہے جو اصحابِ حدیث کا ہے۔ البتہ! ہم کہتے ہیں   کہ اسما اور صفات کے معانی کی معرفت اور ان کے مشاہدے سے  ان کے متعلق پائے جانے والے ظن اور وسوسے  کی نفی ضرور کی جا سکتی ہے اور تشبیہ و تمثیل کا ترک کرنا اور مشاہدے کے باعث معرفت ِ یقین پر اطمینان کا حاصل ہونا اہلِ یقین کا مقام ہے اور اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی جن صفات کے ذریعے تجلی فرماتا ہے اور اس کے علاوہ جو اس کی دیگر صفات ہیں   ان کی کوئی حد ہے نہ تعداد۔ بلکہ وہ ایک صفت کے ذریعے دوسری صفت ظاہر فرماتا ہے جیسے  چاہتا ہے،   اس کی تجلی کسی صفت پر موقوف ہے نہ اس پر کسی ایسی صورت کا حکم لگایا جا سکتا ہے جس میں   کسی غیر کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس کی تجلی کا ظہور جیسے  وہ چاہتا ہے اور جس وصف کے ذریعے چاہتا ہے ہوتا ہے،   نہ تو اس کی کیفیت بیان ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی مثال دی جا سکتی ہے،   اس لئے کہ وہ جنس اور جوہر ہونے سے  پاک ہے۔ یہ عقیدہ اپنانا مقربین کا مقام ہے۔

            یہی صدیقین اور خواص اہلِ یقین بھی ہیں   ،   پس جو شخص ان مقربین و اہلِ یقین کی زیارت سے  اپنا رخ موڑے اور ان کے مشاہدے کی طرف توجہ نہ دے تو وہ تسلیم و تصدیق کی راہ سے  ہٹ جائے گا اور وہیں   کھڑا رہے گا جو مقامِ عقل و استراحت ہے کیونکہ ان مقربین کے مقام کے بعد نہ تو کوئی قابلِ تعریف مقام ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر وصف۔ لہٰذا جو اپنی عقل سے  کوئی ایسا مقام تلاش کرے اور اپنی رائے سے  اس کی وضاحت و تفسیر بیان کرے تو یقیناً تشبیہ و تمثیل کا سہارا لے گا یا نفی و ابطال کی جانب نکل جائے گا۔

            علمِ معرفت کی باقی تمام علوم پر فضیلت ان کثیر روایات میں   منقول ہے جو سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  مجالسِ ذکر اور ذکر کرنے والوں   کی فضیلت میں   مروی ہیں  ۔ ان تمام روایات میں   ان کی اس علم سے  مراد علمِ ایمان و معرفت،   علومِ معاملات اور بصیرتِ قلبی میں   تفقہ اور اسرارِ غیب میں   بصارتِ یقین کے ذریعے غورو فکر کرنے والے علوم ہیں  ۔

قصہ گوئی ایک بدعت ہے: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے کبھی بھی علمِ توحید سے  قصہ گوئی اور قصہ گو افراد مراد نہیں   لئے۔ کیونکہ وہ قصہ گوئی کو بدعت خیال کرتے اور فرمایا کرتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں   قصہ گوئی تھی نہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں   اور نہ ہی امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں  ۔ بلکہ جب فتنوں   کا ظہور ہوا تو قصہ گو افراد بھی جنم لینے لگے اور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جب بصرہ تشریف لائے تو آپ نے مسجد سے  قصہ گو افراد کو باہر نکالنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ ارشاد فرماتے جاتے کہ ہماری مسجد میں   کوئی بھی قصے نہیں   سنائے گا یہاں   تک کہ جب سب سے  آخر میں   حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے پاس پہنچے جو اس وقت علمِ معرفت کے متعلق گفتگو فرما رہے تھے تو ان کی باتیں   بڑی توجہ سے  سماعت فرمائیں   اور پھر واپس چل دیئے لیکن انہیں   وہاں   سے  باہر نہ نکالا۔  ([1])

            منقول ہے کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   مسجد میں   اپنی مخصوص جگہ تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں   ایک قصہ گو بیٹھا قصے سنا رہا ہے،   آپ نے ایک سپاہی کو اس کی طرف متوجہ کیا کہ وہ اسے  مسجد سے  باہر نکال دے۔ چنانچہ اسنے اسے  باہر نکال دیا۔ لہٰذا اگر قصہ گوئی کا تعلق ذکر کی مجالس سے  ہوتا اور قصہ گو علما شمار ہوتے تو حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   کبھی بھی اسے  مسجد سے  باہر نہ نکالتے۔ حالانکہ آپ مقامِ ورع و زہد پر فائز تھے۔ ([2])

بلند آواز سے  دعا مانگنا بدعت ہے:

            حضرت سیِّدُنا ابی تیاح عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْفَتَّاح فرماتے ہیں   کہ میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  عرض کی: ہمارا امام قصے سناتا ہے اور جب بہت سے  مرد اور عورتیں   اکٹھے ہو جاتے ہیں  تو سب مل کر بلند آواز سے  دعائیں   کرتے ہیں  ([3]) اور اپنے ہاتھ خوب پھیلا دیتے ہیں  ۔  ([4]) تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’دعا کے وقت آواز کا بلند کرنا بدعت ہے اور اس طرح دعا کی خاطر ہاتھوں   کو خوب پھیلانا بھی ایک بدعت ہے۔ ‘‘   ([5])

            حضرت سیِّدُنا ابو اشہب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  روایت کرتے ہیں   کہ قصہ گوئی ایک بدعت ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام ابنِ سیرین عَلَیْہِ



[1]    ۔ المدخل لابن الحاج، فصل فی الاشتغال بالعلم یوم الجمعۃ، ج۱، ص۳۳۳

[2]    ۔ المدخل لابن الحاج، فصل فی الاشتغال بالعلم یوم الجمعۃ، ج۱، ص۳۳۳

[3]    ۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 318 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ فضائل دعا‘‘ صَفْحَہ 76 پر ہے کہ ’’دعا نرم وپست آواز سے ہو کہ اللہ تعالیٰ سمیع وقریب ہے جس طرح چلّانے سے سنتا ہے اسی طرح آہستہ۔ قَالَ الرّضَا: بلکہ وہ اسے بھی سنتا ہے جو ہَنوز (ابھی) زبان تک اصلاً نہ آیا یعنی دلوں کا اِرادہ، نیت، خطرہ کہ جیسے اس کا علم تمام مَوجُودا ت ومَعْدُومات  کو مُحِیط (گھیرے ہوئے) ہے یونہی اس کے سمع وبصر جمیع موجودات کو عام وشامل ہیں اپنی ذات وصفات اور دلوں کے اِرادات وخطرات اورتمام اَعیان واَعراضِ کائنات ہر شے کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی نہ اس کا دیکھنا رنگ و ضَو (رنگ وروشنی) سے خاص نہ اس کا سننا آواز کے ساتھ مخصوص (کسی آواز کا محتاج)۔

[4]    ۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 318 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ فضائل دعا‘‘ صَفْحَہ 75 پر ہے کہ ’’اَدب۲۴: بہ کمالِ اَدب ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر سینے یا شانوں یا چہرے کے مقابل لائے یا پورے اٹھائے یہاں تک کہ    

        بغل کی سپیدی ظاہر ہو، یہ اِبْتِھَال ہے (یعنی گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرنا ہے)۔ اَدب ۲۵: ہتھیلیاں پھیلی رکھے۔ قَالَ الرّضَا: یعنی اُن میں خم نہ ہو کہ آسمان قبلۂ دعا ہے، ساری کفِ دست مواجۂ آسمان رہے۔ (یعنی انگلیوں سمیت پوری ہتھیلی آسمان کی طرف رہے) اَدب ۲۶: ہاتھ کھلے رکھے، کپڑے وغیرہ سے پوشیدہ نہ ہوں۔ قَالَ الرّضَا: ہاتھ اٹھانا اور کریم کے حضور پھیلانا، اِظہارِ عجز وفقر کیلئے مشروع ہوا (عاجزی اور فقیری ظاہر کرنے کیلئے جائز ہوا)، تو ان کا چھپانا اس کے مُخِل (خلل کا باعث) ہو گا۔ جس طرح عمامے کے پیچ پر سجدہ مکروہ ہوا کہ اصل مقصود ِسجود یعنی اِظہارِ تَذلُّل (عجز واِنکساری) میں خلل انداز ہے۔ نماز میں منہ چھپانا مکروہ ہوا کہ صورت ِتوجہ کے خلاف ہے اگرچہ رب سے کچھ نِہاں (پوشیدہ) نہیں۔  ھٰذَا مَا ظَھَرَ لِي، وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم

[5]    ۔ القصاص والمذکرین،الحدیث: ۱۶۲، ص۳۰۱



Total Pages: 332

Go To