Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

شخص پا نہ لے جو اسے  اس شک کی حقیقت سے  آگاہ کر کے اس کی تشفی کر دے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! عنقریب تم ایسا کوئی شخص نہ پاؤ گے۔  ([1])

عارفِ حق ہی سب سے  بڑا عالم ہوتا ہے: 

            مروی ہے کہ سیِّدعالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  دریافت فرمایا: ’’ لوگوں   میں   سب سے  بڑا عالم کون ہے؟ ‘‘  تو انہوں  نے عرض کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی بہتر جانتے ہیں  ۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں   میں   سب سے  بڑا عالم وہ ہے جو اُس وقت سب سے  زیادہ حق کا جاننے والا ہو گا جب امور مشتبہ ہوں   گے اور دین میں   اشکال پیدا ہو جائیں   گے اگرچہ وہ حق جاننے والا سُرین کے بل ہی چلتا ہو۔ ‘‘  اور ایک روایت میں   ہے کہ ’’ (جو اُس وقت سب سے  زیادہ حق کا جاننے والا ہو گا)  جب لوگوں   میں   اختلاف پیدا ہو جائے گا،   چاہے وہ عمل میں   کوتاہی کا شکار ہو۔ ‘‘   ([2])

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبوب اشیاء: 

            حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی حدیث ِ پاک میں   ہے کہحضوررَحمتِ عالم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ شبہات کے وقوع پر تنقیدی نظر کو اور نفسانی خواہشات کے ہجوم کے وقت عقلِ کامل کو پسند فرماتا ہے ۔ نیز سخاوت کو پسند فرماتا ہے اگرچہ کھجوریں   ہی دی جائیں   اور شجاعت کو پسند کرتا ہے اگرچہ سانپ ہی مارا جائے۔ ‘‘   ([3])

سیِّدُنا ابن مسعود کے اندیشے کا پورا ہونا: 

             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جو خدشہ لاحق تھا،   آج ہمارے زمانے میں   پورا ہو رہا ہے کیونکہ اگر توحید کے معانی و مفاہیم میں   اشکال پیدا ہو جائے یا کسی مومن بندے کے دل میں   ایک موحد کی صفات کے متعلق شبہ پیدا ہو جائے اور وہ چاہے کہ اس معاملے کی حقیقت اس پر اس طرح منکشف ہو جائے کہ دل اس کا مشاہدہ کر لے اور وہ معاملہ سینے میں   خوب کھل کر اس طرح واضح ہو جائے کہ دل میں   اطمینان پیدا ہو جائے تو ایسے  کسی فرد کو تلاش کرنا اس دور میں   کافی مشکل ہو گا۔

مشتبہ امور کی حقیقت کشائی کرنے والے پانچ افراد: 

            اس دور میں   مشتبہ امور کی حقیقت سے  پردہ اٹھانے والے افراد پانچ قسم کے ہیں  :

 (1) بدعتی: 

            ایسا شخص بدعتی ہو گا جو خود گمراہ ہو گا اور اپنی فاسد رائے سے  ایسی بات بتائے گا جو مزید حیرانی کا باعث ہو گی۔

 (2) ناقص العلم والعقل: 

            وہ باتیں   کرنے والا ایسا شخص ہو گا جو تجھے اہلِ یقین کے مشاہدہ کا فتویٰ دے گا حالانکہ اس کا علم انتہائی ناقص ہو گا اور اس معاملے کو دین کے ظاہر پر اپنی عقل سے  قیاس کرے گا،   پس جو بذاتِ خود ایک شبہ ہو وہ دوسرے شبہ کو کیسے  دور کر سکتا ہے؟

 (3) بناوٹی صوفی: 

            وہ ایک ایسا صوفی ہو گا جس کے اقوال و احوال مختلف ہوں   گے،   جو پراگندہ ذہن اور گمراہ ہو گا اور وہ کتاب و سنت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باتیں   کرے گا اور قطعاً کوئی پروا نہ کرے گا،   اپنے اقوال سے  ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی مخالفت کرے گا اور بدگوئی سے  بھی باز نہ آئے گا،   اپنے ظن،   وسوسوں   اور اندازوں   سے  حق پر باطل کا پردہ ڈالتے ہوئے جواب دے گا کہ کون و مکان کا فرق مٹ جائے گا،   علم اور احکام کا امتیاز نہ رہے گا،   اسما و رسوم کے نشانات تک ختم ہو جائیں   گے۔ ایسے  لوگ میدانِ حیرت میں   سرگرداں   اور حیران و پریشان کھڑے ہوتے ہیں  ،   حجت جانتے تک نہیں   مگر بحرِ توحید میں   غوطہ زن دکھائی دیتے ہیں  ،   نہ تو انہیں   متقین کا امام بنایا گیا اور نہ ہی یہ ان کے لئے حجت ہیں  ۔ بلکہ ایسے  کسی فرد کا قول قابلِ عمل نہیں   کیونکہ اس کے پاس اپنے قول کی کوئی دلیل ہے نہ وہ مسنون طریقے پر ہے۔

 (4) خود ساختہ مفتی: 

            ایسا بندہ جو اپنے زعمِ باطل میں   عالم اور مفتی ہو اور اپنے ساتھیوں   میں   فقیہ کے طور پر جانا جاتا ہو،   وہ یہ بتائے کہ یہ معاملہ احکامِ آخرت سے  ہے اور یہ علمِ غیب سے ،   اس میں   ہم کلام نہیں   کریں   گے کیونکہ ہم اس کے مکلف نہیں  ۔ یہ ایسا بندہ ہے جو اکثر ان مسائل میں   مناظرہ کرتا رہتا ہے جس کے ہم مکلف نہیں   اور ان مسائل میں   مجادلہ و مباحثہ کرتا ہے جن میں   اَسلافنے کوئی کلام نہیں   کیا  (یعنی خاموش رہے) ،   وہ ایسی باتوں   کے سیکھنے سکھانے میں   مصروف رہتا ہے جن کا علم حاصل کرنا تکلف سے  بھرپور ہے۔

            اس بندۂ مسکین کو معلوم نہیں   کہ اسے  علمِ یقین و ایمان،   حقیقت ِ توحید اور امور میں   مخلص ہونے کی پہچان کا علم حاصل کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے اور ان باتوں   کا علم حاصل کرنا بھی اس پر لازم ہے جو اخلاص میں   مؤثر ہیں  ۔ مگر یہ بندۂ مسکین یہ تمام علوم حاصل کرنے کے بجائے غیر ضروری علوم کے حصول میں   مگن ہے کیونکہ یہ خود کو جان بوجھ کر بعض پسندیدہ علوم کا مکلف بنا لیتا ہے۔ علمِ ایمان،   صحت ِ توحید،   پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے لئے خالص بندگی کا ہونا،   دنیاوی خواہشات سے  اعمال کا پاک ہونا اور ان جیسے  دیگر امور جن کا تعلق اعمالِ قلوب سے  



[1]    ۔ صحیح البخاری، کتاب الجھاد، باب عزم الامام علی الناس فیما یطیقون، الحدیث: ۲۹۶۴، ص۲۳۸ بتغیر

[2]    ۔ مسند ابی داود الطیالسی، الحدیث: ۳۷۸، ص۵۰ عملہ بدلہ العلم        المعجم الاوسط، الحدیث: ۴۴۷۹، ج۳، ص۲۴۶ مفھوماً

                                                شعب الایمان للبیھقی، باب فی مباعدۃ الکفار   الخ، فصل من ھذا الباب    الخ، الحدیث: ۹۵۰۹، ج۷، ص۶۸

[3]    ۔ الزھد الکبیر للبیھقی، باب الورع و التقویٰ، الحدیث: ۹۵۴، ص۳۴۶ بتغیر، الناقد بدلہ النافذ



Total Pages: 332

Go To