Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

حدیث ِ پاک میں   علمائے سوء او رعلمائے آخرت کا بیان: 

            حضرت سیِّدُنا ضحاک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الرَّزَّاق حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  روایت کرتے ہیں   کہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اس امت کے علما دو قسم کے ہیں  : ایک وہ شخص ہے جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ علم سے  نوازتا ہے تو وہ اسے  لوگوں   پر خرچ کرنے لگتا ہے اور اس پر ان سے  نہ تو کوئی طمع رکھتا  ہے اور نہ ہی اس کے بدلے کوئی قیمت وصول کرتا ہے۔ یہ ایسا بندہ ہے جس کے لئے آسمان کے پرندے،   پانی کی مچھلیاں  ،   زمین کے چوپائے اور کراماً کاتبین  (دو نوں  فرشتے )  سب دعا مانگتے ہیں  ۔ یہ بندہ قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   ایک معزز سردار کے روپ میں   حاضر ہو گا یہاں   تک کہ اسے  رسولوں   کی رفاقت حاصل ہو گی اور دوسرا بندہ وہ ہے جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا کا علم عطا فرماتا ہے تو وہ اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں   پر خرچ کرنے سے  بخل کرتا ہے اور اس پر طمع رکھنے کے علاوہ اس کے بدلے قیمت بھی وصول کرتا ہے،   قیامت کے دن جب یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   پیش ہو گا تو اس کی حالت یہ ہو گی: اس کے منہ میں   آگ کی لگام ڈالی گئی ہو گی اور ایک منادی لوگوں   کے سامنے اعلان کرے گا کہ یہ فلاں   بن فلاں   ہے،   اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دنیا میں   علم کی دولت سے  مالا مال کیالیکن اسنے اس پر طمع کی اور اس کے بدلے قیمت وصول کی۔ چنانچہ اسے  عذاب دیا جائے گایہاں   تک کہ لوگوں   کے حساب سے  فراغت ہو جائے۔ ‘‘  ([1])

دنیا کمانے والے عالم کاانجام:

             (صاحبِ کتاب اِمام اَجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   اس سے  بھی زیادہ سخت روایت جو میں  نے علم کے بدلے دنیا کمانے والے عالم کے متعلق سنی ہے یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا عثمان بن ابی سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت کیا کرتا تھا،   پس اسنے یہ کہنا شروع کر دیا: ’’ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھ سے  یوں   بیان کیا،   حضرت سیِّدُنا موسیٰ نَجِیُّ اللہ عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھ سے  اس طرح فرمایا اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھ سے  یہ فرمایا وغیرہ وغیرہ۔ وہ  (لوگوں   کو سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی باتیں   سناتا تو وہ خوش ہو کر اسے  نذرانے دیتے،   یوں   وہ)  بہت مالدار ہو گیا اور اس کے پاس خوب مال جمع ہو گیا۔  (پھر اچانک وہ غائب ہو گیا اور)  حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے جب اسے  اپنے پاس نہ پایا تو اس کے متعلق پوچھنے لگے مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا،   ایک دن اس کی بستی کا ایک شخص آپ کی خدمت میں   حاضر ہوا،   اس کے ہاتھ میں   ایک خنزیر تھا جس کے گلے میں   سیاہ رسی بندھی تھی،   آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے اس سے  پوچھا:  ’’کیا تم فلاں   شخص کو جانتے ہو؟ ‘‘  وہ بولا:  ’’جی ہاں  ! وہ یہی خنزیر ہے۔ ‘‘  آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   عرض کی:  ’’اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تجھ سے  سوال کرتا ہوں   کہ اسے  اس کی اصلی حالت پر لوٹا دے تا کہ میں   اس سے  اس مصیبت کے متعلق پوچھ سکوں   جس میں   یہ مبتلا ہے۔ ‘‘  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی جانب وحی فرمائی:  ’’اے موسیٰ! اگر تو مجھ سے  ان الفاظ سے  دعا مانگتا جن سے  آدم اور دیگرنے مانگی تب بھی میں   تیری یہ دعا قبول نہ کرتا۔ البتہ! تجھے یہ بتا دیتا ہوں   کہ میں  نے اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں   کیا،   وہ اس لئے کہ یہ دین کے بدلے دنیا طلب کیا کرتاتھا۔ ‘‘   ([2])

اہلِ حق کا تحائف قبول کرنے سے  انکار: 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے متعلق مروی ہے کہ ایک دن آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی مجلس برخاست کرنے کے بعد اٹھے تو خراسان کے ایک شخص نے خدمت میں   حاضر ہونے کی اجازت طلب کی اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں   ایک تھیلی پیش کی جس میں   پانچ ہزار درہم تھے،   نیز اپنے تھیلے سے  خراسان کے ہی بنے ہوئے ریشم کے انتہائی باریک دس عدد کپڑے نکال کر پیش کئے تو حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے پوچھا:  ’’یہ کیا ہے؟ ‘‘  عرض کرنے لگا:  ’’اے ابو سعید! یہ درہم خرچ کے لئے ہیں   اور یہ کپڑے پہننے کے لئے ہیں۔ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے معاف فرمائے،   یہ کپڑے اور درہم اپنے پاس ہی رکھو،   ہمیں   ان کی کوئی حاجت نہیں  ۔ اس لئے کہ جو شخص میری طرح کی مجلس میں   بیٹھے اور لوگوں   سے  اس جیسی اشیاء قبول کرے تو قیامت کے دن وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے   اس حال میں   ملے گا کہ اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔  ‘‘  ([3])

عِنْدَ اللہ بعض شہرۂ آفاق افراد کی حیثیت: 

                اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ایک بندے کے لئے تعریف مشرق و مغرب میں   پھیلا دی جاتی ہے،   حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اس کا وزن مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں  ۔ ‘‘   ([4])

علمائے دنیا کے احوال: 

            علمائے دنیا علم کے ذریعے دنیا طلب کرتے ہیں   اور دین کے بدلے دنیا کماتے ہیں  ،   دنیا دار لوگوں   کو اپنا دوست اور غمخوار بناتے ہیں  ،   ان کی عزت کرتے ہیں  ،   ان سے  محبت رکھتے ہیں   اور ان سے  خندہ پیشانی سے  ملتے ہیں  ،   یہ ایسے  لوگ ہیں   جو ہر زمانے میں   اپنے اوصاف اور اندازِ بیان سے  پہچانے جاتے ہیں  ۔  (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   علمائے سوء کے متعلق ہم نے کئی مقامات پر بڑی سخت باتیں   ذکر کی ہیں  ،   ہم ایسے  علما سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں   اور اس سے  سوال کرتے ہیں   کہ وہ ہمیں   اس آزمائش میں   مبتلا نہ کرے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ نورکے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ بات عالم کے لئے فتنہ کی حیثیت



[1]    ۔ المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۱۸۷، ج۵، ص۲۳۷ بتغیر

[2]    ۔ تاریخ دمشق لابن عساکر، الرقم۷۷۴۱ موسٰی بن عمران     الخ، ج۶۱، ص۱۵۲ بتغیر

[3]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس، باب فی آفات العلم    الخ، ج۱، ص۶۰۱

[4]    ۔ الاسرار المرفوعۃ لملا علی قاری، الحدیث:۲۶۲،ص۷۴ صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار، الحدیث: ۷۰۴۵، ص۱۱۶۳مفھوماً



Total Pages: 332

Go To