Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

زاہد ہے ۔

 (۲) … دوسرا طالب علم علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اختلاف اور مختلف اقوال سیکھتا ہے،   پھر جو قول اس پر مشکل ہو وہ اسے  چھوڑ دیتا ہے اور اس قول کو اختیار کر لیتا ہے جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مباح قرار دیا ہے،   اس طرح وہ رخصت پر عمل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

 (۳) … اور ایک طالب علم ایسا ہے جو ایک شے کے متعلق سوال کرتا ہے اور جب اس سے  کہا جاتا ہے کہ یہ جائز نہیں   تو وہ کوئی ایسی تدبیر سوچنے لگتا ہے جس سے  یہ جائز ہو جائے۔ لہٰذا علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  اس کے متعلق پوچھنے لگتا ہے تو وہ اسے  ہر قسم کے اختلاف اور شبہ میں   مبتلا کرنے والی باتوں   سے  آگاہ کر دیتے ہیں    (اور یہ اپنے مطلب کی بات کو چن لیتا ہے) ۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کے ہاتھوں   مخلوق ہلاک ہو گی اور وہ خود بھی ہلاک ہو گا۔ ایسے  طالب علموں   کو ہی علمائے سوء کے نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔

             (امام اجل حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   جان لیجئے! ہر وہ بندہ جو دنیا کا چاہنے والا اور علمی گفتگو کرنے والا ہو وہ باطل طریقے سے  لوگوں   کے مال کھاتا ہے اور جو بندہ لوگوں   کے مال باطل طریقے سے  کھاتا ہے یقیناً وہ انہیں   راہِ خدا سے  بھی روکنے والا ہوتا ہے اگرچہ اس کا اظہار اس کی باتوں   سے  نہ بھی ہو لیکن اس کے  انداز سے  آپ پہچان لیں   گے کہ وہ بڑے عمدہ طریقے سے  دوسرے علما کی مجلس میں   بیٹھنے سے  روکتا ہے اور راہِ آخرت پر چلنے سے  بڑی لطافت  (نرمی و خوبصورتی)  سے  منع کرتا ہے کیونکہ دنیاوی محبت اور نفسانی خواہشات کا غلبہ اس پر حکمرانی کر رہا ہوتا ہے خواہ وہ اسے  پسند کرے یا نہ کرے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ و ناپسندیدہ عالم: 

        بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عاجزی کرنے والے عالم کو پسند اور تکبر کرنے والے عالم کو سخت ناپسند فرماتا ہے اور جو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر عاجزی اپناتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  حکمت کی دولت عطا فرماتا ہے۔   ([1])

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّموٹے  (یعنی پیٹو)  عالم کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘    ([2])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہودیوں   کے ایک عالم مالک بن صیف سے  ارشاد فرمایا: ’’میں   تمہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جو کچھ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل کیا تھا کیا تم نے اس میں   یہ لکھا ہوا نہیں   پایا کہ بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ موٹے  (یعنی پیٹو)  عالم کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘  ابن صیف چونکہ خود  (پیٹو اور)  موٹا تھا،   لہٰذا غصے میں   بولا:  (اس کا قول قرآنِ کریم میں   یوں   حکایت کیا گیا ہے:  )   (مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ- (پ۷،   انعام:  ۹۱)  تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہنے کسی آدمی پر کچھ نہیں   اتارا )  تو یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی جسے  سن کر وہ مبہوت رہ گیا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:  (قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى  (پ ۷،   انعام:  ۹۱)  تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤکسنے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے)  تو اس کے ساتھیوں  نے اس سے  کہا: ’’تو ہلاک و برباد ہو! یہ تونے کیا کہہ دیا؟ تونے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی کتاب کا بھی انکار کر دیا۔ ‘‘  بولا کہ وہ مجھ سے  بہت زیادہ بحث کر رہے تھے تو میں  نے بھی یہ کہہ دیا۔ ([3])

علم نافع کی علامات: 

            منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس بندے کو بھی علم سے  نوازتا ہے تو اسے  حلم و بردباری،   عجزو انکساری،   خوش خلقی اور نرم مزاجی بھی عطا فرماتا ہے،   کیونکہ یہ سب علمِ نافع کی علامتیں   ہیں  ۔ ([4]) ایک روایت میں   ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس بندے کو زہد،   تواضع اور حسنِ اخلاق کی دولت سے  نوازتا ہے وہ بندہ متقین کا امام بن جاتا ہے۔ ([5])     حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ حلم و بردباری علم کا وزیر ،   نرمی اس کا باپ اور تواضع اس کا لباس ہے۔ ([6])

طالب علم دین کے خادم بن جاؤ: 

            حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کے متعلق مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی جانب وحی فرمائی اور ارشادفرمایا:

٭…اے داود! مجھ سے  کسی ایسے  عالم کے متعلق مت پوچھو جسے  دنیانے مدہوش کر رکھا ہو،   وہ تمہیں   بھی میری راہِ محبت سے  روک دے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں   جو میری رضا چاہنے والے بندوں   پر ڈاکا ڈالنے والے ہیں  ۔

٭…اے داود! جو عالم اپنی خواہش کو میر ی محبت پر ترجیح دیتا ہے میں   اس سے  سب سے  کم تر سلوک یہ کرتا ہوں   کہ اسے  اپنی مناجات کی لذت سے  محروم کر دیتا ہوں  ۔

٭…اے داود! جب کسی کو دیکھو کہ وہ میرا طالب ہے تو اس کے خادم بن جاؤ۔

٭…اے داود! جو بندہ میری بارگاہ سے  بھاگے ہوئے کسی شخص کو واپس لے آتا ہے میں   اسے  ماہر نقادوں   میں   لکھ دیتا ہوں   اور جسے  میں   کھرے کھوٹے کی تمیز کرنے والوں   میں   لکھ



[1]    ۔ تاریخ دمشق لابن عساکر، الرقم۵۶۳۰ فضیل بن عیاض بن مسعود،ج۴۸،ص۴۱۷

[2]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۲۰۰ مالک بن دینار، الحدیث: ۲۷۶۵، ج۲، ص۴۱۱ شعب الایمان للبیھقی، باب فی المطاعم و المشارب، فصل فی ذم کثرۃ الاکل، الحدیث: ۵۶۶۸، ج۵، ص۳۳

[3]    ۔ تفسیر الطبری، الانعام، تحت الآیۃ ۹۱، الحدیث: ۱۳۵۳۹، ج۵، ص۲۶۲ بتغیر