Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

یَذَّكَّرُوْنَ (۲۶)   (پ۸،  الاعراف:  ۲۶)) ([1]) کی تفسیر میں  مروی ہے کہ یہاں   لباس سے  علم ،   ریش سے  یقین اور لباسِ تقویٰ سے  حیا مراد ہے۔

            حضرت سیِّدُنا وہب بن منبہ یمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی سے  مروی ہے کہ’’ایمان بے لباس ہے،   اس کا لباس تقویٰ ہے،   جبکہ اس کی زینت حیا اور اس کا پھل علم ہے۔ ‘‘   ([2])

سب سے  بڑا عالم اور سب سے  بڑا اَحمق: 

            حضرت سیِّدُنا سعد بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْعَظِیْم سے  کسی شخص نے سوال کیا: ’’اہلِ مدینہ میں   سب سے  بڑا فقیہ کون ہے؟ ‘‘  تو آپ نے جواب دیا کہ جو ان میں   سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنے والا ہے۔ ([3])

            ایک عالم فرماتے ہیں   کہ اگر مجھ سے  کوئی شخص یہ پوچھے کہ سب سے  بڑا عالم کون ہے؟ تو میں   اسے  بتاؤں   گا کہ جو سب سے  بڑا متقی ہے وہی سب سے  بڑا عالم ہے اور اگر کوئی یہ پوچھے کہ اس شہر میں   سب سے  بہتر کون ہے؟ تو میں   کہوں   گا کیاتم لوگ اپنے سب سے  بڑے ناصح کو جانتے ہو؟ جب وہ کہیں   گے کہ ہاں   جانتے ہیں   تو میں   کہوں   گا کہ وہی سب سے  بہتر ہے۔ ایک قول میں   ہے کہ اگر مجھ سے  پوچھا جائے کہ لوگوں   میں   سب سے  زیادہ احمق کون ہے؟ تو میں   قاضی کا ہاتھ پکڑ کر کہوں   گا کہ یہ سب سے  بڑا احمق ہے۔  ([4])

تقویٰ ہی درست قول کا ذریعہ ہے: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

 (۱) وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ- (پ۷،  المآئدۃ:  ۱۰۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ سے  ڈرو اور حکم سنو۔

 (۲) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ (۷۰)  (پ۲۲،  الاحزاب:  ۷۰)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے  ڈرو اور سیدھی بات کہو۔

        پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے درست قول،   صحیح علم اور سماعت کا ذریعہ تقویٰ کو قرار دیا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ تاکید ہمیں   اور ہم سے  پہلے والی امتوں   کو بھی فرمائی ہے۔ چنانچہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ- (پ۵،  النسآء:  ۱۳۱)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بے شک  تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے  جو تم سے  پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے  ڈرتے رہو۔

            یہ آیتِ مبارکہ قرآنِ کریم میں   قطب کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا دارومدار بھی تقویٰ پر ہے جیسا کہ پن چکی ایک لکڑی پر گھومتی ہے۔

            حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے  مروی ہے کہ ’’وہ شخص اہلِ علم میں   کیسے  شمار ہو سکتا ہے جو آخرت کی طرف رواں   دواں   ہو مگر اس کی توجہ دنیا کی جانب مبذول ہو؟ اور وہ شخص بھی اہلِ علم میں   کیسے  شمار ہو سکتا ہے جس کا علمِ کلام کے حصول سے  مقصود محض اس کے ذریعے خبریں   دینا ہو اور اس پر عمل کرنا اس کے پیشِ نظر نہ ہو؟ ‘‘   ([5])

            حضرت سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم فرماتے ہیں   کہ میں  نے اسلاف کو پایا کہ وہ ایک دوسرے سے  ورع و تقویٰ کے سوا کچھ نہ سیکھتے تھے جبکہ آج لوگ صرف باتیں   کرنا سیکھتے ہیں  ۔ ([6])

مناظرہ و مجادلہ کی مذمت: 

            مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’جو قوم بھی ہدایت پانے کے بعد گمراہ ہوئی وہ یقیناً مجادلہ میں   مبتلا ہوئی۔ ‘‘  ([7]) اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: 

مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ (۵۸)  (پ۲۵،  الزخرف:  ۵۸)

 



[1]    ۔ ترجمۂ کنز الایمان: اے آدم کی اولاد بے شک  ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں

[2]    ۔ احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم، فضیلۃ العلم، ج۱، ص۲۰ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم، فضیلۃ العلم، ج۱، ص۱۰

[3]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۳۳ سعد بن ابراھیم، الحدیث: ۳۶۸۹، ج۳، ص۱۹۸ بدون ’’للّٰہ‘‘

[4]    ۔ منصب قضا کا حق ادا کرتے ہوئے فریقین میں فیصلہ کرنا بڑا ہی جان جوکھوں کا کام ہے اور بہت سے سلف صالحین نے اس حساس منصب سے بچنے میں ہی عافیت جانی۔ مذکورہ قول بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ ’’جو لوگوں کے درمیان قاضی بنایا گیا گویا بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔‘‘ (سنن ابي داود، کتاب الاقضیۃ، باب في طلب القضاء، الحدیث:۳۵۷۲، ج۳،ص۴۱۷) مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ چھری سے ذبح کردینے میں جان آسانی سے اور جلد نکل جاتی ہے، بغیر چھری مارنے میں جیسے گلا گھونٹ کر ، ڈبو کر، جلا کر ، کھانا پانی بند کرکے، ان میں جان بڑی مصیبت سے اور بہت دیر میں نکلتی ہے۔ ایسا قاضی بدن میں موٹا ہوجاتا ہے مگر دین اس طرح ب



Total Pages: 332

Go To