Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

پر ایمان نہ لائے اس کے پاس کوئی حکمت نہیں  ۔ ‘‘  ([1])

 

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی علم کو ایمان کا نام دیا ہے۔ آپ اپنے دوستوں   سے  فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بیٹھو تا کہ ہم کچھ دیر ایمان کی باتیں   کریں  ۔ ([2])

علم کے ذرائع : 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مومنین کی خاطر کان،   آنکھیں   اور دل بنائے اور یہ سب علم کے راستے ہیں   جن کے ذریعے علم حاصل کیا جاتا ہے،   یہ علم کے لئے اصل کی حیثیت رکھتے ہیں   اور یہ نعمت ہیں   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی مخلوق پر فرمائی ہے۔ چنانچہ،   

                                                ان نعمتوں   پر شکر ادا کرنے کے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے: 

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـاۙ-وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَۙ-لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (۷۸)  (پ۱۴،  النحل:  ۷۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہنے تمہیں   تمہاری ماؤں   کے پیٹ سے  پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں   کان اور آنکھ اور دل دیئے کہ تم احسان مانو۔

        یہاں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بندے سے  علم کی نفی فرمائی جب وہ مذکورہ نعمتوں   سے  محروم تھا اور اس کے بعد جب اسے  ان نعمتوں   سے  سرفراز فرمایا گیا تو اس کے لئے علم کا ثابت ہونا ذکر فرمایا۔ چنانچہ دوسرے مقام پر اس بندے کے اوصاف بیان کئے جو اہلِ ایمان میں   سے  نہیں  ،   نیز اس کے لئے ان نعمتوں   کے ذریعے علم حاصل ہونے کی نفی بھی فرمائی۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـٕدَةً ﳲ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْـٕدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَۙ-بِاٰیٰتِ اللّٰهِ  (پ۲۶،  الاحقاف:  ۲۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کے لئے کان اور آنکھ اور دل بنائے تو ان کے کان اور آنکھیں   اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں   کا انکار کرتے تھے۔

        پس جو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی آیات پر ایمان لائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے اس کی سماعت،   بصارت اور دل کو نفع بخش بنا دیتا ہے جو بعد میں   بندے کے لئے علم کے ذرائع بن جاتے ہیں  ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: 

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا  (۳۶)   (پ۱۵،  بنی اسرآء یل:  ۳۶

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں   بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے  سوال ہونا ہے۔

        اگر علم کان،   آنکھ اور دل کے واسطے سے  حاصل نہ ہوتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کو اس شے سے  منع نہ فرماتا جس سے  یہ لاعلم ہیں  ،   پس یہ اعضاء جس بات کو نہیں   جانتے اس سے  ممانعت کے سبب معلوم ہوا کہ وقوعِ علم ان ہی سے  ہوتا ہے کیونکہ ہر مومن صاحبِ سماعت و بصارت اور صاحبِ دل ہوتا ہے یعنی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم سے  عالم ہے۔

اس امت کی تین خصوصیات: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تین اشیاءکے باعث اس امت کو بقیہ تمام امتوں   پر فضیلت دی اور انہیں   خصوصیت عطا فرمائی ہے:

 (۱) … اس امت میں   سلسلۂ اسناد باقی ہے،   یعنی بعد میں   آنے والے پہلوں   سے  روایات و اقوال نقل کرتے ہیں   اور اس طرح یہ سلسلہ علمائے سلف کے واسطہ سے  رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک جا ملتا ہے جبکہ دوسری امتیں   صحیفے لکھا کرتی تھیں   اور جب بھی کوئی صحیفہ بوسیدہ ہوتا تو اس کی جگہ نیا وجود میں   آ جاتا،   اس طرح ان کے ہاں   علم کے اثرات باقی رہتے۔

 (۲) اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس امت کو اپنی کتاب زبانی یاد کرنے کی توفیق مرحمت فرمائی جبکہ دوسری امتیں   دیکھ کر الہامی کتابیں   پڑھا کرتی تھیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نازل کردہ کتابوں   میں   سے  قرآنِ کریم کے علاوہ آج تک کسی کو بھی حِفْظ نہیں   کیا گیا۔ البتہ! جب بُخت نصرنے بیت المقدس میں   آگ لگائی تو اس کے ساتھ ہی تورات بھی جلا ڈالی،   اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا عزیر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل میں   پوری کتاب الہام فرما دی،   یہی وجہ ہے کہ یہودیوں   کی ایک جماعتنے انہیں   پوری تورات زبانی یاد ہونے کی وجہ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے  پاک اور بلند و برتر ہے۔

 (۳) … اس اُمت کے ہر مومن سے  علمِ ایمان کے متعلق سوال کیا جا سکتا ہے اور اس کی بات نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ اس کی رائے اور علم کو مانا بھی جاتا ہے جبکہ ماضی کی امتوں   کا معاملہ یہ نہ تھا،   کیونکہ وہ علمی بات صرف احبار،   قِسِّیْسِیْن اور رُہبان کے علاوہ کسی سے  نہیں   سنتے تھے۔

            بنی اسرائیل کے مقابلے میں   اس امت کی ایک چوتھی فضیلت اور خصوصیت بھی ذکر کی جاتی ہے،   یعنی اس امت کے لوگوں   کے دلوں   میں   ایمان اس قدر پختہ ہو گا کہ شک کا شائبہ تک پیدا نہ ہو گا اور دلوں   کے گناہوں   میں   مشغول ہونے کے باوجود ان میں   شرک کی آمیزش نہ ہو گی۔ جبکہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امت کے دل شک اور شرک میں   مبتلا تھے جس طرح کہ ان کے ظاہری اعضاء گناہوں   میں   ڈوبے ہوئے تھے۔ پس یہی وجہ تھی کہ انہوں  نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے  عرض کی



[1]    ۔ المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الدعاء، باب دعاء داود النبی علیہ السلام، الحدیث: ۴، ج۷، ص۶۰ بتغیر

[2]    ۔ المصنف لابنِ ابی شیبۃ، کتاب الایمان و الرؤیا، باب ۶، الحدیث: ۷۵، ج۷، ص۲۲۷ بتغیر



Total Pages: 332

Go To