Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کچھ مراد لیا جو وہ جانتے تھے۔ البتہ! اہلِ باطننے اپنے علم کے مطابق اس حدیثِ پاک کی تاویل کی۔ میری عمر کی قسم! ظاہر و باطن دو الگ الگ علم ہیں   اور اسلام اور ایمان کی طرح دونوں   میں   سے  کوئی بھی دوسرے سے  مستغنی نہیں   بلکہ ایک کا دوسرے کے ساتھ وہی تعلق ہے جو جسم اور دل کا ہے کیونکہ ان میں   سے  کوئی بھی دوسرے سے  جدا نہیں   ہو سکتا۔

            یہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اگرچہ اقوال میں   ایک دوسرے سے  اختلاف رکھتے ہیں   مگر سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ طلبِ علم سے  قضا و فتویٰ اور اختلاف و مذاہب کا علم مراد نہیں   ہے اور نہ ہی شہنشاہِ خوش خِصال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے متعین کتبِ حدیث کا علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے،   اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مذکورہ علوم کو ایسے  لوگوں   سے  خالی نہیں   رہنے دیتا جو انہیں   یاد کر کے ان پر عمل کرتے ہیں  ۔

صاحبِ کتاب کے نزدیک فرض علوم سے  مراد: 

             (امام اجل حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی مزید فرماتے ہیں   کہ حقیقت تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے،   بہرحال)  ہمارے نزدیک رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمانِ عالیشان ’’طلبِ علم فرض ہے ‘‘  سے  مراد اسلام کے بنیادی پانچ ارکان کا علم ہے۔ اس اعتبار سے  کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا علم مسلمانوں   پر فرض نہیں  ۔ چونکہ ان ارکان پر عمل کرنا علم کے بغیر صحیح اور درست نہیں   ہو سکتا،   لہٰذا عمل سے  پہلے علم ضروری ہے کیونکہ عمل کے فرض ہونے کی وجہ سے  اس کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہو جاتا ہے۔

            جب مسلمانوں   پر ان پانچ ارکان کے علاوہ کوئی عمل فرض نہیں   تو اب ان کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہو جائے گا،   کیونکہ یہ فرض کا فرض ہے۔ پس علم توحید کا شمار بھی فرض علوم میں   ہو گا کیونکہ یہ اسلام کی ابتدا ہے یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں  ،   جو صفات اس کی ذات سے  متصل ہیں   انہیں   ثابت کرنا اور جو اس کی ذات سے  جدا ہیں   ان کی نفی کرنا۔ یہ سب کچھ کلمۂ توحید یعنی  ( لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ)   کی گواہی کے علم میں   داخل ہے۔

            علمِ اخلاص اسلام کی صحت میں   داخل ہے کیونکہ کوئی بھی خالص عمل کے بغیر مسلمان نہیں   ہو سکتا۔ چنانچہ،   

            دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’تین امور ایسے  ہیں   جن میں   ایک مسلمان کا دل خیانت نہیں   کرتا۔ ‘‘  اور پھر ان میں   سے  ایک کا تذکرہ یوں   فرمایا: ’’محض رضائے الٰہی کے لئے عمل کرنا۔ ‘‘  ([1])

            حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے علمِ توحید سے  ابتدا فرمائی اور اسے  اسلام کے لئے شرط قرار دیا۔ یہاں   یہ اصول کارفرما ہے کہ نبی ٔمُکَرَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مراد ہر وہ علم نہیں   جس کا اجماعِ امت کی بنا پر معلوم ہونا جائز ہے اور نہ ہی علمِ طب یا علمِ نجوم یا علمِ نحو یا علمِ شعر یا علمِ مغازی مراد ہیں  ،   حالانکہ ان سب کو بھی علوم ہی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بھی معلوم ہیں   اور ان کے جاننے والے انہی علوم کے علما کہلاتے ہیں  ۔ مگر شریعت نے کوئی ایسا حکم نہیں   دیا جو ان کے حاصل کرنے کا تقاضا کرتا ہو۔ امت کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مراد علمِ قضا و علمِ فتویٰ ہے نہ علمِ افتراقِ مذاہب اور اختلافِ آراء۔ حالانکہ انہیں   بھی علوم کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں   سے  صرف بعض کا حصول فرضِ کفایہ ہے مگر یہ سب فرضِ عین نہیں  ۔

            حدیثِ پاک میں   مذکور لفظ ’’علم ‘‘  ایک عام نام ہے جو تمام علوم پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’علم حاصل کرنا فرض ہے۔ ‘‘  اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ہر مسلمان پر۔ ‘‘  اور دوسری حدیثِ پاک میں   حکم فرمایا: ’’علم حاصل کرو۔ ‘‘  پس اس حکم کا اطلاق ہر شے پر ہو گا گویا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر اس شے کو علم کا نام دیا جس کا معنی ذہنوں   میں   محفوظ ہو۔ مگر صحیح یہی ہے کہ فرمانِ مصطفٰے سے  مراد یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی ارکان کا علم حاصل کرو کیونکہ ان کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔ جس کی دلیل یہ روایت ہے کہ ایک بار ایک اعرابی نے رسولِ اَکرم،   شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے بتائیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھ پر کیا فرض کیا ہے؟ ‘‘  ایک روایت میں   ہے،   اس نے عرض کی: ’’ہمیں   وہ احکام بتائیے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دے کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہمارے پاس بھیجا ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے  شہادتین،   پانچ نمازوں  ،   زکوٰۃ،   ماہِ رمضان المبارک کے روزے اور بَیتُ اللہ شریف کے حج کے متعلق بتایا۔ اس نے پھر عرض کی: ’’کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کچھ فرض ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’نہیں  ! مگر یہ کہ تو نفلی عبادت کرے۔ ‘‘  تو عرض گزار ہوا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   اس پر کچھ زائد کروں   گا نہ اس میں   کچھ کمی کروں   گا۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اگر یہ اپنی بات میں سچا ہوا تو فلاح پا گیا اور جنت میں داخل ہو گا۔‘‘([2])  

معلوم ہوا کہ ارکانِ خمسہ کا علم فرض ہے،   اس لحاظ سے  کہ ان کا معلوم فرض ہے کیونکہ کوئی بھی عمل،   علم کے بغیر نہیں   پایا جاتا۔ جیسا کہ اس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

 (۱) اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ (۸۶)  (پ۲۵،  الزخرف:  ۸۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہاں   شفاعت کا اختیار انہیں   ہے جو حق کی گواہی دیں   اور علم رکھیں   ۔

 (۲) حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (پ۵،  النسآء:  ۴۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کہ جو کہو اسے  سمجھو ۔

(۳) هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَاؕ-اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنّ  (پ۸،  الانعام:  ۱۴۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے  ہمارے لئے نکالو تم تو نِرے گمان کے پیچھے ہو۔

 



[1]    ۔ الترغیب و الترھیب، کتاب العلم، الترغیب فی سماع الحدیث، الحدیث:۲، ج۱، ص۶۱

[2]    ۔ صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب الزکاۃ من الاسلام، الحدیث: ۴۶ /  ۱۸۹۱، ص۶ /  ۱۴۸



Total Pages: 332

Go To