Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ  (پ۱۲،  یوسف:  ۲۱)                             تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اوراللہ  اپنے کام پر غالب ہے۔

اعمال کی تین اقسام: 

        علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے بندوں   کے اعمال کی تفصیل ذکر کی ہے اور امر اور ارادہ میں   فرق کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ بندوں   کے اعمال کی تین قسمیں   ہیں  :  (۱) … فرض  (۲) … نَفْل اور  (۳) … معصیت۔

        مزید فرماتے ہیں   کہ فرض  (۱) … اللہ عَزَّ وَجَلَّکے امر  (۲) … اس کی محبت اور  (۳) … مشیت سے  تعلق رکھتا ہے۔

        یہ تینوں   معانی فرائض میں   جمع ہیں  ،   لیکن نَفْل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے امر سے  نہیں  ،   کیونکہ اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے لازم قرار نہیں   دیا اور نہ ہی اس کے چھوڑنے پر کوئی سزا ہے،   البتہ! اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت اور اس کی مشیت ضرور کار فرما ہیں   کیونکہ اسنے ہی اسے  مشروع و مستحب قرار دیا ہے اور اسی طرح معصیت بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے امر سے  کوئی تعلق نہیں   رکھتی کیونکہ اسنے اسے  اپنے رسولوں   کی زبان سے  مشروع قرار نہیں   دیا اور نہ ہی اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کارفرما ہے اس لئے کہ اسنے اسے  پسند کیا نہ اسے  بجا لانے کا حکم دیا اور نہ ہی اسے  مستحب قرار دیا۔ البتہ! اس میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مشیت ضرور کارفرما ہے کہ جس کی عظمت اس قدر بڑی ہے کہ کوئی بھی شے اس کے ارادے سے  باہر نہیں   جس طرح کہ کوئی شے اس کے علم سے  خارج نہیں  ۔

’’حول ‘‘  اور ’’قوۃ ‘‘  کی وضاحت: 

            ساری امت کا اس قول پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجو چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں   ہوتا۔ ‘‘  نیز امت کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا نہ تو نیکی کرنے کی کوئی طاقت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی کوئی قوت۔ ‘‘ 

        یہ اصول ہر شے میں   کار فرما ہے،   یہ نہیں   کہ بعض میں   ہو اور بعض میں   نہ ہو۔ ’’حول ‘‘  کا لغوی معنی حرکت ہے،   عام طور پر عرب جب دور سے  کسی شخص کو دیکھتے ہیں   اور گمان کرتے ہیں   کہ وہ کوئی انسان یا کوئی درخت یا چٹان ہے تو کہتے ہیں  ،   اس کی جانب دیکھو،   اگر وہ حرکت کرے تو انسان ہے۔جبکہ’’ قوۃ ‘‘  سے  مراد حرکت کے بعد ٹھہر جانا ہے،   جو کہ صبر کی ابتدا ہے یہاں   تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قوت سے  فعل ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کی وضاحت میں  دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ کسی میں   یہ طاقت نہیں   کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی  حفاظت کے بغیر اس کی معصیت و نافرمانی سے  بچ سکے اور نہ ہی کسی میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مدد کے بغیر اس کی فرمانبرداری کرنے کی قوت ہے۔ ‘‘   ([1])

        احکام میں   ان معانی کی یہی تفصیل ہے،   یعنی علم کا ظاہر ہونا،   تقدیر کا فرض ہونا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکا جبر کا مالک ہونا کہ اسنے ان کے لئے جو چاہا پیدا فرمایا اور انہیں   جدھر چاہے گا لوٹا دے گا جیسا کہ جس صورت میں   چاہا پیدا فرمایا۔ چنانچہ اس کا فرمانِ فرمالیشان ہے:

فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ (۱۲)  (پ۲۴،  المؤمن:  ۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  تو حکم  اللہ  کیلئے ہے جو سب سے  بلند بڑا۔

        وہ واحد و قہار ہے اپنے بندوں   پر جیسے  چاہتا ہے غالب آتا ہے اور جو چاہتا ہے ان پر جاری کر دیتا ہے،   اسی کے لئے حجت ِ بالغہ،   عزتِ قاہرہ اور قدرتِ نافذہ ہے،   اسی کے لئے وصف ِ ربوبیت کے ساتھ اور حکمِ جبریت کے ساتھ سبقت لے جانے والی مشیت ہے۔ بندوں   پر لازم ہے کہ وہ سرتسلیم خم کر دیں  ،   اطاعت شعاری اپنائیں   اور وصفِ عبودیت و حقِ بندگی کی بنا پر چار و ناچار کوشش کرتے رہیں  ۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں   ہے: 

 (1)  اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْؕ-هُوَ رَبُّكُمْ- (پ۱۲،  ھود:  ۳۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جبکہاللہ  تمہاری گمراہی چاہے وہ تمہارا رب ہے۔

 (2)  اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ- (پ۷،  المآئدۃ:  ۱۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اگر تو انہیں   عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں  ۔

 (3)  وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآىٕرٌؕ-وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ (۹)  (پ۱۴،  النحل:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بیچ کی راہ ٹھیک اللہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا۔

 (4)  لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُؕ- (پ۲۱،  الروم:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: حکم اللہ  ہی کا ہے آگے اور پیچھے۔

٭٭٭

فصل:  31

 



[1]    ۔ السنن الصغریٰ للبیھقی ، مقدمۃ، باب استعانۃ العبد    الخ، ج۱، ص۱۲

 



Total Pages: 332

Go To