Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        موحدین کے نزدیک ساری کائنات تبدیل ہونے کے لحاظ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت میں   آندھی میں   اڑنے والے کسی پرندے کے پر کی طرح ہے،   جسے  قدرت،   قادرعَزَّ وَجَلَّکی مشیت کے مطابق بدلتی رہتی ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت میں   ترتیب ہے نہ مسافت و دوری اور نہ ہی یہ کسی زمان و مکان کی محتاج ہے،   بلکہ ملک سے  جس شے کا اظہار ہوا اور آنکھوں   کے لئے مکان و زمان ثابت ہوئے تو اس کا سبب محض حکمت،   صنعت اور پختگی کے اوصافِ حمیدہ ہیں   اور ملکوت سے  جو مخفی رہا اور دلوں   کی بصارت میں   پھرتا رہا تو اس کا سبب قدرت کی لطافت اور غلبۂ سلطان ہے۔ چنانچہ،   

٭ہر بندے کو مشاہدۂ قدرت سے  بقدرِ توحید حصہ ملتا ہے۔

٭توحید سے  بندے کا حصہ یقین میں   تقسیم کے مطابق ہوتا ہے۔

٭یقین بقدرِ قرب حاصل ہوتا ہے۔

٭قرب کا اعتبار اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس کے دل کے قریب ہونے سے  ہوتا ہے۔

٭اس کے دل کو قربِ خداوندی کی دولت اس کے علمِ معرفت کے مطابق ملتی ہے۔

٭بندے کو علمِ معرفت میں   وسعت اس کے ایمان کی زیادتی کے مطابق حاصل ہوتی ہے۔

٭ایمان کی زیادتی اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و احسان کے مطابق ہوتی ہے۔

٭بندے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے احسان کا اندازہ اس کے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توجہ حاصل کرنے اور اس کی خاطر ہر شے قربان کر دینے سے  ہوتا ہے۔

        الغرض عرفانِ الٰہی ان تمام باتوں   سے  بالاتر ہے اور یہی قدرت کا ایسا راز ہے جس پر نہ صرف حجاب پڑا ہوا ہے بلکہ وہ ایک مخفی خزانہ ہے۔ چنانچہ،   

٭ہر بندہ اپنی غفلت کے اعتبار سے  جاہل ہوتا ہے۔

٭اس کی غفلت بقدرِ حبِ دنیا ہوتی ہے۔

٭حبِ دنیا کا اعتبار اس کی خواہشِ نفس کے قوی ہونے سے  لگایا جاتا ہے۔

٭خواہشِ نفس کی قوت کا اندازہ اس پر نفس اور اس کی صفات کے غلبہ سے  ہوتا ہے۔

٭نفسانی صفات کے غلبہ کی قوت ضعفِ یقین سے  پہچانی جاتی ہے۔

٭ضعفِ یقین اس پر پڑے دبیز حجاب اور اس کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے درمیان حائل بُعد سے  معلوم ہوتا ہے۔

٭یہی حجاب اور بُعد در حقیقت کبر اور قساوتِ قلبی کا باعث بنتے ہیں  ۔

٭قساوتِ قلبی گناہوں   میں   منہمک رہنے سے  پیدا ہوتی ہے۔

٭گناہوں   میں   ڈوبے رہنے کا انجام اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے  اعراض کرنا اور اس کی ناراضی مول لینا ہے۔

٭یہ اعراض و ناراضی بندے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نظرِ عنایت کی کمی سے  پیدا ہوتی ہے۔

٭ان سب سے  بالاتر وہ رازِ قدرت ہے جس سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوق کو غافل کر کے اپنے لئے خاص فرما رکھا ہے۔پس یہ ایسے  اوصافِ مذمومہ ہیں   جن سے  بندے کو آزمایا جاتا ہے اور یہ بندے کے ان اوصافِ حمیدہ کے برعکس ہیں   جن کے باعث اس پر انعامات کئے جاتے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا (پ۲،  البقرۃ:  ۱۴۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی کی طرف منہ کرتا ہے۔

            الغرض بندے کے دل میں   نفسانی خواہشات اسی قدر جنم لیتی ہیں   جس قدر شیطان انہیں   بندے کے لئے آراستہ و پیراستہ کر کے اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور جس قدر وہ اس پر غالب ہوتا ہے۔

جب ہادی ہی گمراہ کر دے تو؟

            بندے کی ہدایت و گمراہی کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکے چند فرامینِ مبارکہ یہ ہیں  :

 (1)  فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ-وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جسے  اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے  گمراہ کرنا چاہے  (پ۸،  الانعام:  ۱۲۵)

اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کردیتا ہے۔

 (2) اِنْ  یَّنْصُرْكُمُ  اللّٰهُ  فَلَا  غَالِبَ  لَكُمْۚ-وَ  اِنْ  یَّخْذُلْكُمْ  فَمَنْ  ذَا  الَّذِیْ  یَنْصُرُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِهٖؕ-  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۶۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں   آسکتا اور اگر وہ تمہیں   چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے۔

 



Total Pages: 332

Go To