Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کرنے والا ہے۔

        بعض اوقات نفس اور خواہشِ نفس کی جانب خیالِ شر اس تسلسل سے  آنے لگتے ہیں   کہ فرشتے کی جانب سے  کوئی بھی نیکی کا خیال پیدا نہیں   ہوتا،   یہ بعد و دوری اور قساوتِ قلبی کی انتہا کی علامت ہے اور بعض اوقات روح اور فرشتے کی جانب سے  خیر و بھلائی کے خیالات اس تسلسل سے  آنے لگتے ہیں   کہ بندہ نفسانی خواہش اور نفس کے خیالات سے  محفوظ رہتا ہے،   یہ قرب کی علامت ہے جو کہ مقربین کا حال ہے۔

ظاہر خیر باطن شر:

        بعض اوقات شیطانی خیال اور وسوسے  نیکی و بھلائی کی شکل میں   وارد ہوتے ہیں   جس کا سبباللہ   عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  بندے کا امتحان،   شیطانی حیلہ سازی اور نفسانی مکر وفریب ہوتا ہے،   شیطان کا اس نیکی سے  بھی مقصود در حقیقت برائی ہی ہوتا ہے یا وہ چاہتا ہے کہ بندے کو کسی دوسرے گناہ کی جانب متوجہ کر دے یا اسے  اس نیکی میں   مصروف کردے تا کہ وہ اس کی وجہ سے  کسی فرض یا واجب کام کو چھوڑ دے،   یا اس کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ بندہ اس نیکی کے کام میں   مشغول ہو کر اس سے  افضل کام سے  غافل ہو جائے۔ اس خیال کا ظاہر تو نیکی پر دلالت کرتا ہے لیکن باطن میں   یہ گناہ ہے،   اس کی ابتدا تو نیکی سے  ہوتی ہے لیکن اختتام گناہ پر ہوتا ہے اور شیطان کا مقصود بھی اس نیکی سے  در حقیقت اس کا باطن اور اس کا آخر ہی ہوتا ہے۔

            اس صورت میں   نفس کی شہوت اس کی خواہش اور امید میں   مضمر ہوتی ہے کہ جو اس کے ظاہر اور اس کی ابتدا کو آراستہ و پیراستہ کر کے اس پر نیکی کا لبادہ ڈال دیتے ہیں  ۔ یہ کیفیت اتنی دقیق ہے جس سے  عموماً عاملین کو آزمایا جاتا ہے اور اس کے باطن سے  صرف علمائے کرام ہی واقف ہوتے ہیں  ۔

        فرشتے کی جانب سے  جب بھی خیالات وارد ہوتے ہیں   وہ ہر حال میں   صرف اور صرف واضح اور خالص نیکی پر دلالت کرتے ہیں   کیونکہ دھوکا و فریب اور حیلہ سازی فرشتوں   کے اوصاف نہیں  ۔ البتہ! جب قساوتِ قلبی شدت اختیار کر جائے اور بندے کی معصیت دائمی ہو جائے تو دل میں   فرشتوں   کے خیال آنا بند ہو جاتے ہیں   اور دل اور لعنتی شیطان کے وسوسوں   کے درمیان راستہ خالی ہو جاتا ہے۔ اس طرح شیطان خواہشِ نفس کے ذریعے دل میں   اکیلا براجمان ہو کر اس پر غالب آ جاتا ہے اور بندے کا ہم نشیں   بن جاتا ہے۔ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  پناہ مانگتے ہیں   کہ وہ ہمیں   خود سے  دور فرما کر خیر وبھلائی اور رشد و ہدایت سے  محروم کر دے۔

شرفِ ولایت کا حصول: 

            بندے کو ہمیشہ مقامِ ایمان میں   فرشتے کے الہام کی معیت حاصل ہوتی ہے اور جب اس مقام سے  بلند ہو کر مقامِ یقین پر فائز ہوتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  انوارِ روح کے واسطہ سے  اپنی ولایت کا شرف عطا کرتا ہے،   پس روح،   القائے حق کا محل بن جاتی ہے یہاں   تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  انوارِ روح کے واسطہ سے  بندے پر ایسے  اسرار وارد ہوتے ہیں   جن سے  کوئی فرشتہ بھی آگاہ نہیں   ہوتا اور ایسا اس وقت ہی ممکن ہوتا ہے جب نفس کی خواہشات فنا ہو جائیں   اور ان میں   سے  کچھ بھی باقی نہ بچے،   نفس سمٹ کر روح میں   مدغم ہو جائے کہ اس کا کوئی تقاضا ظاہر نہ ہو۔ پس اس کے بعداللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کو ایسے  نورِ یقین کی دولت سے  سرفراز فرماتا ہے جو اس کی خاطر جبروت کے مشاہدوں   کے ذریعے حجاب میں   پڑے ہوئے غیب کے خزانوں   سے  روشن ہوتا ہے اور بندہ حق کے ذریعے حق کا اور اپنی ذات کے ختم ہو جانے اور روحانی طاقت حاصل ہونے کے ذریعے غیب کا مشاہدہ کرتا ہے۔

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)    اس کے بعد کے اسرار سے  پردہ ہٹانا مناسب نہیں   سوائے ان افراد کے جو اس کے اہل ہوں   یا جو اس کے متعلق سوال کریں   اور یہ صورت مقامِ توحید میں   ہی حاصل ہوتی ہے اور یہی مقربین کے حصے ہیں  ۔

معانی کے تفصیلی بیان کا تذکرہ

ہر عمل میں   مؤثر معانی: 

        عمل خواہ قلیل ہو اس میں   تین معانی کا ہونا ضروری ہے جن کے ذریعےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس عمل کو مؤثر فرماتا ہے:

 (1) سب سے  پہلے توفیق ہے یعنی بندے اور چیز کے درمیان موافقت کا جمع ہونا۔

 (2) اس کے بعد قوت ہے جو اس حرکت کے ثبات کا نام ہے جو عقل کی ابتدا ہے

 (3) تیسری شے صبر ہے یعنی اس فعل کی تکمیل کہ جس کے ذریعے وہ مکمل ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان تینوں   اصولوں   کا تذکرہ قرآنِ کریم میں   فرمایا ہے جو ہر عمل کا مظہر ہیں  ۔ چنانچہ،   

 (1)  وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ- (پ۱۲،  ھود:  ۸۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور میری توفیق اللہ  ہی کی طرف سے  ہے۔

 (2)  مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِۚ- (پ۱۵،  الکھف:  ۳۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جو چاہےاللہ  ہمیں   کچھ زور نہیں   مگر اللہ کی مدد کا۔

 (3)  وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ (پ۱۴،  النحل :  ۱۲۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اے محبوب تم صبر کرواور تمہارا صبر اللہ  ہی کی توفیق سے  ہے۔

دلوں   کی تبدیلی اور ان کی مثال: 

 



Total Pages: 332

Go To