Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            کسی تابعی سے  منقول ہے کہ جس نے اپنے علم کے دسویں   حصہ پر عمل کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  وہ علم عطا فرمائے گا جس سے  وہ جاہل ہے۔ ([1])  اور حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  منقول ہے کہ آج کے زمانے میں   اپنے علم کے دسویں   حصے پر عمل ترک کر دو تو ہلاک ہو جاؤ گے اور عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں   جو شخص اپنے علم کے دسویں   حصہ پر عمل کرے گا نجات پا جائے گا۔ ([2])

        منقول ہے کہ بندہ عبادت و اجتہاد میں   زیادتی کرتا ہے تو اس کا دل بھی قوت و نشاط میں   زیادہ ہو جاتا ہے اور جب بھی بندہ اکتاتا اور عبادت سے  خالی ہوتا ہے تو دل بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

سبقت لے جانے والے مفردون: 

        خیالِ یقین کا ظہور عینِ یقین سے  ہوتا ہے۔ پس جب بندہ زبان سے  اس کا اظہار کرتا ہے تو فوراً اسے  پا لیتا ہے کیونکہ وہ اسی کے ساتھ خاص ہوتا ہے،   وہی اس کی مراد و مقصود اور محبوب ودوست اور مطلوب ہے۔ ایک عارف یا خائف یا محب کے علاوہ کوئی بھی اس مرتبہ پر فائز نہیں   کہ اسے  یہ خیالِ یقین اس طرح حاصل ہو۔ ان کے علاوہ باقی تمام لوگ اپنے حال کے مطابق حجاب زدہ،   اپنی عادات کے مطابق مطلوب،   اپنے مقام کی جانب دیکھنے والے اور اپنے راستے میں   اپنی عقل کے مطابق چلنے والے ہیں  ۔

        عینِ یقین کے ذریعے سامنا کرنے والے اور علمِ صدیقین کے سبب کشف رکھنے والے عارفین ہی سوار ہو کر چلنے والے اور دیوانہ وار سبقت لے جانے والے ہیں   کہ اذکارنے ان سے  گناہوں   کے بوجھ اتار دیئے ہیں  ۔ چنانچہ،   

            ایک حدیث ِ پاک میں   ہے: ’’چلو! چلنے میں   مفردون سبقت لے گئے ہیں  ۔ ‘‘   ([3]) اور ان مفردون سے  مراد وہ لوگ ہیں   جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تنہائی کی دولت عطا فرمائی ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ تنہائی میں   بھی احکامِ خداوندی کی خوب حفاظت فرماتے ہیں   جس طرح کوئی عورت اپنے خاوند کی عدم موجودگی میں   اس کے حقوق کی اس طرح حفاظت کرتی ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  حکم دیا ہے۔

            ایک روایت میں   ہے کہ پوچھا گیا:  ’’یہ مفردون کون ہیں  ؟  ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر میں   کھوئے ہوئے ہیں   اور ذکرنے ان کے گناہوں   کے بوجھ اتار دیئے ہیں  ،   پس قیامت کے دن وہ اس حال میں   آئیں   گے کہ ہلکے پھلکے ہوں   گے۔ ‘‘  ([4])

            جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مذکورہ صفات رکھنے والے اپنے بندوں   کو دوسروں   سے  الگ کر دیا تو انہوں  نے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اس کے ماسوا سے  الگ کر دیا۔ پس اللہعَزَّ وَجَلَّنے انہیں   یاد کیا تو اس کا یہ یاد کرنا ان کے ذکر پر غالب آ گیا اور ان کے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نور سے  فنا ہو گئے گویا کہ ان کا ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر میں   شامل ہو گیا اور اب وہ ان کا ذکر کرنے والا ہے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت کے جاری ہونے کے محل کی حیثیت رکھتے ہیں  ۔ پس اس ذکر کا نہ تو وزن کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس نیکی کی کیفیت لکھی جا سکتی ہے،   اگر ترازو کے ایک پلڑے میں   زمین و آسمان رکھ دیئے جائیں   تب بھی ان کا ذکر وزنی ہو جائے۔ چنانچہ یہی وہ لوگ ہیں   جن کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: 

 (۱) … جسے  میں   اپنی بارگاہ میں   حاضری کا شرف عطا کرتا ہوں   وہ جان لیتا ہے کہ میں   اسے  کیا دینا چاہتا ہوں  ؟

  (۲) … اگر زمین و آسمان ان کے پلڑے میں   رکھ دیئے جائیں   تو میں   اسے  بھی ان کے لئے کم جانتا ہوں  ۔

 (۳) … جو سب سے  پہلی شے میں   انہیں   عطا فرماتا ہوں   یہ ہے کہ ان کے دلوں   میں   اپنا نور ڈال دیتا ہوں   جس کے سبب وہ میری خبریں   دیتے ہیں   جیسے  میں   ان کی خبریں   دیتاہوں  ۔ ([5])

علمِ معرفت اور نورِ یقین: 

        ظاہری توحید یہ ہے کہ ہر شے میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے اور ہر شے کے ذریعے اسے  ایک مانا جائے بلکہ ہر شے سے  قبل اس کے ہونے کی گواہی دی جائے۔ علمِ توحید کی کوئی انتہا نہیں   اور نہ ہی موحدین پر ہونے والی بخششوں   کی زیادتی کی کوئی حد ہے۔ البتہ! موحدین کی چند حدیں   ایسی ہیں   جن کے سایہ تلے انہیں   ٹھہرایا جاتا ہے اور کچھ حدیں   ایسی بھی ہیں   جن سے  ان کا صدور ہوتا ہے تو ان مقامات کو ہی ان پر انعامات کی زیادتی کا محل بنا دیا جاتا ہے۔ وہ اس زیادتی کے محل کی وسعتوں   میں   آگے بڑھتے ہیں   تو انہیں   ایسے  علوم میں   وسعت سے  نوازا جاتا ہے جن کے ذریعے وہ ان مقامات سے  آگے ابد الآباد کا مشاہدہ کرنے لگتے ہیں   کہ جس کا کوئی دوسرا بدل و مدد گار نہیں   ہے مگر بندے کے لئے علمِ توحید کے مشاہدہ تک بغیر علمِ معرفت کے رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں  ۔

            علمِ معرفت در حقیقت نورِ یقین ہے اور نورِ یقین اس وقت تک عطا نہیں   کیا جاتا جب تک کہ اعضاء و جوارح نیک اعمال کے ذریعے خلوص کے پیکر نہ بن جائیں  ۔ جیسا کہ دودھ کو مشکیزے میں   خوب ہلایا جاتا ہے یہاں   تک کہ خالص مکھن ظاہر ہو جاتا ہے۔ جو یقین کی منزل ہے۔ یاد رکھیں   یہ مکھن نہ تو سالکینِ راہِ طریقت کا مقصود ہے اور نہ ہی صدیقین کی چاہت،   اس لئے کہ اس کے حجاب میں   اس سے  بھی صاف و شفاف اور خالص شے موجود ہے کیونکہ یہ مکھن اس وقت تک پگھلایا جاتا ہے جب تک کہ اس سے  خالص گھی نہ حاصل ہو جائے جو اس کی اصل اور انتہا ہے۔

 



[1]     الجامع  لاخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب، باب النیۃ فی طلب الحدیث، الحدیث: ۳۴، ج ۱، ص ۹۰

[2]     جامع الترمذی، ابواب الفتن، باب فی العمل فی الفتن    الخ، الحدیث: ۲۲۶۷، ص ۱۸۳۰۔حذیفۃ بدلہ ابو ھریرۃ

[3]     شعب الایمان للبیھقی،باب فی محبۃ اللہ عزوجل،الحدیث: ۵۰۶،ج۱،ص۳۹۰

[4]     المرجع السابق

[5]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ترتیب الاوراد فی الاوقات، الباب الثانی، ج۵، ص ۵۴۸



Total Pages: 332

Go To