Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

مثقال یا چوتھائی مثقال ذرہ یا ایک جو کے ہموزن یا ایک ذرے جتنا ایمان ہو۔ ‘‘  ([1])

            پس وہ ایمان میں   ذرے سے  لے کر ایک مثقال کے درمیان تک فرق رکھنے والے مومنین پائیں   گے جو سب کے سب جہنم میں   داخل ہو چکے ہوں   گے مگر جہنم میں   ان سب کے درجات مختلف ہوں   گے۔

        مذکورہ حدیث ِ پاک میں   اس بات پر دلیل موجود ہے:

 (1) … جس شخص کے دل میں   دینار بھر ایمان ہو گا وہ اسے  جہنم میں   داخل ہونے سے  نہ روک سکے گا،   کیونکہ اسنے بڑے بڑے گناہوں   کا ارتکاب کیا ہو گا۔

 (2) … جس شخص کے دل میں   ایک ذرہ کے برابر ایمان ہو گا وہ ہمیشہ جہنم میں   نہ رہے گا کیونکہ اس کا تعلق یقین کی تھوڑی سی مقدار کے ساتھ قائم ہے۔

 (3) … جس شخص کا ایمان ایک دینار سے  زائد ہو گا اس پر آگ کبھی بھی غالب نہ آ سکے گی۔ بلکہ وہ نیک لوگوں   میں   شمار ہو گا۔

 (4) … جس کا ایمان ایک ذرے سے  کم ہو گا وہ کبھی آگ سے  نہ نکل پائے گااگرچہ ظاہر میں   اس کا نام اور اس کی علامات مومنوں   جیسی ہی ہوں  ،   کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے علم میں   فاجر منافقین میں   سے  ہے۔

                                                 اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسے  لوگوں   کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ (۱۴)  (پ۳۰،  الانفطار:  ۱۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بے شک  بدکار ضرور دوزخ میں   ہیں  ۔

            اور پھر اس کے بعد ارشا دفرمایا:

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىٕبِیْنَؕ (۱۶)  (پ۳۰،  الانفطار:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اس سے  کہیں   چُھپ نہ سکیں   گے۔

            اس کے بعد  (جب جہنمیوں   کو جہنم سے  نکال کر جنت میں   داخل کیا جائے گا)  تو جن کا ایمان مثقال اور ذرّے کے برابر ہو گا ان کے درجات جنت میں   مختلف ہوں   گے،   جن کا ایمان بوزنِ مثقال ہو گا وہ ذرے کے برابر ایمان رکھنے والوں   سے  بلند و برتر مقامِ اعلیٰ علیین میں   ہوں   گے اور بلند درجات والے ان مقامِ اعلیٰ علیین پر بسنے والوں   سے  اس قدر بلند ہوں   گے جیسا کہ آسمان کے افق پر کوئی ستارہ بلند ہو۔ البتہ سب کے سب جنت میں   جمع تو ہوں   گے لیکن ان کے درجات میں   فرق ہو گا۔ چنانچہ،   

            سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شے اپنے جیسی کسی شے سے  ہزار گنا بڑھ کر نہیں   ہے سوائے انسان کے۔ ‘‘  ([2])

اہل یقین اور عام مومنین کے ایمان میں   فرق: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکیعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  میری عمر کی قسم! بے شک  ایک اہلِ یقین کا دل ایک ہزار مسلمانوں   کے دل سے  بہتر ہے کیونکہ اس کا ایمان ایک سو مومنوں   کے ایمان پر فوقیت رکھتا ہے اور اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا علم ایک سو مسلمانوں   کے علم سے  بڑھ کر حاصل ہے۔ منقول ہے کہ تین سو ابدالوں   میں   سے  ہر

 ایک تین سو مومنوں   کے برابر ہے۔

        حضرت سیِّدُنا ابو محمد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الصَّمَد  فرمایا کرتے تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بعض مومنین کو جبلِ اُحد کے وزن کے برابر ایمان عطا فرمایا اور بعض کو ایک ذرے جتنا عطا فرمایا ہے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ  اَنْتُمُ  الْاَعْلَوْنَ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ (۱۳۹)  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۳۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تمہیں   غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔

        ایمان کی بلندی کی چونکہ کوئی انتہا نہیں   لہٰذا ہر دل اپنے ایمان کی مقدار بلندی پر فائز ہو گا۔ اسی لئے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کو عام مومنین پر درجات کے لحاظ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں   رفعت سے  نوازا گیا ہے:

یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- (پ۲۸،  المجادلۃ:  ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایماناللہتمہارے ایمان والوں   کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔

            حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے مذکورہ آیتِ مبارکہ میں   سے  (وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ)   کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  عام مومنین سے  سات سو درجے بلند ہوں   گے اور ہر دو درجوں   کے درمیان آسمان و زمین کے برابر فاصلہ ہو گا۔ ([3])

علم کی فضیلت پر مبنی تین احادیثِ مبارکہ: 

 



[1]     احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان الفرق المقاصین بمثال محسوس،ج ۳،ص ۲۷

[2]     المعجم الکبیر، الحدیث: ، ج ۶ ، ص ۲۳۸

[3]     احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان الفرق  بین المقامین    الخ،ج۳،ص ۲۸

                                                اتحاف السادۃ المتقین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان الفرق بین المقامین    الخ، ج ۸، ص۴۷۲



Total Pages: 332

Go To