Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(3) … شیطان انسان کے جسم میں   خون کی طرح دوڑتا ہے۔ ([1])  

 (4) … ارشاد فرمایا: ’’تم میں   سے  ہر ایک کے لئے ایک شیطان ہے۔ ‘‘  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کا بھی؟ ‘‘  تو ارشاد فرمایا:  ’’ہاں   میرا بھی،   مگراللہ عَزَّ وَجَلَّنے میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا ہے۔ ‘‘  ([2])

دل کے دو رفیق: 

            حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ بندے کے دل میں   دو رفیق ہیں  ،   ایک رفیق فرشتہ ہے جو خیر و بھلائی کا وعدہ کرتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے جبکہ دوسرا شیطانِ لعین ہے جو شر کا وعدہ کرتا ہے،   حق بات کو جھٹلاتا ہے اور خیر و بھلائی سے  روکتا ہے ۔ ([3])

        حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  سے  منقول ہے کہ دل میں   دو خیال گردش کرتے ہیں  : ایک خیال اللہعَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  ہوتا ہے اور ایک شیطان کی جانب سے ،  اللہعَزَّ وَجَلَّاس بندے پر رحم فرمائے جو دل میں   پیدا ہونے والے خیال کے وقت توقف کرتا ہے،   اگر وہ خیال اللہعَزَّ وَجَلَّکے لئے ہو تو اس پر عمل بجا لائے اور اگر شیطان کی طرف سے  ہو تو اس سے  چھٹکارے کی کوشش کرے۔  ([4])

ذکر ِ الٰہی کے وقت دل پر شیطانی کیفیت اور وسوسوں   کا محل: 

        حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَاحِد اللہعَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان (مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴)   (پ۳۰،   الناس:  ۴) )   ([5])  کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ شیطان انسان کے دل پر پھیلا ہوتا ہے،   جب بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ کر سکڑ جاتا ہے اور جب بندہ ذکر سے  غافل ہوتا ہے تو وہ اس کے دل پر پھیل جاتا ہے۔  ([6])      حضرت سیِّدُنا عکرمہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ مرد میں   وسوسوں   کا محل اس کا دل اور اس کی آنکھیں   ہوتی ہیں   اور عورت میں   وسوسوں   کا محل صرف اس کی آنکھیں   ہوتی ہیں   بشرطیکہ وہ سامنے ہو اور جب منہ موڑے ہو تو وسوسوں   کا محل اس کی سرین ہوتی ہے۔ ([7])

وسوسہ انگیزی اور نقب زنی میں   مماثلت: 

            حضرت سیِّدُنا جریر بن عبدہ عدوی  عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا علا بن زیادرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  دل میں   وسوسے  آنے کی شکایت کی تو انہوں  نے ارشاد فرمایا: ’’دل میں   آنے والے وسوسے  کی مثال اس نقب جیسی ہے جس سے  چور گزر کر گھر میں   داخل ہوتے ہیں  ،   اگر وہاں   کوئی چیز پائیں   تو اٹھا لیتے ہیں   ورنہ ویسے  ہی چھوڑ کر چل دیتے ہیں  ۔ ([8])

دل کی سیاہی: 

        حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بے مثال ہے: ’’بندہ جب کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک نقطہ لگ جاتا ہے ،   اب اگر وہ اس گناہ سے  الگ ہو جائے اور بخشش چاہے اور توبہ کر لے تو اس کا دل اس نقطے سے  صاف ہو جاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو دل میں   وہ نقطہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں   تک کہ اس کے سارے دل کو گھیر لیتا ہے۔ ‘‘  ([9])

            یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: 

كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (۱۴)  (پ۳۰،  المطففین:  ۱۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کوئی نہیں   بلکہ ان کے دلوں   پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں  نے۔

        حضرت سیِّدُنا جعفر بن برقان  عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَنَّان   فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحۡمٰن کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ’’بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں   ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے،   اگر توبہ کر لے تو وہ اس کے دل سے  مٹا دیا جاتا ہے اور بندۂ مومن کا دل آئینہ کی مثل صاف و شفاف دکھائی دیتا ہے،   شیطان جس طرف سے  بھی آتا ہے وہ اسے  دیکھ لیتا ہے،   لیکن جو بندہ مسلسل گناہوں   میں   مصروف رہے،   وہ جب بھی کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں   ایک سیاہ نقطہ زائد ہو جاتا ہے اور ایسا ہوتا رہتا ہے یہاں   تک



[1]     صحیح البخاری ، کتاب الاحکام، باب الشھادۃ تکون عند   الخ ، الحدیث: ۷۱۷۰، ص ۵۹۸

[2]     الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ ، باب من صفتہ صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۶۳۷۲ ج ۸ ، ص ۱۱۰

[3]     جامع الترمذی ، ابواب تفسیر القراٰن ، باب ومن سورۃ البقرۃ، الحدیث: ۲۹۸۸، ص ۱۹۵۲

                                                 احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان تسلط الشیطان    الخ ، ج ۳،  ص ۳۳

[4]     احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان تسلط الشیطان    الخ ، ج ۳، ص ۳۳

[5]     ترجمۂ کنز الایمان:اس کے شر سے جو دل میں بُرے خطرے ڈالے اور دبک رہے۔

[6]     بحرالعلوم، پ ۳۰، الناس ، تحت الایۃ ۴ ، ج ۳ ۳، ص ۶۱۲

[7]     التمھید لما فی المؤطأ من المعانی والمسانیدلابن عبدالبر، ابو الزناد،ج ۷ ، ص ۳۹۱

[8]     احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان تسلط الشیطان    الخ ،ج ۳ ، ص ۳۴

[9]     جامع الترمذی، ابواب تفسیر القراٰن ، باب ومن سورۃ ویل للمطففین ، الحدیث:۳۳۳۴، ص ۱۹۹۴



Total Pages: 332

Go To