Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اس شے کو مار ڈالا جس سے  انہیں   اندیشہ لاحق ہوا کہ وہ انہیں   مار ڈالے گی اور ہر اس شے سے  کنارہ کش ہو گئے جس کے متعلق انہیں   معلوم ہوا کہ وہ انہیں   عنقریب چھوڑ دے گی۔ ان کا دنیا سے  کچھ پانا ہی کچھ کھونا بن گیا،   ان کی فرحت محرومی بن گئی۔ دنیا کا جو بھی معاملہ انہیں   در پیش آیا انہوں  نے اسے  پسِ پشت ڈال دیا اور جو معاملہ انہیں   ناحق پیش آیا انہوں نے اسے  بھی پیٹھ پیچھے پھینک دیا،   دنیا ان کے ہاں   پرانی ہوئی تو انہوں  نے کبھی اس کی تجدید نہ کی اور برباد ہوئی تو کبھی اسے  آبا د نہ کیا،   ان کے دلوں   میں   یہ مر گئی تو پھر اسے  کبھی زندہ نہ کیا،   وہ دنیا کی طرف بڑھے ضرور لیکن اس کے سبب اپنی آخرت بنائی،   ہر لمحہ تذکرۂ موت کرتے رہے اور تذکرۂ زندگی کا خاتمہ کر ڈالا،  وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  محبت کرتے ہیں   اور اسی کا ذکر کرنا پسند کرتے ہیں  ،   وہ اس کے نور سے  روشنی طلب کرتے ہیں   اور اسی سے  منور رہتے ہیں  ۔ ان کے لئے عجیب خبر ہے،   بلکہ ان کے پاس تو عجیب ترین خبر ہے۔“ ([1])

                                                 اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے ان بندوں   کے اوصاف بیان کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں   ارشاد فرمایا:

 (1)  وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا  (پ۶،  المآئدۃ:  ۵۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور  اللہ سے  بہتر کس کا حکم۔

 (2)  وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَۚ- (پ۶،  المآئدۃ:  ۴۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور عالم اور فقیہ کہ ان سے  کتاب اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے۔

 (3)  شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ- (پ۳،  اٰل عمران:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہنے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں   اور فرشتوں  نے اور عالموں  نے انصاف سے  قائم

ہو کر۔

        یہاں   عجیب مفہوم ہے یعنی شہدا کے لئے بمعنی جمع ہونا۔ گویا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سب کو ایک وصف بنا دیا کیونکہ ان کا تذکرہ گزشتہ آیتِ مبارکہ میں   گزر چکا تھا۔ چنانچہ ارشادفرمایا:

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ (۱۷) شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-  (پ۳،  اٰل عمران:  ۱۷،   ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہ خدا میں   خرچنے والے اور پچھلے پہرے معافی مانگنے والے۔ اللہنے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں  ۔

            اور پھر ارشاد فرمایا: 

كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ (۴۳)  (پ۱۳،  الرعد:  ۴۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں   اور تم میں   اور وہ جسے  کتاب کا علم ہے۔

            یہ ایک ایسی صفت ہے جو تمام اوصاف سے  بڑھ کر ہے اور اوصاف بیان کرنے والوں  نے جتنے بھی اوصاف بیان کئے ہیں   سب پر حاوی ہے۔ دو مقامات کی حالتیں   ایسی ہیں   جو مراقبہ و مشاہدہ کے مذکورہ سات مقامات کی جامع ہیں   اور ان سب کا دَار ومدار انہی پر ہے،   بلکہ ان دونوں   سے  تو مزید انعام واکرام حاصل ہوتے ہیں  ۔ جن میں   سے  ایک مقامِ علم کی حالت ِ خوف ہے اور دوسری حالت مقامِ عمل سے  امید رکھنا ہے۔

            جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّمقامِ علم پر فائز فرمائے اس کا حال اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنا ہوتا ہے اور جس کا مقام امید و رجا ہو تو اس کا حال اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  معاملہ کی درستی کا ہوتا ہے۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہ فرامینِ مبارکہ نہیں   سنے:

 (1)  اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ- (پ۲۲،  فاطر:  ۲۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ سے  اس کے بندوں   میں   وہی ڈرتے ہیں   جو علم والے ہیں  ۔

 (2)  فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ (۱۱۰)   (پ۱۶،  الکھف:  ۱۱۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو جسے  اپنے ربّ سے  ملنے کی امید ہو اسے  چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے ربّ کی بندگی میں   کسی کو شریک نہ کرے۔

٭…٭…٭

فصل:  30

وسوسوں   کا بیان

شیطانی وسوسوں   کے متعلق آیاتِ مقدسہ: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دل میں   کھٹکنے والے شیطانی وسوسوں   سے  آگاہ کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں   مختلف جگہ ان کا تذکرہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ان میں   سے  چند آیات ذیل میں   مذکور ہیں  :

 (1)  وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَاﭪ (۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاﭪ (۸)  (پ۳۰،  الشمس:  ۸،  ۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور جان کی اور اس کی جس نے اسے  ٹھیک بنایا۔ پھر اسکی بدکاری اور اسکی پرہیزگاری دل میں   ڈالی۔

 



[1]     تاریخ مدینہ دمشق، الرقم ۵۵۱۹ عیسی بن مریم، ج ۴۷، ص ۴۶۶



Total Pages: 332

Go To