Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

متقین ہی مقامِ قرب پر فائز ہیں  : 

        مقربین اچھے ہونے کی وجہ سے  اور اہلِ بعد برائی میں   مبتلا ہونے کی وجہ سے  اپنے اپنے مخصوص مقامات پر فائز ہوتے ہیں  ۔ بندہ جب وصفِ حقیقت سے  متصف ہو اور مقامِ تقویٰ پر فائز ہو تو اس وصف کے متحقق ہونے کی وجہ سے  اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  تعریف کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ نیز اپنی نفسانی لذتوں   سے  دور رہنے کی وجہ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب پاتا ہے اور اللہ  بزرگ وبرتر کی جانب سے  حسنِ تعریف ہی طالبینِ حق کی غایت اور سالکینِ حق کی رغبت کی انتہا ہوتی ہے اور یہ دولت صرف اس کے متقی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  ،   فلاح پانے والے گروہ اور نیک بندوں   کو حاصل ہوتی ہے۔ یہی لوگ سلیم و طاہر دلوں   کے مالک ہوتے ہیں   اور ذکر کرنے والے اور ڈرنے والے اعضاء و جوارح رکھتے ہیں   اور قابلِ فخر و قابلِ ترجیح عقل و دانش رکھتے ہیں  ۔

طبقاتِ مقربین: 

        مقربین اصحابِ یمین کے تین طبقات ہیں  :  (۱) … اہلِ علم یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکا علم رکھنے والے  (۲) … اہلِ محبت یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر محبت کرنے والے اور  (۳) … اہلِ خوف یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنے والے۔

            پس اس کے خاص اور مقرب اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  ہی ہیں   جنہیں   اسنے حاضر ہونے کا کہا تو فوراً حاضر ہو گئے اور اسنے ان سے  علم کی حفاظت کا مطالبہ کیا تو وہ اس کے محافظ بن گئے،   گواہی دینے کا کہا تو گواہ بن گئے۔ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اس کی جانب سے  اس کی ذات پر دلیل ہیں   اور وہ خود ان کی ذات پر دلیل ہے۔ وہ اس کی بارگاہ میں   بندوں   کو جمع کرنے والے ہیں   جبکہ وہ انہیں   اپنی بارگاہ میں   جمع کرنے والا ہے۔ اس کے ہاں   ابدال،   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  اور علمائے ربانیین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سب متقین کے امام،   دین کے ارکان اور قوت و قدرت والے ہیں   جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کتابِ مبین کا کشف عطا فرمایا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔ یہی وہ لوگ ہیں   جن کے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ ہیں   اور جو صبح و شام اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم اور نعمتوں   کی زیادتی میں   رہتے ہیں  ۔

            ان کے علاوہ باقی عام مومنین مثلاً قراء،   عابدین،   اہلِ مجاہدہ،   زاہدین اور وظائف کرنے والے افراد انہیں   بھی بسا اوقات ولایت کا شرف عطا کیا جاتا ہے،   مگر اعمال و سیاحت کے اعتبار سے  ان کی کیفیت و حالت میں   فرق ہوتا ہے۔ ان کی خاطر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے دلوں   کی تسکین کے لئے نشانیاں   ظاہر فرمائیں   اور انہیں   ان نشانیوں   سے  اطمینان بخشا تاکہ ان پر شبہات داخل نہ ہوں   کہ وہ ہلاک ہو جائیں  اور نہ ہی شہوات انہیں   اپنی طرف کھینچ سکیں   کہ وہ واپس پلٹ جائیں  ۔

            لہٰذا وہ اس اظہار میں   منہمک ہو کر ظاہر شے سے  غافل ہو گئے لیکن اس کے باوجود وہ دنیادار مردوں   سے  قابلِ رشک اور زندہ دل اہلِ درجات میں   سے  رحم فرمائے گئے ہیں  ۔ کیونکہ ان کا قرب مقربین کے ہاں   بعد کی حیثیت رکھتا ہے،   ان کا کشف مشاہدین کے ہاں   حجاب ہے اور ان کی عطا و بخشش مواجہین کے نزدیک رَد ہے۔ البتہ! جب انہوں  نے اپنے نفوس کی جانب دیکھا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھی ان پر اپنی حکمت اور فضل و کرم کی نگاہ فرمائی اور انہیں   ان کے حال میں   سکون عطا فرما کر ان کے مقام سے  انہیں   راضی کر دیا تا کہ ان کے دل ریزہ ریزہ اور ان کی عقلیں   متحیر نہ ہو جائیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ (۱۰)  (پ۲۷،  الواقعۃ:  ۱۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو سبقت لے گئے وہ تو سبقت ہی لے گئے۔

        ان سے  مراد یہی بلند مقام پر فائز مواجہین ہیں   اور یہی وہ لوگ ہیں   جو اَلْعُرْوَۃُ الْوُسْقٰی کو مضبوطی سے  تھامے ہوئے ہیں  ،   انہوں  نے اس مضبوط واسطے سے  اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب دیکھا تو اسنے بھی ان پر نظرِ کرم فرمائی،   وہ ایسے  ہی ہیں   جیسا کہ اسنے ان کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِؕ- (پ۲،  البقرۃ:  ۲۰۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے اللہ کی مرضی چاہنے میں  ۔

            مراد یہ ہے کہ وہ نہ تو مال کی جانب رجوع کرتے ہیں   اور نہ ہی حال کی جانب دیکھتے ہیں  ۔ چنانچہ مزید ارشاد فرمایا:

 (1)  یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ- (پ۶،  المآئدۃ:  ۵۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا ۔

 (2)  رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ (۸)  (پ۳۰،  البینۃ:  ۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ ان سے  راضی اور وہ اس سے  راضی یہ اس کے لئے ہے جو اپنے ربّ سے  ڈرے۔

            پس وہ ویسے  ہی ہیں   جیسا کہ ان کے اوصاف سابقہ کتب میں   بیان کئے گئے ہیں  ۔ چنانچہ،   

اوصافِ اولیاء بزبانِ سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام   : 

        حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے  حواریوں  نے عرض کی: ’’یاروحَ اللہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ! ہمارے سامنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ان اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اوصاف بیان کریں   جنہیں   نہ تو کوئی ڈر ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں   گے۔  ‘‘  تو آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:  ’’ ان سے  مراد وہ لوگ ہیں   جن کی ترجمانی کتاب کرتی ہے اور وہ کتاب کی ترجمانی کرتے ہیں  ۔ کتاب کا علم انہی کے سبب ہے جبکہ وہ خود اسی کتاب سے  علم حاصل کرتے ہیں  ۔ کتاب ان سے  قائم ہے اور وہ اس سے  قائم ہیں  ۔ لوگ جب دنیا کے ظاہر کی جانب دیکھ رہے ہوتے ہیں   تو ان کی نگاہیں   اس کے باطن پر ہوتی ہیں   اور لوگوں   کی نگاہیں   جب دنیا کے موجودہ حال پر ہوتی ہیں   تو وہ اس کا انجام دیکھ رہے ہوتے ہیں  ۔ انہوں  نے ہر



Total Pages: 332

Go To