Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  تاکہ صلہ دے انہیں   جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اپنے فضل سے ۔

        البتہ! عمومی ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِؕ- (پ۱۱،  یونس:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے انصاف کا صلہ دے۔

            یعنی اسنے اپنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو اپنے فضل و کرم کے ساتھ خاص کر دیا ہے جبکہ اس کی مخلوق پر عدل عام ہے۔ لہٰذا کتنے ہی دل ہیں   جو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں   اور اس کے کلام کے سواکچھ سنتے ہیں   نہ اس کے علاوہ کسی کے سامنے جھکتے ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّہی اپنے بندے کے ارادے پر غالب اور اس کے دل کے سب سے  زیادہ قریب ہے۔مذکورہ شخص اور ایسے  شخص کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جس کا اوڑھنا بچھونا مخلوق ہو،   مقصود رزق ہو،   نظریں   صرف مخلوق پر ہوں   اور انہی میں  طمع رکھے،   انہیں   ہی دیکھے،   مخلوق ہی اس کے نزدیک سب سے  غالب شے ہو اور وہی اس کے سب سے  زیادہ قریب ہو۔ پس یہ شخص بارگاہِ ربوبیت سے  دور رہنے والوں   میں   سے  ہے۔ کیونکہ دوری ہی اس کی صفت ہے اور اس پر نفس غالب ہے اور نفس کی ہی حکمرانی ہے۔ وہ مقامِ بعد میں   ہے کہ جس کے ساتھ دوری پائی جاتی ہے،   جبکہ پہلی قسم کا شخص مقربین میں   سے  ہے کہ قرب اس کی صفت ہے اور اسنے نفسانی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر اپنے نفس کو مسخر کر رکھا ہے،   وہ مقامِ قرب میں   ہے،   اس کے ہاں   قرب پایا جاتا ہے اور وہ اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب جانے میں   جلدی کرنے والوں   میں   سے  ہے،   جبکہ بارگاہِ ربوبیت سے  دور ہونے والا اس کی بارگاہ میں   حضوری پر اپنے نفس کی حوصلہ شکنی کرنے والا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا:

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ (۲۱۳)  (پ۱۹،  الشعرآء:  ۲۱۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو تو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا۔

        دوری ایک حجاب ہے اور دور ہونے والا شخص عذاب میں   ہے،   قرب ایک نعمت ہے اور جو قریب ہو وہ نعمتوں   کی زیادتی میں   ہے۔ کیا آپ نے حجاب زدہ انسان کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا؟

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ (۱۵)  ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ (۱۶)  (پ۳۰،  المطففین:  ۱۶،  ۱۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہاں   ہاں   بے شک  وہ اس دن اپنے ربّ کے دیدار سے  محروم ہیں   پھر بے شک  انہیں   جہنّم میں   داخل ہونا۔

           اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مقربین کے آرام کے متعلق ارشاد فرمایا: 

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ (۸۸)  فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ ﳔ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ (۸۹)  (پ۲۷،  الواقعۃ:  ۸۹،  ۸۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر وہ مرنے والا اگر مقرّبوں   سے  ہے۔ تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ۔

پس راحت قرب والے کو ہو گی اور آرام حبیب کی جانب سے  ہو گا اور چین کے باغ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قرب کی وجہ سے  نصیب ہوں   گے۔ قرب سے  آرام پانے والے اور حضوری سے  زندگی پانے والے ایک شخص نے کیا خوب کہا ہے:  فَرَوْحِیْ وَرَیْحَانِیْ اِذَا کُنْتَ حَاضِرًا

وَ اِنْ غِبْتَ فَالدُّنْیا عَلَیَّ مَحَابِسُ

اِذَا لَمْ اُنَافِسْ فِی ہَوَاکَ وَلَمْ اَغَر

عَلَیْکَ فَفِیْمَنْ لَّیْتَ شَعْرِیْ اُنَافِسُ

                 (۱) … جب تو موجود ہو میں   آرام و راحت پاتا ہوں   اور اگر تو غائب ہو تو ساری دنیا مجھے قید خانہ لگتی ہے۔

                 (۲) … جب میں   تیری رضا کے حصول میں   کسی سے  سبقت لے جانے کے لئے باہم مقابلہ نہ کروں   اور نہ ہی تجھ پر مجھے غیرت آئے تو ہائے افسوس میں   پھر کن لوگوں   سے  مقابلہ کروں  ۔

            اور دوری کے غم میں   مبتلا اور جدائی جس کے حلق میں   اٹکی ہوئی ہو ایسے  ایک شخص نے کیا خوب کہا ہے:

فَکَیْفَ یَصْنَعُ مَنْ اَقْصَاہُ مَالِکُہُ

فَلَیْسَ یَنْفَعُہُ طِبُّ الْاَطِبَّآءِ

مَنْ غَصَّ دَاوٰی بِشُرْبِ الْمَآءِ غَصَّتَہُ

فَکَیْفَ یَصْنَعُ مَنْ قَدْ غَصَّ بِالْمَآءِ

                 (۱) … جسے  اس کے مالک و آقانے خود سے  دور کر دیا ہو وہ کیا کرے؟ کہ اسے  تو کسی طبیب کی طب فائدہ ہی نہ دے گی۔

                 (۲) … جسے  کھانے سے  اچھو لگے تو وہ پانی پی کر اپنے اچھو کا علاج کر لیتا ہے لیکن جسے  اچھو ہی پانی سے لگے وہ کیا کرے ؟

دنیادار اور دین دار میں   فرق: 

            ایک شخص اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجہ ہونے کی غرض سے  ہر شے سے  کٹ کر اس کی عبادت پر کمر بستہ ہو اور دوسرا مخلوق کی خدمت بجا لانے کی غرض سے  ہر طرف سے  الگ ہو جائے اور بس مخلوق کی پوجا کرے تو ایسے  دونوں   افراد کے درمیان کتنا فرق ہے! ایک شخص لوگوں   سے  کنارہ کش ہو چکا ہو اور دوسرا وسوسوں   کا شکار ہو تو دونوں   کے درمیان کس قدر فرق ہے! اسی طرح ایک شخص اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کے شوق میں   ہر شے سے  الگ ہو جائے اور دوسرا اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ کی محبت چھوڑ کر دنیا سے  معانقہ کر لے تو ان دونوں   کے درمیان بھی کس قدر فرق ہے!

 



Total Pages: 332

Go To