Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

رکھا یعنی اس کی کوئی بھی ساعت اللہ

عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کے بغیر نہ گزری تو اسنے نہ صرف امانت کی حفاظت کی بلکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عہد میں   بھی ہے ۔ پس اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  وعدہ پورا کرنے کی بنا پر پورا بدلہ ملے گا۔

         اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ (۴۰)  (پ۱،  البقرۃ:  ۴۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور میرا عہد پورا کرو میں   تمہارا عہد پورا کروں   گا اور خاص میرا ہی ڈر رکھو۔

            مراد یہ ہے کہ میرا عہد ضائع کرنے اور مجھ سے  وعدہ خلافی کرنے سے  ڈرو۔

اہلِ ایمان کی چند علامتیں  : 

             اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے: اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ  (پ۱۲،  ھود:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  تو کیا وہ جو اپنے ربّ کی طرف سے  روشن دلیل پر ہو اور اس پر اللہ کی طرف سے  گواہ آئے۔

            مطلب یہ ہے کہ جو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں   اپنے مقام کا واضح مشاہدہ کرے اور پھر اپنے مشاہدۂ یقین پر ثابت قدم رہے تو ایسا شخص اس فرد کی طرح نہیں   جس کے لئے اس کی بداعمالی کو آراستہ و پیراستہ کر دیا گیا ہو اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرے اور ان کو پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت پر ترجیح دے۔ یہ بندہ نہ صرف اپنے مشاہدہ پر قائم ہے،   بلکہ اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانبردار اور اپنے معبودِ حقیقی  عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کی وجہ سے  راہِ راست پر بھی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے: 

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗؕ-  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۵۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ مقبول بندے جنہیں   یہ کافر پوجتے ہیں   وہ آپ ہی اپنے ربّ کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں   کہ ان میں   کون زیادہ مقرب ہے اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے  ڈرتے ہیں  ۔

            نیز وہ اس شخص کی مثل بھی ہے جس کی تعریف حقیقت ایمان سے  متصف ہونے کی وجہ سے  اللہ

عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں   کی گئی ہے: 

وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ (۲)  (پ۹،  الانفال:  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور جب اُن پر اس کی آیتیں   پڑھی جائیں   ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے ربّ ہی پر بھروسا کریں  ۔

            یہاں   ایمان سے  مراد اس کی علامات اور اس کے دلائل ہیں   اور ’’ربّ ہی پر بھروسا کرنے سے  مراد ہے کہ وہ اس پر ہی بھروسا رکھتے ہیں  ،   ان کی نگاہیں   اسی جانب لگی رہتی ہیں   اور ہر حالت میں   اس پر ہی اعتماد کرتے ہیں  ،   اس کی بارگاہ میں   سکون وچین پاتے ہیں   اور ہر شے سے  الگ ہو کر صرف اسی کے ہاں   پائے جاتے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی شان میں   ارشاد فرمایا:

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ (پ۹،  الانفال:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہی سچّے مسلمان ہیں   ان کے لئے درجے ہیں   ان کے ربّ کے پاس۔          مذکورہ آیتِ مبارکہ میں   متوکلین میں   سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جن اہلِ حق کے حق ہونے کی تعریف فرمائی ہے اور جن کے لئے اعلیٰ درجات اور بہترین رزق کا وعدہ فرمایا ہے یہ لوگ مابعد آیتِ کریمہ میں   بیان کردہ لوگوں   جیسے  نہیں   ہیں  ۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ (۵) یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ (پ۹،  الانفال:  ۶،  ۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بے شک  مسلمانوں   کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا۔ سچّی بات میں   تم سے  جھگڑتے تھے بعد اس کے کہ ظاہر ہو چکی۔

            نیز ان کے بارے میں   مزید ایک جگہ ارشاد فرمایا:

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا (پ۲۴،  المؤمن:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اللہ کی آیتوں   میں   جھگڑا نہیں   کرتے مگر کافر۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان آیاتِ مقدسہ میں   مذکور افراد کے حال کو ان پر ان کی نفسانی خواہشات کے باقی رہنے کی وجہ سے  اپنے دشمنوں   کے حال جیسا قرار دیا ہے اور جن لوگوں   کے متعلق آیتِ مبارکہ میں   حقیقی زہد اختیار کرنے کا تذکرہ فرمایا،   انہیں   صالحین قرار دیا۔ چنانچہ ارشادفرمایا:

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ (۷۵)  (پ۱۶،  طٰہٰ:  ۷۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کئے ہوں   تو انہیں   کے درجے اونچے۔

            پس اللہعَزَّ وَجَلَّ بزرگ و برتر ہے اور اس کے محبوب بندے بھی اعلیٰ درجات کے حامل ہیں  ۔ ان کے بلند و برتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سب سے  بزرگ و برتر یعنی اللہعَزَّ وَجَلَّ ان کے ساتھ ہے اور رہے ہم! تو ہم ادنیٰ مقام پر فائز ہیں   کیونکہ ہمارے پاس دنیا ہے۔

 



Total Pages: 332

Go To