Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

جو بیت گیا سو بیت گیا: 

        وقت بیت جائے تو معدوم ہو جاتا ہے،   اب وہ قیامت تک نہ پایا جائے گا اور ہر وہ ساعت جو گزر جائے لپیٹ دی جاتی ہے اور پھر یوم النشور تک دوبارہ نہیں   کھلے گی۔ البتہ! اس کی مثل اور اس کے مشابہ ساعتیں   ضرور پیدا ہوتی رہتی ہیں  ۔ جب بندے کو یہ یقین ہو جائے تو وہ جان لیتا ہے کہ اس کی ساری عمر ایک دن اور اس کا پورا دن ایک ساعت ہے اور اس کی کل ساعتیں   اس کا موجودہ وقت ہیں   اور اس کا وقت ہی اس کی حالت ہے اور اس کا حال ہی اس کا دل ہے،   پس وہ اپنے حال سے  اپنے دل کی خاطر کوئی ایسی شے لے جو اسے  عمل کے ختم ہونے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قریب کر دے۔ لہٰذا وہ اس شے پر عمل کرے جس کے افضل ہونے کے متعلق اس کا علم اس کی راہنمائی کرے اور اس کا پَرْوَرْدگارعَزَّ وَجَلَّجسے  مستحسن جانے۔ نیز اس کا شماران اعمال میں   سے  ہو کہ اگر اچانک اس پر موت آ جائے تو اس کا خاتمہ اسی حالت پر ہو اور اسی عمل کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   حاضر ہو۔

            اس کے بعد بندے کو چاہئے : 

٭… اپنے وقت سے  اپنے حال کے لئے وہ کچھ لے جو اس کے دل کے لئے مفید ہو اور اس کے دل کی تقویت کا باعث ہو،   نیز اسے  ربّ عَزَّ وَجَلَّکے لئے خالص کر دے۔

٭… اپنی ساعات سے  وقت کیلئے اس قدر لے جس کی وجہ سے  اس کا حال اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں   مزین ہو جائے۔٭… اپنے دن سے  اپنی ساعات کے لئے اس قدر لے جس میں   اس کی اصلاح ہو اور جس کی اسے  ضرورت ہو۔

٭… مہینے سے  دن کے لئے اس قدر لے کہ اس کا مہینہ دن بن جائے اور اس کا دن ساعت بن جائے۔

            پس جس بندے کا وقت اسے  ساعتوں   سے  اور اس کا حال وقت سے  غافل کر دے تو وہ ان اوصاف کی بنا پر

٭...اپنے وقت کا خیال رکھنے والا ٭... اپنی حالت کی حفاظت کرنے والا٭... نفس کی نگرانی کرنے والا        

٭...فکروں   کو مجتمع رکھنے والا ٭...سانسوں   کو شمار کرنے والا          ٭... اللہ عَزَّ وَجَلَّکا مراقبہ کرنے والا

٭...اور اپنے حبیبِ حقیقی کی مجلس میں   بیٹھنے والا ہو جائے گا اور اس کا کوئی بھی سانس کسی چھوٹے سے  پل میں   بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کرنے،   اس کی نعمت کا شکر ادا کرنے،   دنیا کی محبت پر صبر کرنے یا مصیبت پر راضی رہنے سے  خالی نہ گزرے گا۔

ابدالوں   کی حالت: 

            بندہ مذکورہ تمام حالتوں   میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب دیکھنے والا،   اس کا کلام غور سے  سننے والا اور حبیب کی جانب سفر کرنے والا شمار ہوتا ہے،   وہ اس کے علاوہ کسی کو دیکھتا ہے نہ کسی کے ہاں   بسیرا کرتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی تمام عمر کو دن،   دن کو ساعت اور ساعت کو وقت،   وقت کو حال اور حال کو نفس اور نفس کو مراقبہ بنا دیا ہے۔ چونکہ مراقبہ کے لئے توجہ ضروری ہوتی ہے،   پس جب بھی کوئی اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے تو پھر کبھی بھی اس سے  منہ نہیں   موڑتا اور جسے  اس کے قرب میں   چلنے کا شرف مل جاتا ہے تو پھر کبھی بھی سستی کا شکار نہیں   ہوتا اور یہ سب کچھ بندے کے ایمان میں   زیادتی اور یقین کی تازگی کے باعث بنتا ہے۔ اسے  حساب و کتاب کے بغیر ایک پاکیزہ زندگی دی جاتی ہے،   اس کے لئے اس کے دل سے  حجابات اٹھا دیئے جاتے ہیں  ،   پس معرفت ہی اس کا مقام ٹھہرتا ہے لیکن اس مقام پر اس کے ایام کم پڑ جاتے ہیں  ،   اس کا کل وقت وحدہٗ لا شریک کے لئے ایک ہی وقت بن جاتا ہے اور اس کا دل بھی ایک خدا کے لئے ایک ہو جاتا ہے اور اس کے خیالات یکتا و منفرد اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے یکجا ہو جاتے ہیں  ۔ یہ حال ابدالوں   کا ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسولوں   کی مثل ہوتے ہیں   ان کی تعداد اہلِ یقین میں   بہت کم ہوتی ہے مگر یقین میں   سے  ان کاحصہ بہت زیادہ ہوتا ہے،   یہی مقربین و صدیقین ہیں  ۔

صاحب کتاب کی نصیحت: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)  ہماری بیان کردہ مذکورہ باتوں   کی حقیقت سے  جو بھی یقینی طور پر آگاہ ہو گا اس کا شمار صالحین میں   ہو گا اور جو ان تمام باتوں   پر سچے دل سے  ایمان لے آئے اور تصدیق کا اہل ہونے کی وجہ سے  ذرہ بھر شک نہ کرے تو وہ اہلِ یقین میں   سے  ہے اور جو اس بات کی گواہی دے جو اس کے لئے زیادتی کا باعث ہو تو وہ مشاہدہ کرنے والوں   میں   سے  ہے۔

مقامِ توبہ و علم پر فائز لوگ: 

            مذکورہ تمام باتیں   یعنی مومنین کا مراقبہ اور مقربین کا مشاہدہ وغیرہ،   ان سب کا ادراک دو مقامات کے جاننے سے  ہو سکتا ہے۔ جو بندہ ان دونوں   مقامات میں   سے  کسی ایک مقام پر فائز ہو تو اس کے لئے توبہ میں   استقامت اور علم پر عمل جیسے  دونوں   اوصاف جمع کر دیئے جاتے ہیں  ۔ پس جس کا مقام،   توبہ اور حالت،   استقامت ہو تو اسے  محبین کے درجات پر فائز کر دیا جاتا ہے اور جس کا مقام علم ہو اور حالت اس علم پر عمل کرنا ہو تو اس کے لئے خائفین کے اوصاف متحقق ہوتے ہیں  ۔

            یہ دونوں   حالتیں   اس عارف کی ہیں   جس کا وجدان دائمی ہو اور جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   حاضری کی وجہ سے  قربِ مشاہدہ کی دولت نصیب ہو،   پس اس کی سانسیں   اور لمحے نیکیاں  ،   اس کے تصرفات اور آثار حسنات اور اس کے افکار و اذکار مشاہدات پر مبنی ہیں  ،   گویا کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   حاضر ہے اور بیدار ہے۔ پس دائمی وجد میں   رہنے والے عارف کے یہی اوصاف ہیں  ۔

            طبقۂ اصفیاء میں   سے  کسی کے متعلق مروی ہے کہ وہ اہلِ مراقبہ میں   سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر گوشہ نشین ہو جانے والے ایک بزرگ کے پاس گئے تو انہوں  نے فرمایا:  ’’ میں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جو نعمتیں   مجھ پر ہیں   ان کی ایک نوع کو شمار کیا تو وہ چوبیس ہزار نعمتوں   پر مشتمل تھی۔ ‘‘  میں  نے عرض کی: ’’وہ کیسے ؟ ‘‘  تو انہوں  نے بتایا:  ’’ میں  نے ایک دن اور رات میں   اپنے سانسوں   کو شمار کیا تو پایا کہ یہ چوبیس ہزار ہیں   اور کہا جاتا ہے کہ لمحات سانسوں   سے  بھی دوگنے ہوتے ہیں  

 



Total Pages: 332

Go To