Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کو ان کے علم کے تناظر میں   دیکھنے سے  معلوم ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہترین قاری،   خطیب،   شیریں   بیاں   واعظ ہونے کے ساتھ ساتھ تفسیر،   اصولِ تفسیر،   حدیث،   اصولِ حدیث،   فقہ و اصول فقہ اور علم توقیت و ہیئت وغیرہ ایسے  علوم کے جاننے والے بھی تھے۔ کیونکہ بہت سے  علوم کے مبادیات کے متعلق آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کسی نہ کسی حد تک قوت القلوب میں   کلام فرمایا ہے۔ چنانچہ قوت القلوب کے مطالعہ سے  آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شخصیت پر پڑے ہوئے حجاب خود بخود کھلتے جاتے ہیں  ۔ لہٰذا آئیے قوت القلوب کا سرسری جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں   کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی اس نایاب کتاب میں   کن علوم کا تذکرہ فرمایا ہے اور آپ ان علوم میں   کس قدر ممارست و مہارت رکھتے تھے،   کیونکہ علم خواہ کیسا بھی ہو اگر اسے  جاننے والا اس علم کے اصول و فروع کے ساتھ ساتھ اس کے بر محل استعمال سے  بھی واقف ہو اور موقع محل کے مطابق استدلال کا ملکہ رکھتا ہو تو اسے  بجا طور پر اس علم کا بخوبی جاننے والا کہا جا سکتا ہے۔

مگر یہ سب جاننے سے  پہلے ضروری ہے کہ صاحبِ قوت کا اسلوبِ بیان جان لیا جائے تا کہ ان کا مزاج جان کر کتاب کے مطالعہ سے  کما حقہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ چنانچہ،   

نام میں   انفرادیت: 

اگر صرف قوت القلوب کے نام پر ہی غور کر لیا جائے کہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے اپنی اس تصنیف کا یہ نام کیوں   رکھا تو اس سے  ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کس قدر پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری امت کی اصلاح کی کوشش فرمانے والے تھے،   کیونکہ قوت القلوب کا مطلب ہے دلوں   کی غذا۔ یعنی آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ کہنا چاہتے ہیں   ہر ذی روح کو زندہ رہنے کے لیے چونکہ ظاہری غذا کی ضرورت ہے اور وہ بقائے حیات کے لیے دل کی دھڑکنوں   کا محتاج ہے مگر اسے  یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جسم کی نشو و نما اور صحت و سلامتی کے لیے دل کی تندرستی لازم ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جسم کی غذا کے ساتھ ساتھ دل کی غذا کا خاص خیال رکھا جائے اور دل جس غذا سے  راحت و فرحت پاتے ہیں   وہ تقویٰ و طہارت اور ذکر خداوندی ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (۲۸)  (پ۱۳،   الرعد:  ۲۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  سن لو اللہ کی یاد ہی میں   دلوں   کا چین ہے۔

پس آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نفسِ مطمئنہ کے مقام تک رسائی پانے اور اطمینانِ قلبی کے حصول کے لیے قوت القلوب میں   ایسے  نادر و نایاب مدنی پھول عطا فرمائے ہیں   جن کی مہک سے  آج بھی لوگوں   کے قلوب و اذہان معطر ہیں  ۔

اسلوبِ بیان: 

امام اجلّ حضرت سیدنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے قوت القلوب چونکہ راہِ طریقت پر چلنے کی خواہش رکھنے والے ان نوواردوں   کی رہنمائی کے لیے لکھی ہے جو اس راہِ پر خطر کی دشواریوں   سے  تو انجان ہیں   مگر منزلِ مقصود پانے کی آرزو اور تڑپ رکھتے ہیں  ۔ لہٰذا آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے انتہائی سہل اسلوبِ بیان اپنانے کی کوشش فرمائی تا کہ ہر خاص و عام اس کتاب مستطاب سے  استفادہ کر سکے۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے نقطۂ نظر کو واضح کرنے کے لیے سب سے  پہلے بطورِ دلیل قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات پیش کرتے ہیں  ،   اس کے بعد احادیثِ مبارکہ،   پھر سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے اقوال اورطریقے بیان کرتے ہیں  ۔ یہ اسلوب اگرچہ ہر کوئی اپناتا ہے مگر ان آیاتِ بینات و احادیثِ مبارکہ اور سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے اقوال کی روشنی میں   حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سالکینِ راہِ ہدایت کے لیے جو مہکے مہکے مدنی پھول پیش کرتے ہیں   وہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی کا خاصہ ہے۔ چند مثالیں   ملاحظہ فرمائیے:

قرآنِ مجید سے  استدلال : 

آیاتِ بینات سے  آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا اندازِ استدلال بڑا ہی مدبرانہ و محققانہ ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قوت القلوب کی پہلی دو فصلوں   میں   سوائے آیات بینات کے کچھ کلام ذکر نہیں   کیا۔ مگر ان فصلوں   کے عنوانات سے  ظاہر ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کیا استدلال فرما رہے ہیں  ۔ ان فصلوں   میں   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے صرف آیاتِ بینات سے  بندے اور اس کے ربّ کے تعلق کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مجاہدہ و ریاضت کے احکام بھی بیان کر دیئے ہیں   جو یقیناً  آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عَارِف بِاللّٰہ اور عالم رَبَّانی ہونے کا مظہر ہیں  ۔

بطورِ مثال تلاوت کا حق ادا کرنے والوں   کے متعلق آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول پیشِ خدمت ہے: تلاوت کا حق صرف ایمان والے ہی ادا کرتے ہیں   کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجب بندۂ مومن کو حقیقت ِ ایمان کی دولت سے  نوازتا ہے تو اسے  اس کی مثل ایسے  معانی و مفاہیم بھی عطا فرماتا ہے جن کا سرچشمہ حقیقت ِ مشاہدہ ہے۔ اس طرح بندے کی تلاوت تو مشاہدہ سے  ہوتی ہے مگر اس کے ایمان میں   زیادتی تلاوت کے معانی و مفاہیم سمجھنے سے  ہوتی ہے اور یہی حقیقت ِ ایمان کا معیار ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا ط (پ۹،  الانفال:  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جب اُن پر اس کی آیتیں   پڑھی جائیں   ان کا ایمان ترقی پائے۔

            اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا: 

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ- (پ۹،  الانفال:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہی سچے مسلمان ہیں  ۔

            پس بندۂ مومن کو اس وقت حضوری کا شرف ملتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عذاب سے  ڈرانے والوں   میں   اس کا شمار ہونے لگتا ہے،   خاص طور پر ایمان کی زیادتی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی



Total Pages: 332

Go To