Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

القا کیا جاتا۔

            اگر بندہ نیکی کے کاموں   میں   سے  مستحب اور فضیلت والے بہت سے  کاموں   کے فوت ہو جانے پر حسرت کرے گا تو ان کاموں   کو جلدی جلدی سرانجام نہ دینے کی بنا پر بھی اس کی حسرتیں   کئی گنا ہو جائیں   گی۔ لہٰذا اس شخص کی حالت کیسی ہو گی جس کے اوقات برائیوں   میں   مگن ہو کر ضائع ہو گئے ہوں   اور جس کے خسارے و نقصانات بڑھ گئے ہوں  ۔ پس جو بندہ عمر بھر حلال و مباح کاموں   میں   مصروف رہے اور وہ کام بھی اس کے درجات میں   کمی کا باعث بن سکتے ہوں   تو اس شخص کی کیفیت کیسی ہو گی جو صرف گناہوں   میں   مشغول رہا ہو؟ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّہی پاک ہے۔ معاملہ کتنا پر خطر اور دشوار ہو گا اور اس کا مشاہدہ کرنے والے تو بہت کم ہیں   لیکن باطل لوگ بہت زیادہ غافل ہیں  ۔ ([1]) بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   فرض کریں   اگر گناہ گار کو معاف بھی کر دیا جائے تو کیا اسنے نیک لوگوں   کے اجر و ثواب کو فوت نہیں   کر دیا؟ ([2])

 مقامِ علیین والوں   پر رشک:  ـ

            ایک روایت میں   ہے کہ بعض جنتی جنت کی نعمتوں   میں   مگن ہوں   گے کہ اچانک ان کے اوپر ایک نور روشن ہو گا جس سے  ان کے گھر روشن ہو جائیں   گے جیسا کہ دنیا والوں   پر سورج روشن ہوتا ہے۔ پس وہ اپنے اوپر مقامِ علیین پر رہنے والے لوگ دیکھیں   گے۔ وہ انہیں   ایسے  دکھائی دیں   گے جیسے  آسمان کے اُفق میں   چمکنے والا کوئی ستارہ ہو،   مقامِ علیین پر بسنے والوں   کو اُن پر نعمتوں   اور انوارو جمال میں   اسی طرح فضیلت حاصل ہو گی جیسے  چاند کو دوسرے ستاروں   پر حاصل ہے،   وہ انہیں   دیکھیں   گے کہ وہ مقامِ نجابت پر اڑ رہے ہیں   اور جہاں   چاہتے ہیں   اڑ کر چلے جاتے ہیں   اور ایک دوسرے کی زیارت کرنے کے علاوہ ربّ ذو الجلال و الاکرام کے دیدار کا بھی شرف حاصل کر رہے ہیں  ۔ پس یہ نیچے والے جنتی انہیں   پکاریں   گے:  ’’اے ہمارے بھائیو! تمنے ہمارے ساتھ انصاف نہیں   کیا،   ہم بھی ویسے  ہی نماز پڑھا کرتے تھے جیسے  تم پڑھتے تھے اور ہم بھی تمہاری طرح ہی روزے رکھا کرتے تھے،   تو پھر تمہیں   ہم پر کس وجہ سے  فضیلت دی گئی؟ ‘‘  فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  ندا آئے گی کہ’’وہ اس وقت بھوکے رہا کرتے تھے جب تم پیٹ بھر کر کھاتے،   جب تم خوب سیر ہو کر پیتے تو وہ پیاسے  رہا کرتے،   جس وقت تم لباسِ دنیا میں   ملبوس تھے یہ اس لباس سے  عاری رہے،   تم ہنسا کرتے تو یہ رویا کرتے،   تم سویا کرتے اور یہ قیام کیا کرتے،   تم سب بے خوف تھے اور یہ ڈرا کرتے تھے،   پس اس وجہ سے  انہیں   تم پر فضیلت دی گئی ہے۔“ ([3])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۱۷)  (پ۲۱،  السجدۃ:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں   معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چُھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں   کا۔

            اور ایک روایت میں   ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جنتیوں   میں   سے  اکثر کم عقل ہوں   گے جبکہ مقامِ علیین پر بسنے والے سب عقل مند ہوں   گے۔ ‘‘  ([4])

مقربین اہلِ یقین کے مراقبہ کا پانچواں   مقام

غفلت سے  نصیحت: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمام مخلوق کو ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا:

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ (۹۹لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ  (پ۱۸،  المؤمنون:  ۱۰۰،  ۹۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  یہاں   تک کہ جب ان میں   کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے ربّ مجھے واپس پھیر دیجئے۔ شاید اب میں   کچھ بھلائی کماؤں   اس میں   جو چھوڑ آیا ہوں  ۔

            تو اسے  یہی جواب دیا جائے گا کہ اب ایسا ہر گز نہیں   ہو سکتا اور اس قول کو مزید پختہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىٕلُهَاؕ- (پ۱۸،  المؤمنون:  ۱۰۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے  کہتا ہے۔

        نیز مومنین کو بڑے واضح انداز میں   ایسی حالت اپنانے سے  منع فرمایا کہ جو ایسا کرے گا نقصان میں   ہو گا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ- (پ۲۸،  المنافقون:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں   اللہ کے ذکر سے  غافل نہ کرے۔

            مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طاعت سے  تمہیں   تمہارے اموال و اولاد کہیں   غافل نہ کر دیں  ۔چنانچہ اس کے بعد ارشاد فرمایا:

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (۹)  (پ۲۸،  المنافقون:  ۹)

 



[1]     مفتاح الافکار للتاھب لدارالقرار، الموعظۃ، ج۱، ص۲۰

[2]     ذم الھوی لابن جوزی،  الباب الرابع والعشرون، فصل عواقب المعاصی،ص۱۴۹

[3]     البحر المدید، پ۲۴، السجدۃ،  تحت الایۃ ۱۶، ج۵، ص۵۶

[4]     الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم ۷۷۳ سلامۃ بن روح، ج۴، ص۳۲۹

                                                 احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان الفرق بین المقامین بمثال محسوس، ج۳، ص۲۸



Total Pages: 332

Go To