Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

پر ذکر کی گئی ہے،   چند مقامات درج ذیل ہیں  :

 (1) … عذاب پر عذاب : 

          اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ارشاد ہے:

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ (پ۱۴،  النحل:  ۸۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جنہوں  نے کفر کیا اوراللہ  کی راہ سے  روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا۔    یعنی ہم نے ان لوگوں   کے عذاب پر ایک عذاب زیادہ کیا جنہوں  نے کفر کیا لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ سے  لوگوں   کو نہ روکا۔

 (2) … بخشش و ہدایت سے  محرومی: 

        ایک جگہ ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ (۱۶۸)  (پ۶،  النسآء:  ۱۶۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  جنہوں نے کفر کیا اور حد سے  بڑھے اللہ ہر گز انہیں   نہ بخشے گا اور نہ انہیں   کوئی راہ دکھائے۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے کفر کے سبب ان کی مغفرت فرمائی نہ ان کے ظلم کی وجہ سے  ان کے لئے راہِ ہدایت روشن فرمائی۔ چنانچہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ظلم قیامت کے دن تاریکیوں   کی صورت میں   ہو گا۔ ‘‘   ([1])

 (3) … دوہرا عذاب: 

        ایک جگہ ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ (۱۰)  (پ۳۰،  البروج:  ۱۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  جنہوں  نے ایذا دی مسلمان مَردوں   اور مسلمان عورتوں   کو پھر توبہ نہ کی ان کے لئے جہنّم کا عذاب ہے اور ان کے لئے آ گ کا عذاب۔

            پس اس صورت میں   ان پر دو عذاب ہوں   گے: ایک جہنم کا عذاب ان کے توبہ نہ کرنے کے سبب اور دوسرا آگ کا،   مومنین کو فتنے میں   مبتلا کرنے کے سبب۔

 (4) … دنیا میں   عذاب: 

        ایک جگہ ارشاد فرمایا: 

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ (۵۵)  (پ۱۰،  التوبۃ:  ۵۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو تمہیں   ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے اللہ یہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں   ان چیزوں   سے  ان پر وبال ڈالے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے۔

            یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہتا ہے کہ انہیں   ان کے مال اور اولاد کے سبب دنیا میں   عذاب دے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ کفر ہی پر مر جائیں   تا کہ اس کی وجہ سے  آخرت میں   بھی انہیں   عذاب میں   مبتلا کرے۔

            ایک قول کے مطابق اس آیتِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں   دنیا میں   ان کے مال و اولاد پر تعجب نہیں   ہونا چاہئے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّیہی چاہتا ہے کہ انہیں   آخرت میں   عذاب دے۔ پس اسنے ان پر جہنم میں   دو قسم کے عذاب جمع کرنے کا ارادہ کر لیا ہے: پہلا عذاب ان کے مال و اولاد کے سبب اور دوسرا ان کے کفر پر مرنے کے سبب ہو گا۔ لہٰذا جس کافر کے پاس نہ تو کوئی مال ہو اور نہ ہی کوئی اولاد،   تو اس پر جہنم میں   صرف ایک ہی عذاب ہو گا۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مال و اولاد کو عذاب کا سبب بنایا ہے۔ چنانچہ پیکرِعظمت و شرافت،   مَحبوبِ رَبُّ العزت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  بھی ایسا ہی مروی ہے۔

دخولِ جنت و جہنم میں   لوگوں   کا مقدم و مؤخر ہونا:

            تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’کافر فقیر اپنے اُس فقر کی وجہ سے  جس میں   وہ دنیا میں   مبتلا تھے،   امیروں   سے  پانچ سو سال بعد جہنم میں   داخل ہوں   گے،   جیسا کہ مومن فقیر امیروں   سے  پانچ سو سال پہلے جنت میں   داخل ہوں   گے۔ ‘‘  ([2]) اور ایک روایت میں   ہے کہ مریض،   تندرست افراد سے  40 سال پہلے جنت میں   داخل ہوں   گےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں   آگے بڑھ کر شہید ہونے والا شخص پیچھے ہٹ کراللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں   شہید ہونے والے سے  40 سال پہلے جنت میں   داخل ہو گا۔ غلام آقاؤں   سے  40 سال پہلے جنت میں   داخل ہوں   گے اور حضرت سیدنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی سلطنت کی وجہ سے  دوسرے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ

وَالسَّلَام سے  40 سال بعد جنت میں   داخل ہوں   گے۔ ([3])

حسرت: 

            کسی شے پر سب سے  بڑی حسرت سے  مراد یہ ہے کہ اس کی تلافی نہ ہو سکے،   یعنی آپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جن نعمتوں   کی زیادتی سے  سرفراز کیا جائے آپ ان سے  



[1]     صحیح البخاری، کتاب المظالم، باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ، الحدیث: ۲۴۴۷، ص۱۹۲

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث: ۷۹۵۱، ج۳، ص۱۵۳ باختصار

[3]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۲۶۵۱، ج۱۲، ص۹۴ بتغیر قلیل و بدون و تدخل الممالیک      المولیٰ باربعین خریفا



Total Pages: 332

Go To