Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

گمان کرے کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّایک شے کے عوض ہی کوئی دوسری شے عطا فرماتا ہے۔ حالانکہ ہمارا یہ مقصود نہیں   بلکہ ہمارا کہنا ہے کہ وہ ہر شے کے عوض کے بغیر دو چیزیں   عطا کرتا ہے۔ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے جو سب سے  پہلے وہ شے عطا کرنے والا ہے جو عبادت و ایمان کے لئے ظرف اور مکان کی حیثیت رکھتی ہے اور وہی ہے جو دوسری اشیاء یعنی نعمتیں   اور جنتیں   بھی عطا فرمانے والا ہے۔ مگر وہ اپنی حکمت کے تحت یہ عطا و بخشش اپنی مقرر کردہ تقدیر سے  جاری کرتا ہے،   جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ یہ سب کچھ اس کے علم میں   ہوتا ہے،   اس کے بعد وہ اسے  معلوم بناتا ہے کیونکہ وہ حکیم و علیم ہے۔

اہلِ یقین کے مراقبہ کا چوتھا مقام

ذرہ برابر عمل کی پرسش بھی ہو گی: 

            بندے کو یہ بات یقینی طور پر معلوم ہونی چاہئے کہ اس کی زندگی کے سال آخرت میں   مہینوں   کے اعتبار سے  کھولے جائیں   گے اور اس کے مہینے دنوں   کے اعتبار سے  کھولے جائیں   گے،   ایام گھنٹوں   کے اعتبار سے  اور گھنٹے سانسوں   کے اعتبار سے ،   پھر اس کے ہر ہر سانس کے متعلق سوال کیا جائے گا اور ہر انجام دیئے گئے کام کے لئے اگرچہ وہ حقیر ہی ہو تین اعمال ناموں   کے رجسٹر کھولے جائیں   گے ۔ پہلا سوال ہو گا کہ یہ کام کیوں   کیا؟ یہ احکام کے ساتھ آزمائے جانے کا محل ہے،   اگر اس سوال سے  بچ گیا تو دوسرا اعمال نامہ کھولا جائے گا اور سوال ہو گا کہ یہ کام کیسے  کیا؟ یہ علم کے صحیح ہونے کا مطالبہ کرنے کا محل ہے،   اگر اس سوال سے  بھی محفوظ رہا تو تیسرا اعمال نامہ کھولا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ یہ کام کس کے لئے کیا؟ یہ محلِ اخلاص ہے۔      اگر ان میں   سے  کسی بھی سوال میں   خامی ہوئی تو اس پر ہلاکت کا اندیشہ اور رسوائی کا ڈر ہے،   ہاں   اگر کریم و منان  عَزَّ وَجَلَّ اس پر کرم فرمائے تو بچ سکتا ہے اس طرح کہ وہ اس کا حساب کتاب نہ لے بلکہ اپنے کرم سے  اسے  بچا لے۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ- (پ۱۷،  الانبیآء:  ۴۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے  لے آئیں   گے۔

قرآنِ کریم کی سب سے  محکم ومجمل آیتِ مبارکہ : 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷)  وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ (۸)  (پ۳۰،  الزلزال:  ۸،  ۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے  دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے  دیکھے گا۔

            منقول ہے کہ یہ آیتِ مبارکہ قرآنِ کریم کی سب سے  محکم آیت ہے،   نیز یہ مجمل،   مبہم اور عام بھی ہے۔ چنانچہ سرکارِ والا تبارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  جب کسی ایسی شے کے متعلق سوال کیا جاتا کہ جس کے متعلق کوئی وحی نازل نہ ہوئی ہوتی توآپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے کہ میرے پاس اس کے متعلق اس جامع آیتِ مبارکہ کے علاوہ دوسری کوئی آیت نہیں   ہے یعنی  (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷) )   ([1])

فقیہ کی پہچان: 

             (مشہور عربی شاعر) فرزدق کے دادا حضرت سیِّدُنا صعصعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سورۃُ الناس کی جانب سے  قرآنِ کریم پڑھنا شروع کیا اور جب اس مقام پر پہنچے تو کہنے لگے:  ’’میرے لئے یہی کافی ہے،   میرے لئے کافی ہے،   میں  نے خیر اور شر کو پہچان لیا ہے۔ ‘‘  تو شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’یہ فقیہ بن کر لوٹا ہے ([2])

ذرے سے  مراد: 

ذرے سے  مراد باریک غبار کی وہ جِھلّی ہے جو سورج کی شعاعوں   میں   سوئی کے ناکے کی مثل ظاہر ہوتی ہے۔ ([3])

حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ جب آپ اپنی ہتھیلی مٹی پر رکھ کر اٹھا لیں   تو مٹی میں   سے  جو چیز آپ کے ہاتھ سے  لگ جائے اسے  ذرہ کہتے ہیں  ۔ ([4])

منقول ہے کہ چار ذرات آپس میں   ملیں   تو رائی کے ایک دانے کے برابر ہوتے ہیں   اور بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ ذرہ جَو کا ایک ہزارواں   حصہ ہوتاہے ۔ ([5])

اعمال میں   سے  بعض ایسے  ہیں   جن کے چھوٹے پن کے باوجود وزن کیا جائے گا اور بعض ایسے  ہیں   جو انتہائی ہلکا ہونے کے باوجود شمار کئے جائیں   گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس سے  آگاہ فرمایا اور اس سے  ڈرایا۔

صاحبِ کتاب کا تبصرہ: 

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  ہم نے ابھی جو کچھ ذکر کیا ہے کہ بندہ اپنے عمل سے  جنت میں   داخل ہو گا،   پس ایسا شخص مشقت



[1]     صحیح البخاری، کتاب المساقاۃ، باب شرب الناس    الخ، الحدیث: ۲۳۷۱، ص۱۸۵ بتغیر قلیل

[2]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب آداب تلاوۃ القرآن، الباب الثالث، ج۵، ص۱۲۰

                                                الزھد لابن مبارک، باب ما جاء فی تخویف     الخ، الحدیث: ۸۲، ص۲۸ بتغیر قلیل

[3]     حاشیۃ الصاوی، پ۳۰، الزلزال، تحت الایۃ۸، ج۶، ص۲۴۰۹

[4]     تفسیر القرطبی، پ۳۰، الزلزال، تحت الایۃ ۷۔۸، ج۱۰، الجزء:۲۰، ص۱۰۸

[5]     حاشیۃ الصاوی، پ۳۰، الزلزال، تحت الایۃ۸، ج۶، ص۲۴۰۹ بتغیر قلیل



Total Pages: 332

Go To