Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا برابر ہوجائے گا یہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے۔

        یہاں   دو بندوں   کا تذکرہ کیا،   ان میں   سے  ایک احمق اور جاہل ہے،   جو حکمت کی بات کر سکتا ہے نہ علم کی کسی بات پر قادر ہے اور نہ ہی اسے  استقامت حاصل ہے،   اس کے بعد اس کے اس صفت کے ساتھ متصف ہونے کی وجہ سے  اس کی مذمت بیان کی اور اس پر ناراضی کا اظہار کیا جبکہ دوسرے کو عدل کا حکم دینے والا بنایا جو راہِ مستقیم پر ثابت قدم ہے،   جیسا کہ ارشاد فرمایا: هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ (۴۱)  (پ۱۴،  الحجر:  ۴۱)  تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے۔  پس کیا کوئی اس کے راستے پر اس کی مرضی کے بغیر چل سکتا ہے؟ اور کیا کسی بندے کی مجال ہے کہ وہ اس کی طاقت و قدرت کے بغیر اس راستے پر ٹھہر سکے؟

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اس بندے کی تعریف فرمائی جسے  اسنے اس نعمت سے  نوازا اور اس کے اس صفت سے  متصف ہونے کا ذکر بھی کیا،   پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بات سے  آگاہ فرمایا کہ اس مثال میں   عقل کے لئے مخلوق کے ساتھ تشبیہ و تمثیل ہے۔ نیز عقل پر قیاس کریں   تو یہ معاملہ کچھ یوں   معلوم ہوتا ہے کہ خالق عَزَّ وَجَلَّنے ان میں   سے  ایک کے کام کو مباح قرار دیا اور دوسرے پر  (مَعَاذَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ)  ظلم کیا کیونکہ جو اپنے دو بندوں   کے ساتھ اس جیسا معاملہ کرے یعنی پہلے ان میں   سے  اس شخص کی مدح فرمائے،   جسے  اسنے توفیق عطا فرمائی ہو اور قدرت بھی بخشی ہو اور دوسرے کی مذمت بیان کرے حالانکہ اسے  اپنی نعمت سے  روک دیا ہو اور اسے  عاجز بھی بنایا ہو تو گویا اسنے اس پر ظلم کیا ۔

 (5) … پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی نہی کے ساتھ اس اعتراض کو دور فرما دیا اور پانچویں   محکم آیتِ مبارکہ میں   صراحت سے  اپنی تمثیل بیان کرنے سے  منع فرمایا،   جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمیں   ایسا کرنے سے  منع فرمایا ہے کہ ہم اس کے لئے ایسی مثالیں   بیان کریں   جو ہمارے اعمال کے مشابہ ہوں  ۔ چنانچہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (۷۴)  (پ۱۴،  النحل:  ۷۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تواللہ کے لئے مانند نہ ٹھہراؤ بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں   جانتے۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بات کو اپنے علم کے ساتھ او ر ہماری جہالت کے ساتھ خاص فرمایا ہے۔ اس کی تائید قرآنِ کریم کی اس آیتِ مبارکہ سے  بھی ہوتی ہے: 

لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ (۲۳)  (پ۱۷،  الانبیآء:  ۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس سے  نہیں   پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے  سوال ہوگا۔

لہٰذا پختہ علم والے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس بات کو تسلیم کیا کہ تمام احکام حاکم کے لئے ہیں  ،   پس وہ اس کے عذاب سے  محفوظ ہو گئے اور ایمان والے ہر قسم کی تقدیر پر ایمان لے آئے کہ وہ سب حاکم و حکیم کی حکمت اور عادل کے عدل کے باعث ہیں  ۔ وہ بھی اس کی سزا سے  محفوظ ہو گئے کیونکہ وہ متشابہ پر بھی ایمان لے آئے تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   اپنے فضل وکرم سے  بہت زیادہ اجر و ثواب عطا فرمایا۔ مگر سرکش لوگ آیاتِ متشابہات کی پیروی اور تاویلیں   کرنے کے سبب ہلاک ہو گئے اور گمراہی میں   مبتلا ہو گئے اور کل بروزِ قیامت تباہی و بربادی کا شکار بھی وہی ہوں   گے۔

جنت کے درجات اور جہنم کے طبقات: 

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی قول بھی ہماری ذکر کردہ معروضات کی تصدیق کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا آیتِ مبارکہ  (لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍؕ-لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ (۴۴)  (پ۱۴،  الحجر:  ۴۴)  )  تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس کے سات دروازے ہیں   ہر دروازے کے لئے ان میں   سے  ایک حصہ بٹا ہوا ہے۔ کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ ایک کے نیچے دوسرا طبق ہو گا،   اس طرح سات درجات ان کے اعمال کی مقدار کے اعتبار سے  ہوں   گے اور وہ ان تمام درجات میں   اپنے جرموں   کے لحاظ سے  تقسیم ہوں   گے جیسا کہ جنتی لوگ اپنے اپنے فضائل کے لحاظ سے  درجات میں   تقسیم ہوں   گے۔ ([1])  اور آیتِ مبارکہ میں    (لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ (۴۴) )  سے  مراد وہاں   رہنے والے ہر طبقے کا ایک معلوم و مقرر حصہ ہے۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! جنت میں   کوئی محل ہے نہ کوئی نہر اور نہ ہی کوئی نعمت مگر اس پر اس کے مالک اور اس عمل کا نام لکھا ہوا ہے جس کی وہ جزاہو گی۔ اسی طرح جہنم میں   کوئی طوق ہے نہ کوئی قید و بند،   نہ کوئی گھاٹی اور نہ کوئی عذاب مگر اس پر اس عمل کے اوصاف جس کی وہ جزا ہو گی اور جو وہاں   رہے گا اس کا نام لکھا ہوا ہے۔ مزید فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جنتیوں   کو جنت میں   داخل فرما دیا اس سے  پہلے کہ وہ اس کی اطاعت کرتے اور جہنمیوں   کو جہنم میں   داخل فرما دیا اس سے  پہلے کہ وہ اس کی نافرمانی کرتے۔  ([2])

عارفین کے اقوال: 

            ایک عارف کا قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اس بات کی کوئی پروا نہیں   کہ اس کی رضا کے بغیر مخلوق اس کی نافرمانی کرے اور وہ اس بات سے  بھی برتر ہے کہ مخلوق میں   سے  اس کے محبوب بندوں   کے سوا کوئی اسے  راضی کرے۔ البتہ عالم عدم میں   ایک قوم سے  ناراض ہوا اورجب انہیں   عالم ظہور میں   وجود بخشا تو انہیں   اہلِ غضب کے اعمال کی توفیق دی تا کہ انہیں   دارِ غضب میں   ٹھہرائے اور ایک قوم سے  راضی ہوا اور جب انہیں   عالم ظہور میں   وجود کی دولت عطا فرمائی تو انہیں   اہلِ رضا کے اعمال کی توفیق سے  نوازا تا کہ انہیں   دارِ رضا میں   ٹھہرائے۔

            بعض اہلِ معرفت کہتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوق کو عدم میں   ظاہر فرمایا اور انہیں   وجود بخشا،   قدرت دی،   پھر ان کے اعمال ظاہر فرما کر انہیں   اعمال کی بجاآوری میں   اختیار دے دیا،   پس ہر بندےنے اپنا عمل اختیار کر لیا،   اس کے بعد عالم غیب میں   وہ اور ان کے اعمال لپیٹ دیئے گئے۔ پھر جب مخلوق کو عالم موجودات میں   ظہور بخشا تو ان کی عقلوں   پر حجاب



[1]     تفسیر روح البیان، پ۵، النساء، تحت الایۃ۱۴۵، ج۲، ص۳۰۹ مفھوماً

[2]     یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم میں ہے کہ فلاں اطاعت شعاری کے سبب جنت میں جائے گا اور فلاں نافرمانی کے سبب جہنم کا حقدار ہو گا۔



Total Pages: 332

Go To