Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کہیں   گے اور وہ اس میں   باہم جھگڑتے ہوں   گے۔ خدا کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں   تھے۔ جبکہ تمہیں   ربّ العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے اور ہمیں   نہ بہکایا مگر مجرموں  نے۔

        منقول ہے کہ یہ آیاتِ مبارکہ قدریہ کے متعلق نازل ہوئیں   کیونکہ انہوں  نے برائی کی طاقت و قدرت کی نسبت مخلوق کی جانب کر دی تھی،   پس انہوں  نے اس وصف کے خالق ہونے کے اعتبار سے  خالق او رمخلوق کے درمیان برابری قائم کر دی۔ ([1])

          اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ (۹۶)   (پ۲۳،  الصّٰٓفّٰت:  ۹۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اوراللہنے تمہیں   پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے چونکہ اعمال کی تخلیق کی نسبت اپنی جانب فرمائی کہ جس طرح وہ بندوں   کا خالق ہے اسی طرح وہ ان

کے اعمال کا بھی خالق ہے ،   لہٰذا وہ مجرم ہیں   جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی جس میں   قدریہ کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان میں   ان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ منکر ہیں  : 

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ (۴۷)  یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْؕ-ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ (۴۸) اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ (۴۹)  (پ۲۷،  القمر:  ۴۷تا۴۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں  ۔ جس دن آگ میں   اپنے مونہوں   پر گھسیٹے جائیں   گے اور فرمایا جائے گا چکھو دوزخ کی آنچ۔ بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے  پیدا فرمائی۔

        لہٰذا یہی وہ مجرم لوگ ہیں   جنہوں  نے اپنے ماننے والوں   کو گمراہ کیا اور یہی وہ سرکش افراد ہیں   جنہیں   ان کے گروہوں   کے ساتھ جہنم میں   اوندھے منہ گرایا جائے گا۔

پانچ محکم آیات: 

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  ہم نے ابھی جو کچھ ذکر کیا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان سب کی تفصیل پانچ محکم آیات میں   ذکر کی ہے،   یہ آیاتِ مبارکہ ان تمام مذکورہ معانی و مفاہیم کو اپنے ضمن میں   لئے ہوئے ہیں  ،   مگر ہم نے طوالت کے خدشہ سے  ان کی شرح و تفسیر نہیں   کی کیونکہ ہمارا مقصود استدلال کی غرض سے  حجت قائم کرنا نہیں  ۔ چنانچہ ان کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

 (1)  وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِۚ-فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌؕ-اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ (۷۱)  (پ۱۴،  النحل:  ۷۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اوراللہنے تم میں   ایک کو دوسرے پررزق میں   بڑائی دی تو جنہیں   بڑائی دی ہے وہ اپنا رزق اپنے باندی غلاموں   کو نہ پھیر دیں   گے کہ وہ سب اس میں   برابر ہو جائیں   تو کیااللہ کی نعمت سے  مُکرتے ہیں  ۔

            یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آقاؤں   اور مالکوں   کو غلاموں   پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔

 (2)  ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْؕ-هَلْ                          تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تمہارے لئے ایک کہاوت بیان فرماتا

 لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ (پ۲۱،  الروم:  ۲۸)

ہے خود تمہارے اپنے حال سے  کیا تمہارے لئے تمہارے ہاتھ کے مال غلاموں   میں   سے  کچھ شریک ہیں   اس میں   جو ہم نے تمہیں   روزی دی تو تم سب اس میں   برابر ہو۔

        یعنی اسی طرح مَیں   ہوں   کہ میرے بندوں   میں   سے  میرا کوئی شریک نہیں  ،   پس میرے بندوں   اور میری مخلوق میں   سے  کسی کو برابری میں   میرا شریک نہ ٹھہراؤ،   کیونکہ جب میں  نے تمہارے اور تمہارے غلاموں   کے درمیان یکسانیت قائم نہیں   کی تو پھر تم پر لازم ہے کہ میرے بندوں   کو بھی میرے حکم میں   قطعی طور پر شریک نہ ٹھہراؤ۔

 (3)  ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ  (پ۱۴،  النحل:  ۷۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایماناللہنے ایک کہاوت بیان فرمائی ایک بندہ ہے دوسرے کی مِلک آپ کچھ مقدور  (طاقت) نہیں   رکھتا اور ایک وہ جسے  ہم نے اپنی طرف سے  اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں   سے  خرچ کرتا ہے۔

            مراد خرچ کرنا ہے۔ یہاں   دو طرح کے لوگوں   کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں  : ایک ایسا بخیل جو خرچ پر قادر نہیں  ،   پھر اس کی مذمت بخل اور اس کے عاجز ہونے سے  بیان فرمائی کہ یہی وہ شخص ہے جسے  اس کے بخلنے عاجز بنانے کے ساتھ ساتھ  (راہِ خدا میں   مال)  خرچ کرنے سے  روک دیا ہے جبکہ دوسرا سخی ہے،   جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سخاوت پر قدرت اور اپنی راہ میں   خرچ کرنے کی سعادت عطا فرمائی اور اس کے سخی ہونے کی تعریف بھی فرمائی۔

 (4)  وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ (پ۱۴،  النحل:  ۷۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اوراللہنے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں   کرسکتا۔

        یہاں   حکمت و علم مراد ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ارشاد فرمایا:

 (5)هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَۙ-وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِۙ- (پ۱۴،  النحل:  ۷۶)

 



[1]     نفح الطیب، ج۵، ص۲۹۴



Total Pages: 332

Go To