Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            کسی بزرگ کا قول ہے کہ مومن کی ادنیٰ حالت کھانا اور سونا ہے جبکہ منافق کی افضل حالت کھانا اور سونا ہے۔ چنانچہ کسینے ایک فلسفی حکیم سے  کہا کہ’’ میرے سامنے کسی ایسی شے کے اوصاف بیان کیجئے جس کے استعمال سے  میں   دن کے وقت بھی سوتا رہوں  ۔ ‘‘  تو اس نے کہا: ’’اے فلاں   ! تو کتنا کم عقل ہے! تیری عمر کا آدھا حصہ تو پہلے ہی سوتے ہوئے گزر رہا ہے جبکہ نیند تو موت کا نام ہے اور اب تو اپنی عمر کے تین چوتھائی حصے کو مزید نیند کی نذر کرنا چاہتا ہے اور صرف ایک چوتھائی حصے کو زندگی؟ ‘‘  تو اس بندےنے پوچھا: ’’وہ کیسے ؟ ‘‘  اس حکیمنے بتایا: ’’مثلاً تیری عمر چالیس سال ہو،   تو آدھی عمر بیس سال ہو گی اور تو ہے کہ اسے  بھی مزید دس سال بنانا چاہتا ہے۔  ‘‘  

کثرتِ کلام کے نقصانات: 

        کثرتِ کلام کے نقصانات یہ ہیں  : 

                                                ٭…  پرہیز گاری کی کمی اور تقویٰ کا خاتمہ ٭…  حساب کی طوالت

                                                ٭…  مطالبہ کرنے والوں   کی کثرت      ٭…  مظلوموں   سے  تعلق

                                                ٭…  کراماً کاتبین کی گواہی کی کثرت اور ٭…  اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  دائمی اعراض

        کلام زبان کے کبیرہ گناہوں   کا ذریعہ ہے،   ان گناہوں   میں   سے  چند یہ ہیں  : جھوٹ بولنا،   غیبت کرنا،   چغلی کھانا،   بہتان لگانا،   جھوٹی گواہی دینا،   پاکدامن پر تہمت لگانا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّپر افتراباندھنا،   قسمیں   کھانا،   لایعنی گفتگو کرنا اور غیر مفید باتوں   میں   مشغول رہنا۔ چنانچہ،   

        مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بندے کی اکثر خطائیں اس کی زبان میں   ہوتی ہیں   اور قیامت کے دن گناہوں   کی کثرت ان لوگوں   کی ہو گی جو سب سے  زیادہ لایعنی باتوں   میں   مشغول رہے ہوں   گے۔ ‘‘  ([1])

            زبان کی آفات میں   یہ باتیں   بھی شامل ہیں  : مخلوق کی خاطر تصنع اور بناؤ سنگھار کرنا،   صحیح معانی کے لئے تحریف و تبدیلی کرنا،   نفسانی خواہشات کے پیکر بندوں   کی خاطر چاپلوسی کرنا،   حقیقت چھپا کر کچھ اور ظاہر کرنا اور خوشامد کرنا۔

            بندے پر ان تمام آفات کا جمع ہو جانا اس کے دل کے انتشار کا باعث ہے اور دل کے انتشار میں   اس کے ارادوں   کا بکھر جانا پایا جاتا ہے اور جب اس کے ارادے بکھرتے ہیں   تو وہ مقامِ مقربین سے  گر جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے حضرت سیِّدُنا مجاہدعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَاحِد کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہرگز کسی بردبار سے  جھگڑنا نہ کسی بے وقوف سے  کیونکہ بردبار تجھے تھکا دے گا اور بے وقوف تکلیف کا باعث بنے گا۔‘‘  ([2])

’’فضول گوئی ‘‘  کے متعلق روایات:

 (1) … بندہ کوئی بات کرتا ہے اور اس کے انجام کی پروا نہیں   کرتا تو اس کی وجہ سے  زمین و آسمان کی دوری کی مقدار پستی میں   جا گرتا ہے۔ ([3])  ایک روایت میں   یہ الفاظ ہیں  :  ’’وہ کوئی بات کرتا ہے تو اس کے سبب اسے  جہنم میں   70 سال تک گرایا جاتا ہے۔ ‘‘  ([4])

 (2) … حضرت سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے سے  ارشاد فرمایا:  ’’تیرا گونگا بن کر اس حال میں   زندگی بسر کرنا کہ تیرا لعاب سینے پر بہہ رہا ہو لوگوں   کے سامنے لایعنی باتیں   کرنے سے  بہتر ہے۔ ‘‘  ([5])  

 (3) … جس نے کسی بری بات کا آغاز کیا پھر لوگ اس جیسی باتوں   میں   مشغول ہو گئے تو ان سب کا وبال اسی پر ہو گا۔

 (4) … برا آدمی ہی بدترین برائی لاتا ہے۔

 (5) … حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم   کے متعلق مروی ہے کہ جب کوئی شخص ان کے ساتھ ہوتا اور کوئی بری خبر یا بات لاتا تو آپ اس سے  جدا ہو جاتے۔

 (6) … جو شخص کانوں   سنی یا آنکھوں   دیکھی ہر بات بیان کر دے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  ان لوگوں   میں   لکھ دیتا ہے جو ایمان والوں   میں   فحاشی عام ہونے کو پسند کرتے ہیں  ۔ ([6])

 (7) … امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ لوگوں   میں   فحاشی کی خبر پھیلانے والا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہے۔

 (8) … اہلِ صفہ میں  سے  ایک صحابی راہِ خدا میں   جہاد کے دوران شہید ہو گئے تو ان کی والدہ ماجدہ بولیں  : ’’تجھے جنت مبارک ہو! تونے راہِ خدا میں   جہاد کیا،   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب ہجرت کی اور شہادت کی موت مرا۔ تجھے جنت مبارک ہو۔ ‘‘   (یہ سن کر)  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تمہیں   کیا معلوم کہ وہ جنت میں   ہے؟ ہو سکتا



[1]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۴۴۶، ج۱۰، ص۱۹۷                      شعب الایمان للبیھقی، باب فی الاعراض عن اللغو، الحدیث: ۱۰۸۰۸، ج۷، ص۴۱۶

[2]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصمت، باب النھی عن الکلام، الحدیث: ۱۱۴، ج۷، ص۸۸

[3]     صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، الحدیث: ۶۴۷۸، ص۵۴۴مفھوماً

                                                 شعب الایمان للبیھقی، باب حفظ اللسان، الحدیث: ۴۸۳۲، ج۴، ص۲۱۳مفھوماً

[4]     جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ما جاء من تکلم بکلمۃ، الحدیث:۲۳۱۴، ص۱۸۸۵

[5]     حلیۃ الاولیاء، تکلمۃ کعب الاحبار، الحدیث: ۷۶۲۵، ج۶، ص۶

[6]     الدر المنثور ، پ۱۸، النور، تحت الایۃ ۱۹، ج۶، ص۱۶۱۔ الفردوس بماثور الخطاب، الحدیث: ۵۶۴۳، ج۳، ص۵۲۶



Total Pages: 332

Go To