Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہیں  ۔ اس طرح کبھی تو بندہ اس کام کی انجام دہی سے  ہی رک جاتا ہے اور کبھی اس کے علاوہ کسی دوسرے امر میں   مشغول ہو جاتا ہے یہاں   تک کہ دن ختم ہو جاتے ہیں   اور اوقات بِیت جاتے ہیں   اور موت کا وقت آ جاتا ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی گرفت: 

        حالتِ غفلت میں   بندے کی عقل پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تا کہ وہ خوش فہمی کا شکار رہے،   اس پر نعمتوں   کی بارش کی جاتی ہے تا کہ وہ حقیقت نہ جان سکے،   نوازشیں   اس پر برستی ہیں   تا کہ وہ کچھ سمجھ نہ پائے،   اس کی خاطر بخشش کی امید کا دروازہ کشادہ کر دیا جاتا ہے تا کہ اس کی بد اعمالی میں   اضافہ ہو،   اس سے  موت روک لی جاتی ہے تا کہ اس کا خوف دور ہو جائے،   اس کے لئے آرزوئیں   بکھیر دی جاتی ہیں   اور خوف لپیٹ دیا جاتا ہے یہاں   تک کہ جن باتوں   سے  وہ بے

خوف ہو چکا تھا اچانک اللہ عَزَّ وَجَلَّانہی کے سبب اس کی گرفت فرماتا ہے اور اس کو زبردست گمراہی کی حالت میں   پکڑ لیتا ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (۵۰)  (پ۱۹،  النمل:  ۵۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: او رانہوں  نے اپنا سا مَکر کیا اور ہم نے اپنی خفیہ تدبیر فرمائی اور وہ غافل رہے۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان  (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-  (پ۷،  الانعام:  ۴۴)  )   ([1])   کا بھی یہی مفہوم ہے۔ یعنی جب انہوں  نے اس نصیحت کو چھوڑ دیا جو انہیں   کی گئی تھی اور جس سے  انہیں   ڈرایا گیا تھا تو ہم نے انہیں   نعمتیں   عطا کیں   اور اپنی شکر گزاری بھلا دی تو ان سے  مسلسل گناہ سر زد ہونے لگے اور ہم نے ان سے  استغفار کرنا بھی بھلا دیا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا:  (حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا (پ۷،   الانعام:  ۴۴) )   ([2])  یعنی وہ اس سے  پرسکون ہو گئے اور اطمینان محسوس کرنے لگے اور انہوں  نے اپنی اس حالت کو تبدیل کرنا چاہا نہ اس سے  توبہ کی تو  (اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً  (پ۷،  الانعام:  ۴۴)  )   ([3])  یعنی ہم نے انہیں   اچانک پکڑ لیا۔ مراد یہ ہے کہ جب وہ بے خوف ہو چکے تھے تو اچانک ہم نے انہیں   پکڑ لیا۔ ایک قول کے مطابق یہ اچانک پکڑ 40 سال بعد ہوئی۔ پھر ان کی حالت کے متعلق مزید ارشاد فرمایا:  (فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ (۴۴)  (پ۷،  الانعام:  ۴۴))   ([4])   یعنی وہ حیران و ششدر اور متحیر و مبہوت اور ہر خیر و بھلائی سے  نا امید و مایوس ہو گئے۔

        جان لیجئے کہ اگر بندے کی ہر ساعت پہلے سے  بد تر اور ہر دن پہلے سے  برا ہو کہ نہ تو وہ اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کر سکے اور نہ ہی کوئی تدارک کر پائے تو اس کے تمام اوقات اور تمام ایام برائی میں   ایک دن اور ایک ہی وقت کی مثل ہیں  ۔ یہ شخص اس فرد کی طرح ہے جس کی تمام عمر وقتِ واحد کی طرح ضائع ہو جائے کیونکہ اس وصف کی بنا پر عمر کے ضائع ہونے سے  مراد یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے وقت مؤخر ہوتا رہے اور پھر آہستہ آہستہ اسے  بالکل ہی فراموش کر دے۔ بندہ آہستہ آہستہ اپنا وقت گزار کر اپنی عمر کے آخری حصے میں   پہنچ جاتا ہے اور ضائع ہونے کے اعتبار سے  اس کی زندگی کو اجمالاً دیکھاجائے تو وہ ایک ہی دن کی طرح ہے۔ پس اس شخص کی مثال ایسی ہے جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:

وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا (۲۸)  (پ۱۵،  الکھف:  ۲۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے  غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے  گزر گیا۔

محاسبہ پر بندے کی کیفیت: 

        اس کی حالت اس شخص کی طرح ہے جو وعدہ اور وعید سے  غافل ہو اور جب پردہ ہٹے تو اس کی آنکھیں   حیران رہ جائیں   اور وہ مبہوت کھڑا رہے اور جن امور سے  غافل رہا انہیں   دیکھ کر اس کی آنکھیں   چکا چوند ہو جائیں   اور حد سے  تجاوز کرنے پر حسرت و یاس کی تصویر بن جائے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان ہے: 

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (۲۲)  (پ۲۶،  ق:  ۲۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک تو اس سے  غفلت میں   تھا تو ہم نے تجھ پر سے  پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔

        ایک قول کے مطابق یہاں   نگاہ کی تیزی سے  برے اعمال یا یقین کی جانب تیز نگاہوں   سے  دیکھنا مراد ہے اور ایک قول ہے کہ یہاں   نفع و نقصان کی امید رکھتے ہوئے میزان کی سوئی کو تیز نگاہوں   سے  دیکھنا مراد ہے۔

        اس شخص کی حالت اس جیسی ہے جس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا :

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُۘ-وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (۳۹)  (پ۱۶،  مریم:  ۳۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور انہیں   ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں   ہیں  ۔

        منقول ہے کہ ان کے پاس موت اس حال میں   آئی تھی کہ وہ امورِ دنیا میں   مشغول تھے۔ ایک قول کے مطابق وہ عورتوں   کے معاملات میں   مصروف تھے۔ چنانچہ ایسے  ہی لوگوں   کے اوصاف کے متعلق کہا گیا ہے:

 



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔

[2]     ترجمۂ کنز الایمان: یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جوانہیں ملا۔ 

[3]     ترجمۂ کنز الایمان: تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا۔ 

[4]     ترجمۂ کنز الایمان: اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے۔



Total Pages: 332

Go To