Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        جس قساوتِ قلبی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہلاک ہو جانے سے  ڈرایا ہے،   یہ بھی طویل غفلت کی پیداوار ہے۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-  (پ۲۳،  الزمر:  ۲۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے  سخت ہوگئے ہیں  ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس قساوتِ قلبی کا ذکر نفاق کے ساتھ ملا کر کیا ہے اور اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ اہلِ نفاق اور سخت دل لوگوں   کے لئے شیطان کے القا کو ایک فتنہ بنا دے گا۔ شیطان کے القا کی کثرت اس وقت ہوتی ہے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ یا اس کے مقرر کردہ فرشتے کا الہام کم ہو جاتا ہے جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ (پ۱۷،  الحج:  ۵۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے ان کے لئے جن کے دلوں   میں   بیماری ہے۔

                یعنی سخت دل والوں   کے لئے یہی معاملہ ہے۔ قساوتِ قلبی حقیقت میں   دوری کا نتیجہ ہے اور دوری خیانت کی سزا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّخیانت کرنے والوں   کو پسند نہیں   فرماتا۔ یہ بات اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں   تدبر و تفکر سے  معلوم ہوئی ہے:

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ- (پ۶،  المآئدۃ:  ۱۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اُن کی کیسی بدعہدیوں   پر ہم نے انہیں   لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردیئے۔

                                                یعنی انہوں  نے عہد توڑ کر خیانت کی اور ہم نے انہیں   دور کر دیا اور پھر لگاتار گناہوں   کی وجہ سے  ان کے دل سخت کر دیئے یعنی جھوٹ،   نسیان اور ان کے کثرت سے  خیانت اور بہتان لگانے میں   مبتلا ہونے کی وجہ سے ۔ پس وہ گناہ کرتے رہے اور ان کے دل پر مہریں   لگتی رہیں  ،   آخر ان کے دل محبوب یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کی سماعت سے  بہرے ہو گئے۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:  لَوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْۚ-وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ (۱۰۰)  (پ۹،  الاعراف:  ۱۰۰)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم چاہیں   تو انہیں   ان کے گناہوں   پر آفت پہنچائیں   اور ہم ان کے دلوں   پر مُہر کرتے ہیں  ۔

        پس اس مہر کی جلا تقویٰ ہے جو سماعت کی کنجی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ- (پ۷،  المآئدۃ:  ۱۰۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ سے  ڈرو اور حکم سنو۔

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔

٭٭٭

٭مال میں برکت٭

حضرت قیس بن سلع انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ ان کے بھائیوں نے حضور پاک،   صاحب لولاک،   سیاح افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  ان کی شکایت کی کہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں اور اس معاملے میں بہت کھلا ہاتھ ہے،  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے  فرمایا: یَا قَیسُ! مَا شَاْنُ اِخْوَتِکَ یشکُوْنَکَ یزعَمُوْنَ اَنَّکَ تُبَذِّرُ مَالَکَ،   وَتَنْبَسِطُ فِیہِ۔یعنی تمہارے بھائیوں کا کیا مسئلہ ہے،   وہ اس گمان پر تمہاری شکایت کررہے ہیں کہ تم اپنے مال میں بہت فضول خرچی کرتے ہو اور تمہارا ہاتھ بہت کھلا ہے؟ میں نے عرض کی: یا رَسُوْلَ اللہِ! اِنِّيْ اٰخُذُ نَصِیبِيْ مِنَ الثَّمَرَۃِ فَاُنْفِقُہُ فِيْ سَبِیل اللہِ،   وَعَلٰی مَنْ صَحِبَنِيْ۔یعنی یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں آمدنی سے  اپنا حصہ لے کر اللہ کی راہ میں اور اپنے دوستوں میں خرچ کردیتا ہوں تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے سینہ پر  (شفقت کے ساتھ)  دستِ اقدس مارا اور تین مرتبہ فرمایا: اَنْفِقْ ینفِقِ اللہُ عَلَیکَ۔ خرچ کر اللہ تجھے عطا فرمائے گا۔  (راوی فرماتے ہیں)  اس کے بعد جب بھی میں راہِ خدا میں نکلتا تو میرے پاس اپنی سواری ہوتی اور آج میرا یہ حال ہے کہ میں مال و آسائش میں اپنے اہلِ خانہ  (بھائیوں)  سے  بڑھ کر ہوں۔  (المعجم الاوسط،   الحدیث۸۵۳۶،  ج۸،  ص۲۴۷)

  فصل:  26

اہلِ مراقبہ کے مشاہدے کا بیان

اہلِ مراقبہ و مشاہدہ میں   فرق: 

        اہلِ مراقبہ کا مشاہدہ،   اہلِ مشاہدہ کا پہلا مراقبہ ہوتا ہے۔ اس طرح کہ جس کا مقام مراقبہ ہو اس کا حال محاسبہ ہوتا ہے اور جس کا مقام مشاہدہ ہو اس کا وصف مراقبہ ہوتا ہے۔

وقت کی اہمیت: 

            اہلِ مراقبہ میں   سے  کسی فرد کے مشاہدہ کی ابتدا یہ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی طور پر جان لے کہ اس کا کوئی بھی وقت خواہ کتنا ہی مختصر ہو،   تین باتوں   سے  خالی نہ ہو:

 (۱) … اس وقت میں   اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کوئی فرض لازم ہو جس کی دو صورتیں   ہو سکتی ہیں  : اسے  کسی امر کے بجا لانے یا چھوڑ دینے یعنی مُنْھِیات سے  اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہو گا۔

 (۲) … وہ وقت کسی مستحب کام کی ادائیگی میں   صرف کرے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قرب کا باعث بننے والے خیرو بھلائی کے کسی امر کی ادائیگی میں   سبقت لے جائے اور نیکی کا کام وقت ختم



Total Pages: 332

Go To