Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہوئے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اس امت کے متقین تکلف سے  بری ہیں  ۔

            لہٰذا قیامت کے دن حساب وکتاب کے وقت آپ پر سزا واجب ہو گی،   ہاں   اگر مولائے کریم عَزَّ وَجَلَّ معاف فرما دے تو بچ سکتے ہیں  ۔ اس لئے بہترین توبہ کرنے اور اچھے انداز میں   معذرت کرنے کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  معافی طلب

کریں   اور اس سے  ڈریں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو آپ کے نفس کے حوالے کر دے ورنہ ہلاک وبرباد ہو جائیں   گے۔

            ممکن ہے کہ ان دونوں   معانی کا مشاہدہ یعنی جن اعمال کو سر انجام نہ دے سکے ان کا خوف اور جن پر عمل کیا ان کے قبول کر لئے جانے کی شدید خواہش آپ کو سونے نہ دے،   غفلت دور کر دے اور آپ شب بیدار بن جائیں   اور آپ کا شمار بھی ان لوگوں   میں   ہونے لگے جن کے اوصاف اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں بیان کئے ہیں:

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘- (پ۲۱،  السجدۃ:  ۱۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کی کروٹیں   جدا ہوتی ہیں   خوابگاہوں   سے  اور اپنے ربّ کو پکارتے ہیں   ڈرتے اور امید کرتے ۔

بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا اندازِ محاسبہ : 

        سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ جس طرح  (کاروبار میں  )  شریک دو افراد ایک دوسرے کا سختی سے  محاسبہ کرتے ہیں   بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن  اپنے نفس کا محاسبہ اس سے  بھی زیادہ سختی سے  کیا کرتے تھے۔ ([1])  

اسبابِ غفلت:

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کی علامت یہ ہے کہ بندہ دوسروں   کے عیوب بیان کرتا رہے اور اپنے عیوب کو بھول جائے اور گمان رکھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّلوگوں   پر ناراض ہے اور یہ یقین رکھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے  محبت کرنے والا ہے۔

            نفس کا محاسبہ ومراقبہ ترک کر دینا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے  پیدا کردہ طویل غفلت کا نتیجہ ہے،   دنیا میں   جو غافل ہوں   گے آخرت میں   خسارہ اٹھانے والے ہوں   گے کیونکہ عاقبت متقین کے لئے ہے۔ چنانچہ،   

          اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: 

وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ (۱۰۸)  (پ۱۴،  النحل:  ۱۰۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہی غفلت میں   پڑے ہیں  ۔

            اس میں   شک نہیں   کہ غافلین ہی آخرت میں   خسارہ پانے والے ہیں   اور بندے کی طویل غفلت معبود بر حق عَزَّ وَجَلَّ

کی جانب سے  دل پر مہر لگانے کے سبب ہے،   ظاہری غفلت سے  مراد دل کا باطنی غلاف ہے۔

دل پر مہر لگنے اور زنگ آلود ہونے سے  مراد: 

        دل پر مہر سے  مراد یہ ہے کہ مسلسل گناہ کرنے کے سبب ایک کے اوپر دوسری مہر لگتی رہتی ہے اور یہی وہ زنگ ہے جو بڑھتا ہی رہتا ہے اور آخر بندے کے لئے سزا کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (۱۴)  (پ۳۰،  المطففین:  ۱۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کوئی نہیں   بلکہ ان کے دلوں   پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں  نے۔

        منقول ہے کہ یہاں   خبیث اور مالِ حرام کمانے والے لوگ مراد ہیں   اور تفسیر میں   ہے کہ یہاں   دلوں   کے زنگ آلود ہونے سے  مراد گناہ پر گناہ کرنا ہے یہاں   تک کہ دل سیاہ ہو جائیں  ۔ ([2])

اسبابِ معصیت: 

            لگاتار گناہوں   میں   مبتلا رہنے کے اسباب یہ امور ہیں  :  ٭ مراقبہ سے  غفلت ٭… ترکِ محاسبہ٭…  توبہ میں   تاخیر٭…استقامت میں   ٹال مٹول اور ٭…عدمِ استغفار وندامت۔

            ان سب امور کی اصل دنیا کی محبت اور دنیا کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے احکام پر ترجیح دینا اور خواہشاتِ نفسانیہ کا دل پر غالب آ جانا ہے۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا؟

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ (۱۰۷) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْۚ-  (پ۱۴،  النحل:  ۱۰۸،  ۱۰۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ اس لئے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی آخرت سے  پیاری جانی اور اس لئے کہ اللہ  (ایسے )  کافروں   کو راہ نہیں   دیتا۔ یہ ہیں   وہ جن کے دل پر اللہنے مُہر کر دی ہے۔

 



[1]     جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ، باب حدیث الکیس     الخ، الحدیث: ۲۴۵۹، ص۱۸۹۹مفھوماً

[2]     تفسیر القرطبی، پ ۳۰، المطففین، تحت الایۃ۱۴، ج۱۰، الجزء التاسع عشر، ص۱۸۳



Total Pages: 332

Go To