Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        عمر میں   برکت سے  مراد یہ ہے کہ آپ اپنی چھوٹی سی عمر میں   حالتِ بیداری کے سبب وہ مقام و مرتبہ پانے میں   کامیاب ہو جائیں   جو آپ کے علاوہ دوسرے افراد اپنی طویل عمر میں   غفلت کے سبب نہ پا سکے۔ اس طرح ایک ہی سال میں   آپ اس بلند مقام پر فائز ہو جائیں   گے جس مقام پر کوئی دوسرا شخص 20 سالوں   میں   فائز نہ ہو سکا۔

مقربین و غافلین کے درجات میں   تفاوت: 

            صفاتِ ربوبیت کی تجلی کے وقت خواص مقربین بلند درجات پر فائز ہوتے ہیں   اور ان اوقات میں   ان کے قلوب کے مختصر اعمال و اذکار میں   سے  اگر کچھ رہ بھی جائیں   تو اُن کی تلافی اِس تجلی سے  ہو جاتی ہے۔ پس ان کے ذکر یعنی ان کے تسبیح و تہلیل کرنے یا حمد بیان کرنے یا تدبر و تفکر کرنے اور مشاہدۂ قرب کا تذکرہ کرنے،   صفاتِ ربوبیت کا وجدان حاصل ہونے،   حبیب کی جانب دیکھنے اور قریب سے  قریب تر ہونے کا ایک ذرہ بھی غافلین کے پہاڑوں   کی مثل اعمال سے  افضل ہے کیونکہ غافلین کو صرف اپنے نفوس کا وجدان حاصل ہوتا ہے اور وہ صرف مخلوق کا ہی مشاہدہ کرتے ہیں  ۔ مگر عارفین کا قیام ان کے مشاہدے سے  ہوتا ہے اور وہ قرب و حضوری کے لمحات میں   اپنی امانتوں   اور اپنے عہد کا خیال رکھتے ہیں  ،   ان کی مثال لیلۃ القدر میں   عبادت کرنے والے اس شخص جیسی ہے جس کی عبادت اگر اس رات کے موافق ہو جائے تو وہ عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے  بہتر ہو جاتی ہے۔ جبکہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ عارف کی ہر رات لیلۃ القدرہوتی ہے۔چنانچہ،   

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ ہر وہ دن جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی نہ کی جائے وہ ہمارے لئے عیدکا دن ہے۔

غفلت میں   گزرنے والے ایام: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ (۲۴)  (پ۲۹،  الحآ قّۃ:  ۲۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تمنے گزرے دنوں   میں   آ گے بھیجا۔

        حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ بالا کی جب تلاوت کرتے تو فرماتے: ’’اے میرے بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! ایامِ خالیہ یہی ہیں  ،   پس انہیں   کوشش و محنت سے  بسر کرو اور انہیں   ضائع مت کرو اس طرح کہ تم انہیں   حسنِ معاملہ سے  خالی چھوڑ دو بلکہ ان ایام میں   اپنی آخرت کے کاموں   میں   مشغول نہ ہونا محرومی ہے۔

            قیامت کے دن گناہگار کہیں   گے:

یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَاۙ- (پ۷،  الانعام:  ۳۱)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں   ہم نے تقصیر کی۔

            یعنی ان کا یہ افسوس اُن ایامِ خالیہ میں   نیک اعمال نہ کرنے پر ہو گا جو ان کے لئے آخرت کا زادِ راہ حاصل کرنے اور اخروی ٹھکانے کی کامیابی کا سبب بن سکتے تھے۔

        اور نفسِ امارہ والے لوگ کہیں   گے:

یٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ (پ۲۴،  الزمر:  ۵۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہائے افسوس ان تقصیروں   پر جو میں  نے اللہ کے بارے میں   کیں  ۔

            یعنی یہاں    (فِیْ جَنْۢبِ اللّٰه)  سے  مراد وہ ایامِ دنیا ہیں   جن میں   انہوں  نے زندگی برباد کی،   لہٰذا کل بروزِ قیامت وہ دن اجر و ثواب اور جزا سے  خالی ہوں   گے اور ایک قول ہے کہ وہ دن تو اپنے اوقات کے ساتھ گزر گئے مگر ان کے احکام ہمیشہ کے لئے رہ گئے،   ان کی خواہشات تو ختم ہو گئیں   مگر ان کی سزائیں   باقی رہ گئیں  ۔

اوقاتِ محاسبہ:

         (شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  اگر آپ عارفین کے مقامات کے اعتبار سے  اپنے نفس کا محاسبہنہ کر پائیں   اور نہ ہی اس طرح نفس کا مراقبہ ممکن ہو تو بھی اہلِ ورع و تقویٰ کے مقام کو ہر گز ہاتھ سے  نہ جانے دیں   اور نہ ہی کبھی توبہ کرنے والوں   کے حال سے  جدا ہوں   اور رات دن میں   محاسبۂ نفس کے لئے دو اوقات متعین کر لیں  : 

 (۱) … نمازِ چاشت کے بعد کہ رات گزرنے کی کیفیت کیسی تھی اور کتنا وقت غفلت کا شکار رہے؟ اگر نعمت پائیں   تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کریں   اور اگر کوئی مصیبت دیکھیں   تو اس سے  مغفرت چاہیں  ،   پس اگر آپ نے اپنی حالت میں   مومنین کے اوصاف پائے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بیان کئے ہیں   اور ان کی تعریف فرمائی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کی امید رکھیں   اور خوشی محسوس کریں  ،   لیکن اگر اپنے دل میں   اور حالت میں   منافقین کے اوصاف پائیں   یا جاہلین کے اخلاق میں   سے  کوئی ایسا خلق پائیں   جس کی مذمت اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بیان کی ہو اور اس پر ناراضی کا اظہار کیا ہو تو غمزدہ ہو جائیں   اور ایسی باتوں   سے  توبہ کر کے بخشش کا سوال کرتے رہیں  ۔

 (۲) … دوسری مرتبہ اپنے نفس کا محاسبہ نمازِ وتر کے بعد اور سونے سے  پہلے کریں   کہ دن گزرنے کی کیفیت کیسی رہی؟ یعنی کیا طویل وقت غفلت اور برے معاملات کی ادائیگی میں   تو بسر نہیں   کیا،   نیز جو عمل کئے،   کیسے  کئے؟ اور جو اعمال چھوڑے،   کیوں   اور کس کی خاطر چھوڑے؟ تا کہ زیادتی و نقصان معلوم ہو اور آپ اس کے سبب اپنی حرکات و سکنات میں   موجود تکلف و اخلاص جان سکیں  ۔

تکلف و اخلاص: 

            رضائے ربّ الانام کے لئے دن میں   آپ کی ادا کردہ تمام حرکات و سکنات اخلاص کا سبب ہوں   تو آپ کا اجر و ثواب قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہو گا۔ پس توفیق کی نعمت اور ہلاکت سے  بچاؤ کے احسان پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر بجا لائیں   اور اگر آپ کی حرکات و سکنات خواہشِ نفس اور کسی دنیاوی غرض کے تابع ہوں   تو یہ تکلف ہے جس کی خبر دیتے



Total Pages: 332

Go To