Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہو وہ بھی نقصان میں   ہے۔ ([1])

 (7) … جو اپنے نفس کا نقصان تلاش نہیں   کرتا وہ نقصان میں   ہے اور جو نقصان میں   ہو اس کے لئے موت بہتر ہے  ([2]) اور میری عمر کی قسم! بیشک مومن شکر کرنے والا ہوتا ہے اور شکر کرنے والا مزید  (فضل و کرم)  کے حصول پر رہتا ہے۔

٭٭٭

فصل:  25

نفس اور عارفین کی وِجْدانی کیفیات کےتَغَیُّر کا بیان

نفس کی ابتلا و آزمائش: 

        نقصان کا آغاز غفلت سے  ہوتا ہے اور غفلت آفاتِ نفس کی پیداوار ہے۔ نفس فطرتاً متحرک ہے مگر اسے  ساکن رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو اس نفس کی ابتلا و آزمائش ہے تا کہ یہ اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجہ رہے اور اپنی قدرت و طاقت سے  براء ت کا اظہار کرے۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ  لَا  تَمُوْتُنَّ  اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ (۱۰۲)  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۰۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان ۔

            تا کہ تم اس کی بارگاہ میں   آہ و زاری کرو اور یہ کہو:

رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ (۱۲۶)  (پ۹،  الاعراف:  ۱۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ربّ ہمارے ہم پر صبر اُنڈیل دے اور ہمیں   مُسلمان اٹھا۔

        جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان ہے:

وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا (۱۱)  (پ۱۵،   بنی اسرآئیل:  ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور آدمی بڑا جلد باز ہے۔

             اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ- (پ۱۷،  الانبیآء:  ۳۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: آدمی جلد باز بنایا گیا۔

        اس کے بعد ارشاد فرمایا:

سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ (۳۷)  (پ۱۷،  الانبیآء:  ۳۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اب میں   تمہیں   اپنی نشانیاں   دکھاؤں   گا مجھ سے  جلدی نہ کرو۔

             اور دوسری جگہ فرمایا: 

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُؕ- (پ۱۴،  النحل:  ۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اب آتا ہے اللہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو۔

        پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے نفس کے اوصاف کے متعلق ارشاد فرمایا کہ یہ عجلت پسند ہے لیکن اس کے بعد اسے  آزمانے کے لئے عجلت پسندی چھوڑنے کا حکم دیا۔ لہٰذا اگر ایمان میں   زیادتی کا سبب بننے والی سکینہ کا نزول ہو تو نفس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے  اپنی خواہشات سے  پر سکون ہو جاتا ہے اور اگر دل پر غفلت کا حجاب طاری ہو جو کہ عاجزی و انکساری اور گریہ و زاری کی علامت ہے تو نفس اپنی فطرت کے اعتبار سے  حرکت میں   آ جاتا ہے،   اب اگر یہ اپنی حرکت سے  سکون پا جائے تو یہ صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و احسان سے  ہی ممکن ہوا ہے اور اگر اپنی کیفیت کے اعتبار سے  حرکت کرتا رہے تو اس کی وجہ آزمائش و عدل ہے کیونکہ اس آزمائش کی ابتدا نفس کی کیفیت کے مختلف ہونے سے  ہوتی ہے اور نفسانی کیفیت میں   اختلاف کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب اس کی مخالفت ہو۔ چنانچہ سب سے  پہلے دل میں   ارادہ پیدا ہوتا ہے جس کا سبب کان بنتے ہیں  ،   پھر یہ ارادہ آنکھوں   سے  دیکھنے اور زبان سے  کلام کرنے کا سبب بنتا ہے اور اسی دیکھنے اور کلام کرنے سے  خواہشِ نفس پیدا ہوتی ہے جو گناہ کا سبب بنتی ہے اور گناہ کا ٹھکانا تو آگ ہے جس سے  نجات اسی صورت میں   ممکن ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کو اس آگ سے  دور کر دے یعنی دنیا میں   اسے  توبہ کی توفیق عطا فرما دے یا آخرت میں   معاف کر دے۔

عارفین کی معصیت سے  نفرت اور عبادت سے  محبت: 

        بعض اوقات ایک عارف پر مخالفت و نافرمانی آگ سے  بھی زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کسی عارف سے  مروی ہے کہ’’مجھے آگ میں   داخل کر کے آزمایا جائے یہ مجھے معصیت



[1]     الزھد الکبیر للبیھقی، الحدیث: ۹۸۷، ص۳۶۷

[2]     حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۹۴ ابراھیم بن ادھم، الحدیث: ۱۱۳۰۵، ج۸، ص۳۵



Total Pages: 332

Go To