Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور نمازقائم رکھو اور مشرکوں   سے  نہ ہو۔

            پس عارفین کی عبادت انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے طریقے اور سنت کے مطابق ہوتی ہے،   ان کے رجوع اور توبہ کا محور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ جس کے ذکر میں   وہ مشغول رہتے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی ضد کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ (پ۱۶،  الکھف:  ۱۰۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جن کی آنکھوں   پر میری یاد سے  پردہ پڑا تھا۔

عارفین کے ذکر کی کیفیت: 

            مذکورہ آیتِ مبارکہ میں   جن لوگوں   کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں   عارفین چونکہ ان کی ضد ہیں  ،   لہٰذا انہیں  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کا کشف حاصل ہوتا ہے اور ان کے ذکر کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کے علاوہ ہر شے بھول جاتے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کا بھی یہی مفہوم ہے:

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ (پ۱۵،  الکھف:  ۲۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے۔

        یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکرنے انہیں   دنیا سے  بھاگ کر بارگاہِ ربوبیت کی جانب جاننے کا راستہ دکھایا جیسا کہ انہوں  نے اس سے  سمجھا۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:

لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ (۱۵۲)  (پ۸،  الانعام:  ۱۵۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کہ کہیں   تم نصیحت مانو۔

        پس وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   بھاگ کر حاضر ہوئے تو اسنے انہیں   اپنے قرب کی دولت سے  سرفراز کیا اور انہیں   اپنی محبت کی راہِ ہدایت دکھائی،   ان کے لئے اپنی رحمت کشادہ فرمائی اور انہیں   اپنی قدرتِ کاملہ کے قبضہ میں   جگہ عطا فرمائی۔ ان کے سوا نہ تو انہیں   کسینے دیکھا اور نہ ہی ان کے سوا کسینے انہیں   پہچانا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے:  وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ (پ۱۵،  الکھف:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جب تم ان سے  اور جو کچھ وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں   سب سے  الگ ہوجاؤ تو غار میں   پناہ لو تمہارارب تمہارے لئے اپنی رحمت پھیلادے گا۔

        اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ (۹۹)    (پ۲۳،  الصّٰفّٰت:  ۹۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کہا میں   اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں   اب وہ مجھے راہ دے گا۔

اَورَاد و وظائف اور ان کے فضائل کا تذکرہ: 

        سالک مقررہ اوراد اور مخصوص و معلوم اعمال کے تسلسل سے  نقصان کو زیادتی سے  الگ کر سکتا ہے اور اسی طرح عزم و ارادے کی قوت کو معمول کی کمزوری سے  پہچان سکتا ہے اوراد میں   ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اگر عامل کسی مرض یا سفر کی وجہ سے  کسی وِرْد پر عمل نہ کر سکے تو فرشتہ اس کے لئے حالتِ صحت میں   بجا لانے والے عمل جیسا ثواب لکھ لیتا ہے۔

عالم اور عابد میں   فرق: 

            عارف کی نیند بعض اوقات جاہل کی نماز سے  بہتر ہوتی ہے کیونکہ یہ سونے والا  (گناہوں   اور آفات سے )  محفوظ ہوتا ہے اور اس لئے بھی کہ وہ اس حال میں   بھی زاہد و عالم ہی ہے اور جب بیدار ہو گا تو یہ سب فضیلت پا لے گا لیکن یہ روزہ دار و عبادت گزار شخص آفات سے  محفوظ نہیں   کیونکہ اس حال میں   بھی شیطان اس کی عبادات میں   خلل ڈالتا رہتا ہے اور وہ جاہل اپنے ہی دھوکا و فریب میں   مبتلا جب کوئی فضیلت پاتا ہے تو اسے  ضائع کر بیٹھتا ہے۔

عالم کی نیند : 

            مروی ہے کہ رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’عالم کی نیند عبادت اور اس کا سانس لینا تسبیح ہے۔ ‘‘  ([1])

ایک عالم شیطان پر بھاری: 

            سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ایک عالم شیطان پر ہزار عابدوں   سے  زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ ‘‘  ([2])

حقیقی عالم علم ترک نہیں   کرتا: 

        ایک روایت میں   ہے کہ اگر یہ اس پر یعنی آسمان زمین پر گر جائے تب بھی عالم کسی شے کی خاطر اپنا علم نہ چھوڑے گا لیکن اگر عابد پر دنیا کھول دی جائے تو وہ اپنے ربّ کی عبادت ترک کر دے گا۔ ([3])

            عالم کو بعض اوقات حالتِ نیند میں   آیات اور عبرتوں   کا کشف ہوتا ہے اور بعض اوقات ملکوتِ اعلیٰ و اسفل کا کشف بھی ہوتا ہے،   وہ علوم سے  مخاطب ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی



[1]     الفردوس بماثور الخطاب، الحدیث:۶۹۹۹، ج۲، ص۳۶۵

[2]     سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء و الحث، الحدیث: ۲۲۲، ص۲۴۹۰ عالم بدلہ فقیہ

[3]     الفقیہ و المتفقہ للخطیب،باب فضل الفقھاء علی العباد،الحدیث: ۶۰،ج۱،ص۱۰۶

 



Total Pages: 332

Go To