Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ارشاد فرمایا ہے کہ ’’جس کی آنکھیں   کچھ دیکھیں   یا اس کے کان کوئی بات سنیں   اور وہ اسے  آگے بیان کر دےتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  ان لوگوں   میں   لکھ دیتا ہے جو ایمان والوں   میں   بری باتوں   کے عام ہونے کو پسند کرتے ہیں  ۔ ‘‘   ([1])

        اس وعید کا سبب اس پردے کا ہٹا دینا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں   کے عیوب پر ڈالا ہوا ہے،   نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اپنے بندوں   سے  محبت بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ دعا کیا کرتے تھے:  ( اَللّٰہُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا فَنَتَّبِعَہٗ وَالْبَاطِلَ بَاطِلًا فَنَجْتَنِبَہٗ وَلَا تَجْعَلْ ذٰلِكَ عَلَیْنَا مُتَشَابِہًا فَنَتَّبِـعَ الْہَوٰی)   ([2])  یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   حق کو حق ہی دکھانا تاکہ ہم اس کی پیروی کرنے لگیں   اور باطل کو باطل ہی دکھانا تاکہ ہم اس سے  اجتناب کر سکیں   اور اسے  ہم پر مشتبہ نہ بنانا کہ کہیں   ہم اس کی پیروی نہ کرنے لگیں  ۔

امور کی اقسام: 

            حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے  مروی ہے کہ تمام امور تین طرح کے ہوتے ہیں  :  (۱) … تم پر جس امر کی دانائی ظاہر ہو جائے اس کا اتباع کرو  (۲) … جس کی سرکشی ظاہر ہو جائے اس سے  اجتناب کرو اور  (۳) … جس امر کاسمجھنا مشکل ہو اس کو کسی عالم دین کے سپرد کر دو۔ ([3])

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم دعا فرمایا کرتے:  (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِكَ اَنْ اَقُوْلَ فِی الْعِلْمِ بِغَیْرِ عِلْمٍ)  یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   تجھ سے  بغیر علم کے علمی گفتگو کرنے سے  پناہ چاہتا ہوں  ۔

اظہارِ حق و باطل:

        اظہارِ حق اور بیانِ صدق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں   ہیں   اور اسی طرح یہ بھی اس کی نعمت ہے کہ وہ باطل کو بطورِ باطل منکشف فرما دے اور گمراہی و ضلالت کو بطورِ گمراہی و ضلالت واضح کر دے کیونکہ اس کا تعلق یقین سے  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس نعمت سے  اپنے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سرفراز فرمایا اور اسے  اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   تفصیلِ آیات قرار دیتے ہوئے ارشادفرمایا:

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ (۵۵)  (پ۷،  الانعام:  ۵۵)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اسی طرح ہم آیتوں   کو مفصّل بیان فرماتے ہیں   اور اس لئے کہ مجرموں  کا رستہ ظاہر ہوجائے۔

        تحقیق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بات کا متقین سے  وعدہ فرمایا ہے اور اس کو گناہوں   کی تکفیر اور بخشش سے  پہلے ذکر کیا اور اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   اسے  اپنا فضلِ عظیم قرار دیا ہے:  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ (پ۹،  الانفال:  ۲۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ایمان والو اگر اللہ سے  ڈرو گے تو تمہیں   وہ دے گا جس سے  حق کو باطل سے  جدا کرلو اور تمہاری برائیاں   اتار دے گا۔

            یعنی تمہارے دلوں   میں   ایسا نور پیدا فرما دے گا جس کے سبب تم شبہات وغیرہ میں   تفریق کر لو گے۔

        اسی کی مثل ارشاد فرمایا:

وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ (۲)  (پ۲۸،  الطلاق:  ۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو اللہ سے  ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا۔

            یعنی ہر اس معاملے سے  نکلنے کا راستہ بنائے گا جو لوگوں   پر مشکل ہو گا،   پھر ارشاد فرمایا: وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ- (پ۲۸،  الطلاق:  ۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اسے  وہاں   سے  روزی دے گا جہاں   اس کا گمان نہ ہو۔

            یعنی بن سیکھے علم عطا فرمائے گا اور وہ علم خبیر و علیم عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  الہام و توفیق ہو گا۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مومنین سے  وعدہ فرما رکھا ہے کہ جب علما میں   باہمی سرکشی یعنی تکبر اور حسد وغیرہ کے سبب اختلاف پیدا ہو جائے گا تو وہ انہیں   اس نعمت سے  سرفراز فرمائے گا اور اسنے قرآنِ حکیم کی آیاتِ بینات ،   تقدیر اور امورِ غیبیہ کی تصدیق نہ کرنے والے منافقین پر اس نعمت کو حرام ٹھہرا دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْۚ- (پ۲،  البقرۃ:  ۲۱۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کتاب میں   اختلاف انہیں  نے ڈالا جن کو دی گئی تھی بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے آپس کی سرکشی سے ۔

        پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایمان والوں   کو حق بات میں   اپنے اِذن سے  اختلاف کرنے کی وجہ سے  ہدایت سے  نوازا،   لہٰذا راہِ حق کی ہدایت پانے کا اسلوب یہ ٹھہرا کہ جب متقین کو ہدایت کی دولت سے  سرفراز کیا جائے تو حق واضح ہو جاتا ہے،   اب ابتلا و آزمائش کے لئے باطل کا ظہور ہو گا نہ بندے پر  (باطل کے)  احکام کا اعادہ ہو گا۔ بعض اوقات باطل سے  مراد شیطان ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ نفس کی صفت بھی واقع ہوتا ہے۔ چنانچہ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا:

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ (۴۹)  (پ۲۲،  سبأ:  ۴۹)  

 



[1]     الزھد لابی حاتم الرازی، الحدیث: ۹۵، ص۹۶

[2]     تفسیر قرآن العظیم لابن کثیر، پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ ۲۱۳، ج۱، ص۴۲۷ بتغیر قلیل

[3]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۷۷۴، ج۱۰، ص۳۱۸



Total Pages: 332

Go To