Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہے۔ ‘‘   ([1])

موت کافی ہے: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’موت،   بطورِ واعظ … خشیت بطورِ علم… یقین بطورِ غنا اور … عبادت بطورِ شغل کافی ہے۔ ‘‘  ([2])

خطبہ حجۃ الوداع کے منفرد کلمات: 

        سید الخطباء،   حکیم الحکماء،   حبیبِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے وعظ و نصیحت میں   زہد و بصارت سے  بھرپور ایسے  جامع کلمات ارشاد فرمائے جو ان تمام معانی کو اپنے دامن میں   سمیٹے ہوئے ہیں   جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خطبے کی تشریحات میں   بیان کئے گئے ہیں  ۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

٭… اے لوگو! گویا کہ اس میں   ہمارے غیر پر موت لکھی گئی اور گویا کہ اس میں   ہمارے غیر پر حق لازم کیا گیا اور گویا کہ ہم جن مرنے والوں   کو سفر آخرت پر روانہ کرتے ہیں   وہ تھوڑی ہی دیر بعد ہماری جانب لوٹ آئیں   گے،   ہم انہیں   ان کی قبروں   میں   چھوڑ آتے ہیں  ،   ان کا ترکہ و وراثت کھاتے ہیں   گویا کہ ہم ان کے بعد ہمیشہ رہیں   گے،   اس حال میں   کہ ہم نے ہر نصیحت بھلا دی ہے اور ہر قسم کی تکلیف سے  بے خوف ہو چکے ہیں  ۔

٭…  خوش بختی ہے اس کے لئے جسے  اس کے نفس کے عیبوں  نے لوگوں   کے عیوب سے  غافل رکھا اور وہ اس مال سے  خرچ کرتا رہا جو اسنے بغیر کسی معصیت و گناہ کے حاصل کیا اور جس نے عاجز و مسکین لوگوں   پر رحم کیا اور جو اہلِ فقہ و حکمت کے پاس اٹھتا بیٹھتا رہا۔

٭… خوش خبری ہے اس کے لئے جس نے اپنے نفس کو عاجزی و انکساری کا پیکر بنایا،   اپنی عادات کو حسین اور اپنے باطن کو درست کیا اور لوگوں   سے  اپنے شر کو دور کیا۔

٭… مبارک ہو اس شخص کو جس نے اپنے علم پر عمل کیا،   اپنا ضرورت سے  زائد مال  (راہِ خدا میں  )  خرچ کر دیا،   فضول باتوں   پر قابو رکھا،   سنت پر عمل کیا اور کسی بدعت کا ارتکاب نہ کیا۔ ‘‘   ([3])

نصف علم پر مبنی روایت: 

        خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مذکورہ تمام معانی کی جامع ایک حدیثِ پاک مروی ہے کہ جس کے الفاظ تو مختصر ہیں   لیکن اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ نصف علم ہے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کسی شخص کے حسنِ اسلام میں   سے  یہ ہے کہ وہ لایعنی کام چھوڑ دے۔ ‘‘   ([4])

لا یعنی کاموں   سے  مراد: 

        لایعنی کاموں   اور باتوں   سے  مراد وہ کام یا کلام ہے جس کا نہ تو کسی کو بطورِ فرض حکم دیا گیا ہو،   نہ بطورِ نَفْل اس کی ادائیگی کسی کے لئے مستحب ہو اور نہ ہی بطورِ مباح کسی کو اس کے کرنے یا کہنے کی ضرورت ہو۔ ایک روایت میں   اسے  نصف ورع و تقویٰ قرار دیا گیا ہے۔

        رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’شک و شبہ والی بات چھوڑ کر اسے  اختیار کر جس میں   تجھے کوئی شک نہ ہو کیونکہ گناہ دلوں   کا پڑوسی ہے۔ ‘‘   ([5])

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  جس قول یا فعل میں   تمہیں   شبہ ہو اسے  چھوڑ دو کیونکہ اسی میں   غنیمت یا سلامتی ہے ،   مراد یہ ہے کہ تم یقین کی اس حالت پر فائز ہو جس میں   فضیلت پائی جاتی ہے یا جس کا تعلق سلامتی کے ساتھ ہے اور تمہارے دل میں   غیر واضح کھٹکا پیدا ہو تو اسے  چھوڑ دو کہ یہ گناہ ہےخواہ انتہائی کم ہی کیوں   نہ ہو۔ چنانچہ،   

                ایک روایت میں   ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مومنین کےاوصاف کی اس قدر وضاحت فرمائی جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی شان بیان کی ہے۔

صفاتِ مومنین: 

            ایک مرتبہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے پاس تشریف فرما تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سجدے میں   تشریف لے گئے اور خوب طویل سجدہ کیا،   اس کے بعد سرِ انور اٹھایا اور دستِ اقدس اٹھا کر یہ دعا کی:  (اَللّٰھُمَّ اَکْرِمْنَا وَلَا تُھِنَّا وَ زِدْنَا وَ لَا تَنْقُصْنَا وَ اَعِزِّنَا وَلَا تُذِلِّـنَا)   ([6])  ہم نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’مجھ پر ایسی آیاتِ مبارکہ کا نزول ہوا ہے کہ جس نے انہیں   قائم رکھا جنت میں   داخل ہو گا۔ ‘‘  اس کے بعد



[1]     الفردوس بما ثور الخطاب، الحدیث: ۳۸۰، ج۱، ص۷۲

[2]     المجالسۃ للدینوری، الجزء الثالث عشر من کتاب المجالسۃ، الحدیث: ۱۹۲۵،ج۲، ص۲۳۳ الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد علی بن الحسین، الحدیث: ۹۸۴، ص۱۹۶

[3]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد و قصر الامل، الحدیث: ۱۰۵۶۳، ج۷، ص۳۵۵

                                                تاریخ مدینہ دمشق، الرقم ۶۷۶۴ محمد بن علی، الحدیث: ۱۱۴۸۰، ج۵۴، ص۲۴۰

[4]     جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب من حسن اسلام المرء   الخ، الحدیث: ۲۳۱۷، ص۱۸۸۵

[5]     صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب تفسیر المشبھات، ص۱۶۰

[6]     ترجمہ: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! ہمیں عزت عطا فرما اور رسوا نہ فرما، ہمیں زیادہ فرما اور کم نہ کر، ہمیں معزز بنا اور ذلیل نہ کر۔



Total Pages: 332

Go To